Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
176 - 1581
مسئلہ ۳۳۶: از امریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ سعید الدین خاں صاحب رئیس امریا ۲۷ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ

عرض بخدمت علمائے دین کہ ایک لڑکی نابالغ صغیر سن کہ والد اس کا فوت ہوگیا، اور دادا اور بھائی اس کاکوئی نہیں تھا، اور اس کے سگے چچا نے اپنے بھائی مرحوم کی زوجہ یعنی اس لڑکی نابالغہ کی والدہ سے بغیر رضامندی والدہ اس لڑکی کا نکاح ایک شخص سے کردیا، اب وہ لڑکی بالغ ہوئی تو وہ کہتی ہے کہ میرا نکاح اس شخص کے ساتھ نہیں اور نہ کروں گی، عرض پرداز ہوں کہ نزد خدا اور رسول مقبول نکاح فسخ ہوگیا یا وہی نکاح قائم رہا؟ اگر فسخ ہوگیا تو اس کانکاح دوسرے کے ساتھ کیا جائے ورنہ جیسا حکم ہو، بینوا تو جروا
الجواب: فی الواقع جبکہ دختر نابالغہ کا نہ باپ ہو نہ دادا، نہ جوان بھائی نہ جوان بھتیجا، تو چچا ہی اس کا ولی اقرب ہے اس کے کئے ہوئے نکاح میں ماں کی رضامندی ونارضامندی کا لحاظ نہ ہوگا،
تنویر الابصار میں ہے:
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلاتوسط انثی علی ترتیب الارث والحجب بشرط حریۃ وتکلیف فان لم تکن عصبۃ فالو لا یۃ للام ۱؎ الخ ملخصا۔
نکاح میں ولی وہ عصبہ بنفسہٖ ہوتاہے یعنی وہ عصبہ جو لڑکے اور لڑکی کی طرف کسی عورت کے واسطہ میں منسوب نہ ہو، ان کی ولایت وراثت اور حجب کی ترتیب پر ہوتی ہے بشرطیکہ یہ عصبہ لو گ آزاد اور بالغ عاقل ہوں، اور اگر عصبہ نہ ہو تو پھر ماں کو ولایت حاصل ہوگی الخ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
ہاں یہ دیکھا جائے گا کہ جس سے چچا نے نکاح کردیا اگر اس دختر کا کفو نہیں یعنی اس سے کم قوم ہے جس کے ساتھ اس کے نکاح میں ننگ وعا رہے یا ذلیل پیشہ یا محتاج یا بد مذہب یا بد رویہ ہے، غرض کسی وجہ سے وہ صورت ہے کہ اس کے ساتھ نکاح میں دختر واقرابائے دختر کی مطعونی وذلت ہے یا مہر جو چچا نے باندھا اس میں دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کردی ہے کہ لوگ اپنے جو نرم گرم کرلیا کرتے ہیں ان میں یہاں تک کمی نہیں پہنچتی مثلا ہزار روپیہ مہر مثل پانسو باندھ دیا ہو، تو ان صورتوں میں وہ چچا کا کیا ہوا نکاح محض باطل ہوا، دختر سچ کہتی ہے کہ میرانکاح نہ ہوا،
درمختار میں ہے:
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ لایصح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ۲؎۔
اگر نکاح دینے والا باپ، دادا کا غیر ہو تو مہر کی انتہائی کمی بیشی سے اور غیر کفو میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
اور اگر ان دونوں خللو ں میں سے خالی ہے یعنی جس سے نکاح کیا وہ وقت نکاح دختر کا کفو بمعنی مذکور تھا اور مہرمثل میں بھی ویسی کمی نہ کی گئی تو نکاح صحیح ہوگیا مگر ہندہ کو اختیار دیا جائے گا کہ چاہے بالغہ ہو نے پر اس نکاح کو پسند نہ کرے اور دعوی کرکے فسخ کرالے،
تنویر میں ہے:
وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولھا خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ ۳؎۔
اور مہر مثل اور کفو میں کیا ہوا نکاح صحیح ہوگا اور لڑکی کو بالغ ہونے یا بلوغ کے بعد اطلاع ملنے پر فسخ کااختیار ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
درمیں ہے:
بشرط القضاء للفسخ ۱؎
(اس فسخ کے لئے قضا ضروری ہے۔ ت)
 ( ۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
 لیکن کنواری لڑکی کو یہ اختیار اسی قدر ملتا ہے کہ اگر پہلے سے نکاح کی خبر ہے تو بالغہ ہوتے ہی یعنی جس وقت علامت بلوغ مثل حیض وغیرہ ظاہر ہو یا پندرہ برس کامل کی عمر ہوجائے فوراً بلا توقف اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کردے، اور اگر نکاح کی خبر بالغہ ہونے کے بعد ملی تو جس وقت خبر ہوئی فوراً اس وقت ناپسندی جتادے،اور اگر ذرادیر لگائی یا اس سے جدا کوئی آدھی بات کی یا کچھ چپ رہی یا بیٹھی تھی کھڑی ہوگئی یا کھڑی تھی ایک قدم اٹھالیا اس کے بعد ناراضی کا اظہار کیا تو ہر گز نہ سنا جائے گا اور نکاح لازم ہوجائے گا۔
تنویر الابصارمیں ہے:
خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد الٰی اخر المجلس ۲؎۔
بالغہ باکرہ لڑکی کی خاموشی اس کے اختیار کو ختم کردیتی ہے جبکہ وہ نکاح کا علم رکھتی ہو تو خاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تک بھی اختیار نہیں رہتا بلکہ خاموش ہوجانے پر ختم ہوجاتاہے ۔ (ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
اس نابالغہ کے بارے میں اس کا دیکھ لینا ضرور ہے کہ اس نے بالغہ ہوتے ہی فوراً ناراضی ظاہر کی ہے یا ایک لمحہ دیر بھی لگائی تھی تواب اسے نکاح سے انکار حرام ہے وہ ضرور اس کی زوجہ ہے ورنہ اختیار دعوی رکھتی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۷: از مراد آباد محلہ بازار دیوان متصل مکان نواب تفضل علی خاں مرسلہ حکیم برہان الحق صاحب ۲۷ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح کردیا اس وقت عمر اس کی تخمیناً سات یا آٹھ برس کی ہوگی اور پیشتر نکاح سے لڑکی کا باپ اور چچا اور تایا قضا کرگئے تھے مگر ایک بھائی یا تایا زاد حقیقی جس کی عمر تخمیناً ۲۶، ۲۷ برس اس وقت تھی اب موجود ہے مگر بوقت نکاح والدہ دختر نے اپنی ولایت سے نکاح اس لڑکی کا کردیا، شرعا یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب : جس نابالغہ کے باپ، دادا، جوان بھائی، بھتیجا، چچا نہ ہو تو جوان بھائی چچا زاد ہی اس کے نکاح کا ولی ہے، اس کے ہوتے ماں کو اپنی دختر کے نکاح کردینے کا اختیار نہیں،
فتاوی قاضی خاں میں ہے:
اقرب العصبات الی صغیر والصغیرۃ الاب ثم الجد ثم الاخ لاب وام ثم الاخ لاب ثم بنوھما ثم العم لاب وام ثم العم لاب ثم بنوھما وعند عم العصبۃ الاقرب الام اھ مختصرا۔
نابالغ لڑکے اور لڑکی کے قریب ترین عصبہ باپ، پھر دادا، پھر حقیقی بھائی، پھر ان کے لڑکے، پھر حقیقی چچا، پھر اس کے لڑکے، پھر صرف باپ کی طرف چچا، پھر اس کے لڑکے، اور عصبات نہ ہونے کی صورت میں ماں کو ولایت ہے اھ مختصراً (ت)
  (۱؎ فتاوی قاضی خاں    فصل فی الاولیاء    مطبع نولکشور لکھنؤ    ۱/۱۶۳)
پس صورت مذکورہ میں ماں کا کیاہوا نکاح اس بھائی کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر یہ رد کردے گا رد ہوجائے گا یا جائز کردے گا جائز ہوجائے گا بشرطیکہ وہ نکاح کسی غیر کفو یعنی ایسے شخص سے نہ ہوا ہوجو اس دختر سے قوم یا پیشے یامذہب وغیر ہ میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ نکاح ہونا باعث ننگ وعار ہو، نہ دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو، ورنہ نکاح سرے سے باطل ہے، بھائی بھی اسے جائز نہیں کرسکتا،
درمختارمیں ہے:
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام لایصح النکاح من غیر کفو او غبن فاحش ۲؎، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اگر نکاح دینے والا باپ دادا نہ ہو خواہ ماں بھی ہو تو غیر کفو میں اور انتہائی کمی کے مہر سے نکاح صحیح نہ ہوگا۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
Flag Counter