مسئلہ ۳۳۲: ازشہر اعظم گڑھ مرسلہ عنایت اللہ خاں صاحب ۱۴ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ مسماۃ محمودہ کا نکاح حامدایک شخص ہم کفو کے ساتھ مندرجہ ذیل صورت میں ہوا ہے صرف پدر محمودہ کو یہ نکاح حامد کے ساتھ کرنا منظور نہیں تھا مگر مادر محمودہ ونیز تمام خاندان کو بہر صورت منظور تھا اس لئے یہ نکاح بہ تحریک مادر محمودہ ودیگربزرگان خاندان بغیبت پدر محمودہ کے جبکہ وہ اپنے علاقہ پر بہ فاصلہ بارہ تیرہ کو س کے تھا باعلان عام منعقد کیا گیا، چونکہ محمودہ عاقلہ بالغہ تھی اس لئے ایک روز قبل از انعقاد نکاح اس کی ہم عمر ایک کتخدا لڑکی واسطے استمزاج محمودہ کے بھیجی گئی، اس سے محمودہ نے کہا کہ یہ نکاح مجھ کو بدل منظور ہے، یہ بھی کہا کہ اس میں یہ خوبی ہے کہ میں تم اور نیز تمام اعزہ سے جد ا نہ ہوں گی اور ایک ہی جگہ رہوں گی، دوسرے روز بروز جمعہ اس کا عقد قرار پایا ، ایک وکیل اور دو گواہ جس کمرہ میں محمودہ تھی واسطے دریافت رضامندی کے گئے و حسب رواج اس ملک کے سوال جواب کرکے واسطے پڑھانے نکاح کے باغ حامد میں جہاں نکاح پڑھانے والا اعزہ اور نیز شہر کے معزز وممتاز لوگ موجود تھے واپس آئے، واپس آنے پر معلوم ہوا کہ وکیل وگواہان نے محض مادر محمودہ سے رضامندی حاصل کی ہے، اس پر حاضران کی یہ رائے ہوئی کہ مسماۃ محمودہ عاقلہ بالغہ ہے اس سے پوچھنا ضروری امر ہے لہذا پھر وکیل وگواہان گھرمیں جائیں اور خاص محمودہ سے دریافت کریں، چنانچہ وکیل وگواہان ونیز چند اعزہ محمودہ کے گھر میں گئے، معلوم ہوا کہ مسماۃمحمودہ نماز صلوٰۃ التسبیح پڑھ رہی ہے، وکیل نے یہ کہا کہ محمودہ جب نماز سے فارغ ہولے تو دریافت کیا جائے، تھوڑی دیر کے بعد محمودہ نماز پڑھ چکی، ایک گواہ نے محمودہ کو بایاں سلام اور ایک عزیز نے دونوں سلام پھیرتے دیکھا اور اس جگہ قریب محمودہ کے مادر محمودہ و بہن حامد بیٹھی ہوئی تھیں، بعد فراغت نما زحسب احکام شرعیہ ایجاب وقبول کے الفاظ محمودہ سے بغرض حصول رضامندی کہے گئے تو مادر محمودہ نے حسب رواج اس ملک کے وموافق رسم شرفائے اس دیار کے کہا کہ ہاں منظور ہے اور محمودہ ساکت رہی، مگر وکیل نے کہا کہ محمودہ خود عاقلہ بالغہ ہے اس کو اپنی زبان سے ایجاب وقبول کے الفاظ کا اعادہ کرنا چاہئے، اس بات پر محمودہ نے ونیز اور لوگوں نے کہا کہ ہندوستان میں شریفوں کی کوئی لڑکی کنواری آج تک کبھی بولی ہے کہ یہ بولے گی بلکہ بالعموم سکوت علامت رضامندی ہوتی ہے مگر بااینہمہ وکیل نے بمقابلہ گواہان کے محمودہ کا نام لے کر کلمات ایجاب وقبول کو پوچھا کہ محمودہ تم کو منظورہے؟