| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۳۳۴: از اعظم گڑھ مرسلہ خواجہ عنایت اللہ خاں صاحب ۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے جو اہل کفو ہندہ سے تھا ہندہ بالغہ باکرہ کانکاح بغیبت اس کے باپ کے جو صرف بارہ کوس کے فاصلہ پر اپنے علاقے پر تھا برضامندی مادر ونانی وبہ سکوت وگریہ ہندہ اپنے ساتھ بوکالت وشہادت تین اقربا خاص ہونا ظاہر کیا، زید اب کہتا ہے کہ ہندہ نے خود اپنی زبان سے صراحت کے ساتھ میرے نکاح کوقبول کیا تھا۔ وکیل گواہان زید حسب بیان زید شہادت دیں، ہندہ کہتی ہے میں نے ہر گز ہرگز نہ زبان سے اقرار ونہ کسی طرح منظوری اپنی ظاہرکی تھی وبلا رضامندی اپنے باپ کے مجھ کو یہ نکاح نہ پہلے منظور تھا نہ اب ہے، باپ ہندہ کا نہ پہلے راضی تھا نہ اب راضی ہے، پس ایسا نکاح وشخص عنداللہ والرسول کیسا اور ہوایا نہیں؟ اور سوال یہ ہے کہ زید وگواہان زید ووکیل کو ترجیح ہے یا کیاصورت، کس کے مقابلہ میں کس کو ترجیح؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ نکاح مذکورہ بالا حسب اظہار ہندہ اگر بحالت سکوت وگریہ ہندہ بغیبت اس کے باپ کے حسب کیفیت نارضامندی وفاصلہ مرقومہ اس کے ہوا ہو تو ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: تقریر سوال سے واضح ہے کہ یہ نکاح بغیبت پدر ہندہ بوجہ ناراضی پدر ہندہ عمل میں آیا ایسی حالت میں ۱۲ کوس کا فاصلہ کسی قول پر غیبت منقطعہ نہیں ہوسکتا، مسافت قصر نہ ہونا ظاہر، اوریہاں ولی ابعد کی تعجیل (بحالیکہ ماں یہاں ولی ابعد ہو بھی) اس وجہ سے نہیں کہ ولی اقرب سے مشورہ لینے میں دیر لگے گی اور اتنی دیر میں کفو حاضر ہاتھ سے نکل جائے گا بلکہ اس لئے کہ ولی اقرب کی رائے اپنے ارادہ کے خلاف معلوم ہے اور اس کے خلاف کام کرنا منظور توہرگز یہ صورت ناقابل ولایت بولی ابعد نہیں والاتکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض (ورنہ زمین پر فتنہ او روسیع فسادبرپا ہوگا۔ ت) ایسا ہو تو شرع مطہر نے جس حکمت سے ترتیب رکھی ہے رأساً باطل ہوجائے ، ہر ولی ابعد سے ابعد ہرزن بے عقل وبے خرد کو اختیار حاصل ہوکہ پدر مہربان یا برادر شفیق ولی قریب کو دہ کوس بلکہ گھر سے باہر مسجد یا بازار ہی تک جائے اور وہ اس کے خلاف رائے جس سے چاہے نکاح کردے، یہ مقاصد شرع سےمنزلوں دور ہے بالجملہ قول آخر میں انتقال ولایت ہے کہ انتظارکی دیر باعث کفو ہو، نہ یہ کہ بوجہ علم ناراضی، قصداً انتظار نہ کیا جائے۔
فی ردالمحتار اختلف فی حدالغیبۃ واختار المصنف تبعا للکنز انھا مسافۃ القصر، ونسبہ فی الھدایۃ لبعض المتاخرین والزیلعی لاکثر ھم قال وعلیہ الفتوی اھ وقال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذاکان فی موضع لوانتظر حضورہ اواستطلاع رایہ فات الکفو الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشار فی الکتاب اھ وفی النھایۃ واختارہ اکثرالمشائخ وفی شرح الملتقی عن الحقائق علیہ الفتوی ۱؎ اھ مختصرا۔
ردالمحتار میں ہے کہ غیبۃ منقطعہ کی حد کے متعلق اختلاف ہے تو مصنف نے کنز کی اتباع میں فرمایا وہ مسافت قصر کا سفر ہے اور اس کوہدایہ نے بعض متاخرین اور زیلعی نے اکثر متاخرین کی طرف منسوب کیا ہے او رزیلعی نے فرمایا اسی پر فتوی ہے اھ، اور ذخیرہ میں کہا ہے اصح یہ ہے کہ وہ اتنا دور ہو کہ اگر اس کی واپسی کاانتظار یا اس سے مشورہ حاصل کرنے سے موجودہ رشتہ کفو فوت ہوجائے تو یہ ''غیبت منقطعہ'' ہوگی اور کتاب میں اس کی طرف اشارہ ہے اھ، اور نہایہ میں ہے کہ اکثر مشائخ نے اس کو پسند کیاہے، اور منیہ کی شرح میں حقائق سے منقول ہے کہ اس پر فتوی ہے اھ مختصراً،
( ۱؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۵)
فی الدرالمختار وثمرۃ الخلاف فیمن اختفی فی المدینۃ ھل تکون غیبۃ منقطعۃ۲؎۔
