Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
175 - 1581
مسئلہ ۳۳۵: از مہدپور علاقہ اندور مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پدر ہندہ نے نکاح اپنی دختر کا بعمر چہار سالہ کیا تھا، جب وہ ایامِ شعور پر فائز ہوئی تو اس شوہر کوپسند وقبول نہیں کرتی،اس صورت میں نکاح اس کا جائز ہے یامنسوخ؟ اور بعد جدائی زوجین مہر اس کا ذمہ شوہر پر عائد ہوتا ہے یانہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: باب جو اپنے نابالغ بچے کانکاح کردے وہ مطلقا لازم ہوتاہے کہ نابالغ کو  بعد بلوغ بھی اس پر اعتراض کا حق نہیں ہوتا اگرچہ نکاح غیر کفو سے یا مہر میں غبن فاحش کردے، مثلا دختر کو کسی رذیل قوم یا کسی ذلیل پیشے والے یا غلام فاسق کے نکاح میں دے یا ا س کا مہر مثل ہزار روپے ہو پانسو یا سو پر نکاح کردے یا پسر کا نکاح کسی کنیز یا ذلیل قوم یا فاسقہ فاجرہ سے کرے لازم وناقابل فسخ ہے مگر دو صورتوں میں، ایک یہ کہ ایسا نکاح خلاف شفقت پدری کرتے وقت باپ نشے میں ہو، دوسرے یہ کہ اس سے پہلے بھی اپنے کسی بچے کے نکاح میں ایسی ہی بے شفقتی برت چکا ہو تو البتہ یہ نکاح ناجائز ہوگا،
فی الدرالمختار لزم النکاح ولوبغبن فاحش بنقص مھرھا وزیادۃ مھرہ اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران فزوجھا من فاسق اوشریر اوفقیر اوذی حرفۃ دنیئۃ لظھور سوء اختیارہ فلا تعارضہ شفقتہ المظنونۃ بحر ۱؎ اھ
درمختار میں ہے: اگرنکاح کرنے والا ولی خود باپ یا دادا ہو تو اس کا کیا ہوا نکاح لازم ہوجائے گا خواہ لڑکی کا مہر انتہائی قلیل ہو یا لڑکے پرمہر بہت زیادہ مان لیا ہو یا نکاح غیر کفو میں ہو بشرطیکہ پہلے  باپ دادا اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنے میں معروف نہ ہوں، اور اگر وہ غلط اختیار میں معروف ہوں تو پھر بالاتفاق مذکورہ صورتوں میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ اور اگر یونہی باپ یادادا نے نشے میں ہوتے ہوئے لڑکی کا نکاح فاسق یا شرپسند یافقیر یا کسی کمینے کسبی سے کردیا تو یہ اختیار کا غلط استعمال ہوگا تو اس صورت میں باپ دادا کی منظونہ شفقت اس اقدام کو غلط قرار دینے میں آڑے نہ آئے گی اور یہ سوء اختیار کہلائے گا، بحر ، اھ،
 (۱؎ درمختار    باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
وفی ردالمحتار زوج بنتہ من فاسق صح وان تحقق بذٰلک انہ سیئ الاختیار واشتھربہ عندا لناس فلو زوج بنتا اخری من فاسق لم یصح الثانی لانہ کان مشہوراً بسوء الاختیار قبلہ بخلاف العقد الاول ۱؎ الخ
اور ردالمحتارمیں ہے کہ فاسق  سے بیٹی کانکاح کیا توصحیح ہوگا اگرچہ یہ سوء اختیار ہے جس کی بنا پر باپ اختیار کے غلط استعمال میں لوگوں کے ہاں معروف ہوجائے گا تو اس نے اگر دوسری بیٹی کا نکاح کسی فاسق سے کیا تویہ دوسرا نکاح صحیح نہ ہوگا کیونکہ قبل ازیں وہ اختیار کے غلط استعمال (سُوءِ اختیار) میں مشہور ہوچکا ہے جبکہ پہلی لڑکی کے نکاح کے وقت ایسا معروف نہ تھا،
 (۱؎ ردالمحتار        با ب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۵۔ ۳۰۴)