ـ محمودہ اس وقت محض ساکت رہی اور کچھ سرنگوں ہوگئی، اس طور پر دوبارہ باصرار دریافت کیا گیا تو اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اور زیادہ جھکی، تیسری دفعہ وکیل نے اسی طرح تقریر کی، محمودہ کی حالت وہی حالت سکوت وخاموش کی رہی، بعد اس کے وکیل گواہان باغ حامد میں آئے اور حسب اصول شرعیہ ودستور مروجہ نکاح محمودہ کا حامد کے ساتھ جماعت کثیرہ کے رو برو ہوگیا اور نکاح مکان محمودہ میں حسب دستور سب اعزہ آئے وباہم مبارک وسلامت ہوئی اور رسوم شربت نوشی کی عمل میں آئی جس پر مادروبہن ونانی محمودہ نے شادمانی کا اظہار کیا اور یہ واقعہ قبل از نماز جمعہ کے تھا اور شب میں آٹھ بجے والد محمودہ کا علاقہ سے مکان پر آگیا اور اس نے ایک شور وغل برپا کیا صبح کو تمام اعزہ کو بلاکر یہ کہا کہ یہ نکاح درست نہیں ہوا، اور کہنے لگا کہ مادر محمودہ یہ کہتی ہے کہ محمودہ کو یہ نکاح منظور نہ تھا اور وقت اعادہ الفاظ نکاح بغرض حصول رضامندی کے محمودہ نماز میں تھی او رجب وہ سجدہ سہو میں جانے لگی تو حامد نے اس کا سر پکڑلیا، آپ لوگ چلیں اور گھر میں دریافت کرلیں، اعزہ گھر میں آئے، ان کے رو برو پدر محمودہ نے مادرمحمودہ سے یہ پوچھا کہ آیا محمودہ کو یہ عقد منظور تھا یا نہیں۔ وہ نماز میں تھی یا نہیں۔ بجواب اس کے مادر محمودہ نے یہ کہا کہ مجھ کو منظور ہے اور سجدہ سہو کی بابت مادر محمودہ نے کہا کہ میں کچھ نہیں جانتی اگرچہ مکررسہ کرر والد محمودہ مادر محمودہ سے دیر تک سجدہ سہو کی نسبت پوچھتا رہا مگر وہ انکار کرتی رہی اگرچہ بیان والد محمودہ کا بالکل خلاف واقعہ کے تھا اور صریح بے اصل تھا، دوپہر تک والد محمودہ اس امر پر غلو کرتا رہا کہ بوجہ مشغولی نمازکے یہ نکاح نہیں ہوا، جب یہ امر بے اصل کسی طرح سے ثابت نہ ہوا کہ وقت نکاح کے محمودہ نماز میں تھی تو اس نے بعد دوپہر کے اعزہ کو جمع کرکے یہ خواہش ظاہر کی کہ علیحدہ ہوجائے، جس علیحدگی کا مطلب یہ تھا کہ طلاق ہوجائے، حامد اور اعزہ حامد نے اس علیحدگی کو منظورنہیں کیا اگرچہ عرصہ تک والد محمودہ کا اس پر اصرار تھا، محمودہ خواندہ ہے اس عرصہ میں محمودہ نے ایک رقعہ دستخطی اپنے والد کو لکھا کہ مجھے آپ کی خوشی منظور ہے مجھے سوائے نماز وروزہ کے اور کوئی چیز نہیں چاہئے مگر لفظ طلاق کا ہرگز درمیان میں نہ آنے پائے، اور انہی الفاظ کا اعادہ محمودہ نے اپنی چند ہم عمروں سے بھی کیا ، صورت استمزاج ماقبل نکاح وسکوت بوقت نکاح وتحریر رقعہ بعد نکاح واظہار خیال از ہم عمران سے منظوری ورضامندی محمودہ کی اس نکاح کی نسبت بخوبی ثابت ہے اور اس وقت تک یہ نکاح محمودہ کو منظور ہے، چونکہ یہ نکاح باپ محمودہ کی غیبت میں برضامندی محمودہ ومادر محمودہ ونیز تمام خاندان فریقین ہوا ہے تو ایسی صورت میں یہ نکاح از روئے فقہ جائز ہوا یا نہیں؟ بینوا بالکتاب توجروا بالثواب