Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
174 - 1581
قلت عللھا فی الذخیرۃ بقولہ لان النکاح فی حالۃ الصغر قبل اجازۃ الولی لیس نکاحاً معناً وذکر قبلہ ان الاختلاف لوفی الصحۃ والفساد فالقول لمدعی الصحہ بشھادۃ الظاھرولوفی اصل وجود العقد فالقول لمنکر الوجود ۳؎۔
قلت (میں کہتاہوں کہ) ذخیرہ میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ بچپن میں ولی کی اجازت سے قبل نکاح معنی درست نہیں ، اور اس سے قبل ذخیرہ میں ذکر ہے کہ اگر اختلاف نکاح صحیح یافاسد ہونے میں ہوتو صحت کے مدعی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ نکاح صحیح ہوتا ہے، اور اختلاف اگر نکاح کے ہونے نہ ہونے میں ہو تو وجودنکاح کے انکار والے کی بات معتبر ہوگی،
 ( ۳؎ ردالمحتار  باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۳)
ثم ان الظاھران مانحن فیہ من قبیل الاختلاف فی اصل وجود العقد لان الرد صیر الایجاب بلا قبول قولہ الا ان یبرھن ای فتترجح بینتہ لاستوائھما فی الاثبات وزیادۃ بینۃ باثبات اللزوم کذا فی الشروح وعزاہ فی النھایۃ للتمرتاشی وکذا ھوفی غیر کتاب من الفقہ لکن فی الخلاصۃ عن ادب القاضی للخصاف ان بینتھا اولی ففی ھذہ الصورۃ اختلاف المشائخ ولعل وجھہ ان السکوت لما کان مماتحقق الاجازۃ بہ لم یلزم من الشھادۃ بالاجازۃ کونھا بامرزائد علی السکوت مالم یصرحوا بذٰلک کذا فی الفتح وتبعہ فی البحر واستفید منہ التوفیق بین القولین بحمل الاول علی مااذا صرح الشھود بانھا قالت اجزت اورضیت وحمل الثانی علی مااذا اشھد وا بانھا اجازت اورضیت باحتمال اجازتھا بالسکوت فافھم ۱؎ اھ ملتقطا،
پھر بلا شبہہ ظاہر ہے ہماری بحث اصل نکاح کے وجودمیں ہے تو لڑکی کا انکار اور رد ایجاب بغیر قبول ہوگا لہذا لڑکی کی بات معتبر ہوگی قولہ ''مگر یہ کہ خاوند گواہ پیش کرے'' یعنی اس کی گواہی کو ترجیح ہوگی کیونکہ خاوند اورلڑکی دونوں کے گواہ اثبات میں مساوی ہیں لیکن خاوند کی طرف سے گواہی میں نکاح کے ثبوت کے ساتھ لزوم نکاح بھی ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کو ترجیح ہوگی، شروح میں ایسے ہی بیان ہے، اوراس کو نہایہ میں تمرتاشی کی طرف منسوب کیا ہے، بہت سی کتب فقہ میں ایسے ہی ہے لیکن خلاصہ میں خصاف کی ادب القاضی سے منقول ہے کہ لڑکی کی طرف کی گواہی کو ترجیح ہوگی، تو اس طرح اس مسئلہ میں مشائخ کا اختلاف سامنے آیا ہے، ہوسکتاہے اس کی وجہ یہ ہو کہ سکوت پر لڑکی کی شہادت سے لزوم نکاح متحقق نہ ہوتا ہو لہذا یوں خاوند کی طرف سے شہادت زیادہ اثبات نہ کرسکتی ہو جب تک کہ گواہ صراحۃ اجازت کی بات نہ کریں، یوں ہی فتح میں ہے اورا س کی اتباع بحر نے کی ہے، اس سے حاصل یہ ہوا کہ دونوں قولوں میں موافقت یوں ہوگی کہ پہلے یعنی خاوند کی شہادت کی ترجیح کو اس صورت پر محمول کریں کہ جب گواہوں نے تصریح کی ہو کہ لڑکی نے کہا ہے ''میں اجازت دیتی ہوں __ یا راضی ہوں'' اور دوسرے قول یعنی لڑکی کی شہادت کی ترجیح کو اس صورت پر محمول کریں گے کہ گواہوں نے شہادت میں کہا ہو کہ ''اس نے اجازت دی یا راضی ہوئی تھی'' جس میں گواہوں کے سکوت کو رضا قرار دیا ہو، اس میں غور کرو، اھ ملتقطا،
(۱؎ ردالمحتار    باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۳)
 وفی الھندیۃ لو اقام الزوج البینۃ انھا اجازت العقد حین اخبرت واقامت البینۃ انھا ردت حین اخبرت کانت البینۃ بینۃ الزوج کذا فی السراج الوھاج ۱؎۔
اور ہندیہ میں ہے اگر خاوند یہ شہادت پیش کرے کہ لڑکی کو جب نکاح کی خبر ملی تو اس نے نکاح کو جائز قرار دیا، اور لڑکی یہ شہادت پیش کرے جب مجھے خبرملی تو رد کردیا تھا تو اس صورت میں خاوند کی شہادت معتبر ہوگی، یونہی سراج وہاج میں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوی ہندیہ        باب الاولیاء        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۸۹)
رہی باپ کی ناراضی، وہ صحت ونفاذ میں خلل انداز نہیں جبکہ عورت حرہ، عاقلہ، بالغلہ اور شوہر کفو ہے،
فی الدرالمختار نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا ۲؎ اھ ملخصا وفیہ لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۳؎ اھ۔
درمختار میں ہے: آزاد، عاقلہ، بالغہ کا اپنا نکاح ولی کی رضاکے بغیر صحیح ہے، اوریہ نکاح غیر کفو سے ہوا تو ناجائز ہونے کا فتوی ہوگا اھ ملخصا، اور اسی میں ہے کہ باکرہ بالغہ پر نکاح کے بارے میں جبر نہیں کیا جائے گا کیونکہ بلوغ کی وجہ سے اس پر جبر کی ولایت ختم ہوجاتی ہے اھ (ت)
 (۲؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)

(۳؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۱)
 ہاں اگر مہر مثل میں کمی فاحش واقع ہوئی تو باپ کو حق اعتراض حاصل ہے یہاں تک کہ مہر مثل پورا کردیا جائے یا قاضی زن وشوہر میں تفریق کردے،
فی الدرالمختار لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مھر مثلھا اویفرق القاضی بینھما دفعا للعار ۴؎ اھ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے: اگر عاقلہ بالغہ نے قلیل مہرپر نکاح کیا تو ولی عصبہ کو مہر تام کرنے تک اعتراض کا حق  ہے مہر مثل تام کرے یا پھر قاضی خاوند بیوی میں تفریق کردے تاکہ ولی کی عار ختم ہوسکے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۴؎ درمختار        باب الکفاءۃ       مطبع مجتبائی دہلی  ۱/۱۹۵)
Flag Counter