Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
171 - 1581
بہر حال یہ نکاح نکاح فضولی ہوا او راجازت محمودہ پر موقوف رہا، اب بعد نکاح محمودہ کا واقعہ اگرچہ بنظر بعض تدقیقات علمیہ کہ عوام خصوصاً عورات کی بات ان پر محمول ہونی مستبعد ونامقبول مدارک فقہ ہے رد واجازت کا قطعی فیصلہ  نہ کرے تاہم شک نہیں کہ اس سے ظاہر و متبادر یہی ہے کہ محمودہ نے اس نکاح کو جائز رکھا اگرچہ رضائے پدر کے لئے شوہر سے علیحدہ اور عمر بھر نماز روزے پرقانع رہنا قبول کرتی ہے مگر طلاق پر ہرگز راضی نہیں اور طلاق بآنکہ مزیل نکاح ہے خود ہی سبقت نکاح چاہتی ہے نہ کہ اس کی ناپسندی کہ بقائے نکاح کی رضامندی ہے اوراسی قدر نفاذ نکاح موقوف کے لئے کافی ہے:
لما مر من الدرالمختار من قولہ اوماھوفی معناہ من فعل یدل علی الرضا ۴؎۔
درمختار میں اس کے قول ''اور جو فعل رضاپر دلالت کرنے میں کلام جیسا ہو'' کی وجہ سے (ت)
 (۴؎ درمختار            باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
پس صورت مستفسرہ میں بشرط کفاءت مذکورہ نکاح محمودہ جائز وتام ونافذ ولازم ہے جس پر پدر وغیرہ کسی کو حق اعتراض نہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۳: از بھوند پوری ضلع ترائیں نینی تال ۲۰ صفر ۱۳۱۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کا نکاح خالد نابالغ سے ہوا، ہندہ اس وقت نوبرس کی تھی، ہندہ کا باپ، بھائی، چچا وغیرہ کوئی ولی سوا ماں کے نہیں۔ یہ نکاح ماں کی  رضامندی سے ہوا، مگر اذن ہندہ نابالغہ سے لیا اور خالد کا نکاح اس کے باپ نے کیا مگر قبول خود خالد سے کرایا گیا، بعد نکاح ہندہ نے خالد کے یہاں جانا نہ چاہا، اس بنا پر اس کے ماموں نے روک رکھا مگر پیشکار کی تنبیہ سے جو یہاں دیہات میں مثل حاکم سمجھا جاتا ہے، ہندہ پندرہ سال یا اس سے کم کی عمر میں رخصت ہوکر خالد کے یہاں گئی اور چار برس وہیں رہی، وقت نکاح ہندہ وخالد دونوں نابالغ سمجھ وال تھے نہ تو بالغ تھے نہ ناسمجھ بچے، ہندہ پندرہ برس کی عمر میں بالغ ہوئی، اب پھر اس نے اپنی ناراضی ظاہر کی اور دوسری جگہ اپنا نکاح کیا چاہتی ہے اس صو رت میں یہ اختیار اسے ہے یا نہیں؟ ہندہ کا بیان ہے کہ آج تک ہمبستری نہ ہوئی اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بوجہ نقصان آب وہوا کے ضعیف وکمزوربہت ہوتے ہیں، بینواتوجروا
الجواب: سائل مظہر کہ خالد ہندہ کا نسب ومذہب وغیرہما میں ہرطرف کفو ہے اور مہر اس کے یہاں رواج سے زیادہ باندھا گیا لہذا نکاح صحیح ہوگیا، ہاں اس وجہ سے کہ ہندہ کا نکاح کرنے والا اس کا باپ دادا نہیں۔ ہندہ کو بالغ ہوتے ہی فوراً فوراً اختیار فسخ تھا، اگر اس نے حیض آتے ہی معا ناراضی اور فسخ کی طلب گاری ظاہر کی تو نکاح فسخ کیا جائے گا۔ اور اگر ذرا بھی دیر کردی تو اب نکاح لازم ہوگیا کہ ہرگز فسخ نہیں ہوسکتا۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان من کفو وبمھر المثل صح ولہما خیارالفسخ بالبلوغ وبطل خیار البکربالسکوت ۱؎ اھ ملتقطا۔
درمختار میں ہے جب نکاح کرکے دینے والا باپ دادا کا غیر ہو تو اگرچہ وہ ماں ہی کیوں نہ ہو، غیر کفو اور انتہائی قلیل مہر سے اصلا نکاح نہ ہوگا۔ اور اگر کفو اور مہر مثل ہے توصحیح ہوگا لیکن لڑکے اورلڑکی کو بالغ ہونے پر فسخ کا اختیار ہوگا، اور باکرہ بالغہ کی خاموشی اس فسخ کے اختیار کو ختم کردے گی اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۹۳۔ ۱۹۲)

اسے بہت کا مل تحقیق کرنی ضرور ہے کہ معا حیض آتے ہی عورت کا مطالبہ فسخ کرنا بہت نادر ہے خصوصاجبکہ جاہلہ ہو، اور تقریر سوال سے ظاہر اس کا خلاف ہے اور پیش ازبلوغ اظہار ناراضی کوئی چیز نہیں، عورت اگرا س میں فریب کرے گی اور بعد بلوغ ایک ذرا دیر بھی خاموش رہی یاکوئی اور بات کی تھی اور اب ظاہر کرے گی کہ میں نے فوراً فوراً بالغ ہوتے ہی بلاتاخیر سب میں پہلے یہی لفظ کہا تھا اور اس بنا پر فسخ کا حکم لے کر دوسرے سے نکاح کرلے گی تو ہمیشہ ہمیشہ زنا کاری کی بلا میں گرفتار رہے گی، اتنا اور بھی معلوم رہے کہ مدت کے بعد اس کا یہ دعوی کہ میں نے حیض کے آتے ہی فوراً نکاح فسخ کردیا تھا بے گواہان عادل شرعی کے ہر گز قبول نہ ہوگا کما بینہ فی ردالمحتار (جیساکہ اس کو ردالمحتار میں بیان کیا ہے۔ ت) واللہ سبحانہ و تعالٰی اعلم۔
Flag Counter