وفیہ قولہ فزوجھا من فاسق وکذا لو زوجھا بغبن فاحش فی المھر لایجوز اجماعا والصاحی یجوز بحر عن الذخیرۃ ثم قال وکذا السکران لوزوج من غیر الکفوء کما فی الخانیۃ وبہ علم ان المراد بالاب من لیس بسکران  ولاعرف بسوء الاختیار ۲؎ اھ
یوں ہی اگر اس نے دوسری بیٹی کے نکاح میں انتہائی قلیل مہر قبول کیا تو یہ مہر جائز نہ ہوگا یہ اجماع ہے بحر میں ذخیرہ سے منقول کہ اس کے بعد ردالمحتار میں کہا یونہی اگر نشے کی حالت میں باپ نے غیر کفو سے کیا تو نکاح نہ ہوگا جیساکہ خانیہ میں ہے، اس سے معلوم ہو ا کہ باپ سے مراد وہ ہے جو نشہ میں نہ ہو اور سُوء اختیار میں مشہور نہ ہو، اھ،
 (۲؎ ردالمحتار        با ب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت   ۲/۳۰۵)
وفی الخانیۃ اذا زوج الرجل ابنہ امرأۃ باکثر من مھر مثلھا اوزوج بنتہ الصغیرۃ باقل من مھر مثلھا اووضعھا فی غیر کفوء او زوج ابنہ الصغیرامۃ اوامرأۃ لیست بکفولہ جازفی قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقال صاحباہ رحمہما اﷲ تعالٰی لایجوز ان فحش واجمعوا علی انہ لایجوز ذٰلک من غیر الاب والجد ولامن القاضی ۳؎ اھ
اور خانیہ میں ہے : اگر کسی نے اپنے لڑکے کاکسی ایسی عورت سے مہر مثل سے زائد پر کردیا یا نابالغہ بیٹی کا نکاح انتہائی کم مہر یا غیرکفو میں کردیا ، یا نابالغ بیٹے کا نکاح لونڈی یا غیر کفو والی عورت سے کردیا تو امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے قول پر نکاح صحیح ہے، اور ان کے صاحبین رحمہما اللہ تعالٰی کے قول پر نکاح ناجائز ہے، اور اس بات پر اجماع ہے کہ غیر باپ اور دادا اور قاضی کا کیا ہوا یہ نکاح جائز نہ ہوگا اھ
 (۳؎ فتاوی قاضی خاں    فصل فی الاولیاء    منشی نولکشور لکھنؤ        ۱/۱۶۴)
وفی البحر الرائق ثم الخیریۃ ظاھر کلامھم ان الاب اذاکان معروفا بسوء الاختیار لم یصح عقدہ باقل من مھر المثل ولاباکثر فی الصغیر بغبن فاحش، ولامن غیر الکفوء فیھما سواء کان عدم الکفاءۃ بسبب الفسق اولا ۱؎ الخ۔
اور بحر الرائق پھر خیریہ میں ہے کہ فقہاء کرام کا ظاہر کلام یہ ہے کہ باپ جب سوء اختیار میں مشہور ہوجائے تو لڑکی کا مہر مثل سے کم اور لڑکے کا مہر مثل سے زیادہ جبکہ یہ کمی اور زیادتی انتہائی ہو، اور غیر کفو میں لڑکی اور لڑکے کا کیا ہوا باپ کا نکاح صحیح نہ ہوگا خواہ غیر کفو فسق کی وجہ سے ہویا کسی اور وجہ سے ہو الخ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق    فصل فی الاکفاء    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۳/۱۳۵)
واقع اگر یہ صورتیں ہوں جن میں نکاح شرعاً جائز نہیں تو اگر ہنوز ہمبستری یعنی جماع حقیقی کا وقوع نہ ہوامہر اصلاً لازم نہیں ورنہ مہر مثل دینا ہوگا۔
فان الوطء فی دارالاسلام لایخلو عن حد اوعقر کما نصوا علیہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ دارالاسلام میں وطی پر حد یا مہر بصورت خرچہ ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی صورت نہیں ہے، جیساکہ فقہاءکرام کی اس پر نص ہے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter