Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
173 - 1581
غمزالعیون میں ہے:
فی الفواکہ البدریۃ قد اغتفروا  التناقض فی کثیر من المسائل التی یظھر فیھا عذر منھا لوقال ھذہ رضیعتی ثم اعترف بالخطاء یصدق ولہ ان یتزوجھا بعد ذلک اذالم یثبت علی اقرار والعذرانہ ممایخفی علیہ فقد یظھر بعد اقرارہ علی خطاء الناقل ۲؎ اھ مختصرا۔)
فواکہ بدریہ میں ہے کہ بہت سے ایسے مقامات میں جہاں عذر واضح ہوتو تناقض کو فقہاء نے نظر انداز کیا ہے ایسے مقامات میں سے ایک یہ ہے ایک شخص نے پہلے کہا یہ لڑکی رضاعی بیٹی ہے،پھر اس بات کے بارے میں خطاء کا اعتراف کرتا تو اس اعتراف خطاء کو تسلیم کرلیا جائے گا اور اس لڑکی سے اس کانکاح جائز قرار دیا جائے گا کیونکہ  رضاعت کا معاملہ اس پر مخفی ہوسکتاہے کہ پہلے ناقل کی غلطی پر اقرار رضاعت کرنے کے بعد اس کی حقیقت معلوم ہوئی اور اپنے اقرار کو خطاء پر مبنی قرار دیا اھ مختصراً (ت)
 (۲؎ غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر      کتاب القضاء    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/۳۵۰)
تواس صورت کا حاصل یہ قرار پایاکہ مرد نکاح نافذ کا دعوی کرتاہے اور عورت  انکار، اور اگر یہ بیان دو وقت مختلف کی نسبت ہیں یعنی سکوت وگریہ استیذان پیش از نکاح یا بلوغ خبر نکاح کے وقت بیان کیاتھا،ا ور اب مدعی ہے کہ اس کے بعد دلھن نے بلفظ صریح نکاح جائز کردیا تویہ رد واجازت نکاح موقوف میں اختلاف زوجین کی صورت ہے، بہرحال صو رت مسئولہ میں اگر جانب شوہر شہادت عادلہ کافیہ نہ ہو تو قول عورت کا قسم کے ساتھ معتبر ہے، اگر قسم کھالے گی نکاح باطل ٹھہرے گا اور جبکہ د عوی شوہر اجازت بالفاظ صریحہ ہے تو یہاں ہرصورت میں بینہ شوہر کو ترجیح ہے، اگر گواہان عادل شرعی سے اپنا دعوی ثابت کردے گا نکاح ثابت و نافذ قرار پائے گا۔ یونہی بحالت عدم گواہان اگر دلھن قسم کھانے سے انکار کرے گی دعوی شوہر ثابت ہوجائیگا

یہ سب حکم قضا ہے، رہا واقع کا حال، وہ رب العزت کے علم میں ہے اور دونوں اہل معاملہ اوران کے شرکاء واقف جو جھوٹا ہوگا عند اللہ عذاب الیم شدید کا سزا وار ہوگا۔ والعیاذ باللہ تعالٰی:
فی الدرالمختار قال الزوج للبکرا لبالغۃ بلغک النکاح فسکت، وقالت رددت النکاح ولابینۃ لھما علی ذٰلک ولم یکن دخل بھا طوعا فی الاصح فالقول قولھما بیمینھا علی المفتی بہ وتقبل بینتہ علی سکوتھا لانہ وجودی بضم الشفتین ولو برھنا فبینتھا اولی الا ان یبرھن علی رضاھا اواجازتھا ۱؎۔
درمختار میں ہے: خاوند نے باکرہ بالغہ کوکہا کہ تونکاح کی اطلاع پر خاموش رہی، لڑکی نے جواب میں کہا میں خاموش نہ رہی بلکہ میں نے نکاح رد کردیا تھا جبکہ دونوں کے پاس گواہ نہیں، اورنہ ہی لڑکی نے ابھی تک خاوندکو اطلاع کا موقع دیا، تو اس صورت میں لڑکی کی بات قسم کے ساتھ قبول کرلی جائے گی، یہ مفتٰی بہ قول کے مطابق ہے، اوراگر خاوند نے گواہوں کے ذریعہ لڑکی کی خاموشی پیش کی اور لڑکی کے گواہ نہیں تو اس صورت میں سکوت پر گواہی قبول کرلی جائے گی کیونکہ سکوت وجودی امر ہے ، اور اگر دونوں نے اپنے اپنے موقف پر گواہ پیش کردئے تو لڑکی کے گواہوں کو ترجیح ہوگی، ہاں اگر خاوند نے سکوت پر گواہی کے بجائے لڑکی کی رضایا اجازت پر گواہی پیش کی توپھر خاوند کی طرف سے شہادت کو ترجیح ہوگی۔
 (۱؎ ردالمحتار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
قلت فرض المسألۃ فی تزویج الاقرب فقولہ سکت بمعنی اجزت وقولہ یبرھن علی رضاھا اواجازتھا ای صریحا کما بینہ فی ردالمحتار ولنذکر طرفا من کلامہ لاتضاح المقام قال رحمہ اﷲ تعالٰی قولہ فالقول قولھا لانہ یدعی لزوم العقد وملک البضع والمرأۃ تدفعہ فکانت منکرۃ ۱؎۔
قلت (میں کہتاہوں کہ ) مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ نکاح ولی اقرب نے کرایاہو، توخاوند کا کہنا کہ ''خاموش رہی'' کا مطلب یہ ہے کہ تونے اجازت دی تھی، اور مصنف کا قول کہ ''رضا یا اجازت پر گواہ پیش کئے '' تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خاوند صریحا اجازت کا مدعی ہو، جیساکہ ردالمحتار میں بیان کیا ہے، ہم یہاں ردالمحتار کے کلام کا کچھ حصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ مقام واضح ہوسکے، انھوں نے کہا قولہ کہ ''لڑکی کی بات کو ترجیح ہوگی'' کیونکہ خاوند لڑکی پرنکاح کے لزوم اور اپنے لئے ملک بضعہ یعنی جماع کے حق کا دعوی کرتاہے جبکہ لڑکی دفاع کرتے ہوئے انکار کرتی ہے اور وہ منکر ہے،
 (۱؎ ردالمحتار        باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۲)
ثم ذکر فی البحر ذکر الحاکم الشھید فی الکافی لو ادعی احدھما ان النکاح کان فی صغرہ فالقول قولہ ولانکاح بینھما ۲؎ اھ
پھر بحر میں کہا کہ حاکم شہید نے کافی میں ذکرکیا ہے کہ اگر اختلاف یہ ہے کہ لڑکے کی نابالغی میں ہوا یا نہیں، تو جس نے نابالغی میں نکاح کا دعوی کیا اس کا قول معتبر  ہوگا، اور نکاح ثابت نہ ہوگا اھ ____
 (۲؎ ردالمحتار  باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۳)
Flag Counter