اور درمختار میں اس اختلاف کا ثمرہ بیان کیا کہ شہر میں ہی کوئی ولی چھپا ہوا ہو تو کیا وہ غیبۃ منقطعہ ہوگی یا نہیں۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۴)
اور ولی ابعد بحالت عدم انتقال ولایت یا کوئی اجنبی کہ ولی اقرب کا وکیل ورسول نہ ہوجب بکربالغہ سے اذن نکاح مانگے تو اس کا سکوت معتبر نہیں بلکہ قولاً یا فعلا صاف اظہار رضا ضرورہے، بحال سکوت نکاح فضولی ہوگا، اور اجازت عروس پرموقوف رہے گا۔ اسی طرح اگر غیر ولی اقرب نے بلا اذن بکر بالغہ نکاح کردیا پھر اسے خبرہوئی تو اجازت صریحہ سے نافذہوگا، سکوت کافی نہیں۔
فی الدرالمختار ان استاذنھا الولی اووکیلہ اورسولہ اوزوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ اوفضولی عدل فسکتت عن ردہ مختارۃ او ضحکت غٖیر مستھزیۃ اوتبسمت او بکت بلاصوت فھو اذن فان استأذنھا غیر الاقرب کاجنبی او ولی بعید فلا عبرۃ بسکوتہا بل لابدلھا من القول کالثیب البالغۃ اورمن فعل یدل علی الرضا کطلب مھرھا ونفقتھا وتمکینھا من الوطی۱؎ اھ مختصرا۔
درمختارمیں ہے کہ اگر بالغہ سے ولی نے اجازت طلب کی یا ولی کے قاصد یا وکیل نے اجازت طلب کی یاولی نے اس کا نکاح کردیا اور قاصد نےیااجنبی عادل شخص نے اس بالغہ کو نکاح کی اطلاع دی تو وہ خاموش رہی اور نکاح کورد نہ کیا۔ یا سنجیدگی سے ہنس پڑی یاآواز کے بغیر روپڑی تو اجازت قرارپائے گی۔ اور اگر کسی غیر اقرب مثلا اجنبی یا ولی بعید کے اجازت طلب کرنے پر بالغہ نے خاموشی اختیار کی تووہ رضا معتبر نہ ہوگی، بلکہ ثیبہ بالغہ کی طرح صریح قول یا فعل کرے جو اس کی اجازت واضح کرسکے، مثلا اس موقعہ پر مہر دے اھ مختصراً،
(۱؎ درمختار با ب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۲۔ ۱۹۱)
وفی الھندیۃ عن جامع المضمرات ان کان لھا ولی اقرب من المزوج لایکون السکوت منھا رضا ولھا الخیاران شاءت رضیت وان شاءت ردت ۲؎۔
اور ہندیہ میں جامع المضرات سے منقول ہے کہ اگر نکاح دینے والے کی نسبت کوئی اقرب دوسراہے تو یہ اس کا سکوت رضا نہ قرار پائے گا اور اس کو اختیارہوگا کہ نکاح کور دکردے یا راضی ہوکر جائز قرار دے۔ (ت)
(۲؎ فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۷)
پس صورت مستفسرہ میں کہ زید نے اولا اجازت نکاح بسکوت وگریہ ہندہ ظاہر کی اور بعد کو اجازت بلفظ صریح مدعی ہوا، اگر یہ دونوں بیان وقت واحد کی نسبت ہیں مثلا پہلے کہتا تھاکہ ہندہ سے جب اذن لیا گیا تو اس نے سکوت وگریہ کیا اب کہتاہے صریح اذن دیا تو اگرچہ پھر یہاں بیان سابق کے خلاف اور صاف صورت تناقض ہے،
لانہ اقر ا ولا بعد م ثبوت الملک لہ علیھا اذلا ملک حیث لانفاذ ولذالایحل الوطء فی الموقوف۔
کیونکہ پہلے لڑکی پر اپنے حق نہ ہونے کا اقرار کرچکا ہے اورجب ملکیت نہ ہوئی تو نکاح کا نفاذ نہ ہوا، تو نکاح موقوف رہا جس میں وطی حلال نہیں ہوتی۔ (ت)
مگر یہ تناقض محمل خفامیں ہے کہ زوج وقت استیذان دلھن کی مجلس میں حاضر نہیں ہوتا اور یہ فعل خاص دلھن کاہے جس پر زوج کو اطلاع بذریعہ حکایت ہی ہوتی ہے ممکن کہ پہلے کسی نے غلط طورپر صرف سکوت وگریہ بیان کیا اور اس نے اس کے اعتبار پر یہی ظاہرکیا بعدہ تحقیق ہواکہ اذن بالفاظ صریحہ تھا بلکہ دلھنوں سے استیذان میں دیر لگتی ہے، ممکن ہو جس وقت ناقل اول وہاں موجودتھا سکوت وگریہ ہی کیا ہو اس کے اٹھ جانے کے بعد مثلا ''ہوں'' کہا زوج کو اول حکایت اولٰی ہی پہنچی تھی، بعد کو دوسری تحقیق ہوئی، ایسا تناقض شرعا عفو ہے،
اشباہ میں ہے:
التناقض غیر مقبول الافیما کان محل الخفاء ۱؎۔
بیان میں تناقض مقبول نہیں ہے مگرایسے مقام میں جہاں خفاء ہو۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب القضاء ادارۃ القرآن کراچی ۱/۳۵۰)