Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
170 - 1581
مسئلہ ۳۳۲: ازشہر اعظم گڑھ مرسلہ عنایت اللہ خاں صاحب ۱۴ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ مسماۃ محمودہ کا نکاح حامدایک شخص ہم کفو کے ساتھ مندرجہ ذیل صورت میں ہوا ہے صرف پدر محمودہ کو یہ نکاح حامد کے ساتھ کرنا منظور نہیں تھا مگر مادر محمودہ ونیز تمام خاندان کو بہر صورت منظور تھا اس لئے یہ نکاح بہ تحریک مادر محمودہ ودیگربزرگان خاندان بغیبت پدر محمودہ کے جبکہ وہ اپنے علاقہ پر بہ فاصلہ بارہ تیرہ کو س کے تھا باعلان عام منعقد کیا گیا، چونکہ محمودہ عاقلہ بالغہ تھی اس لئے ایک روز قبل از انعقاد نکاح اس کی ہم عمر ایک کتخدا لڑکی واسطے استمزاج محمودہ کے بھیجی گئی، اس سے محمودہ نے کہا کہ یہ نکاح مجھ کو بدل منظور ہے، یہ بھی کہا کہ اس میں یہ خوبی ہے کہ میں تم اور نیز تمام اعزہ سے جد ا نہ ہوں گی اور ایک ہی جگہ رہوں گی، دوسرے روز بروز جمعہ اس کا عقد قرار پایا ، ایک وکیل اور دو گواہ جس کمرہ میں محمودہ تھی واسطے دریافت رضامندی کے گئے و حسب رواج اس ملک کے سوال جواب کرکے واسطے پڑھانے نکاح کے باغ حامد میں جہاں نکاح پڑھانے والا اعزہ اور نیز شہر کے معزز وممتاز لوگ موجود تھے واپس آئے، واپس آنے پر معلوم ہوا کہ وکیل وگواہان نے محض مادر محمودہ سے رضامندی حاصل کی ہے، اس پر حاضران کی یہ رائے ہوئی کہ  مسماۃ محمودہ عاقلہ بالغہ ہے اس سے پوچھنا ضروری امر ہے لہذا پھر وکیل وگواہان گھرمیں جائیں اور خاص محمودہ سے دریافت کریں، چنانچہ وکیل وگواہان ونیز چند اعزہ محمودہ کے گھر میں گئے، معلوم ہوا کہ مسماۃمحمودہ نماز صلوٰۃ التسبیح پڑھ رہی ہے، وکیل نے یہ کہا کہ محمودہ جب نماز سے فارغ ہولے تو دریافت کیا جائے، تھوڑی دیر کے بعد محمودہ نماز پڑھ چکی، ایک گواہ نے محمودہ کو بایاں سلام اور ایک عزیز نے دونوں سلام پھیرتے دیکھا اور اس جگہ قریب محمودہ کے مادر محمودہ و بہن حامد بیٹھی ہوئی تھیں، بعد فراغت نما زحسب احکام شرعیہ ایجاب وقبول کے الفاظ محمودہ سے بغرض حصول رضامندی کہے گئے تو مادر محمودہ نے حسب رواج اس ملک کے وموافق رسم شرفائے اس دیار کے کہا کہ ہاں منظور ہے اور محمودہ ساکت رہی، مگر وکیل نے کہا کہ محمودہ خود عاقلہ بالغہ ہے اس کو اپنی زبان سے ایجاب وقبول کے الفاظ کا اعادہ کرنا چاہئے، اس بات پر محمودہ نے ونیز اور لوگوں نے کہا کہ ہندوستان میں شریفوں کی کوئی لڑکی کنواری آج تک کبھی بولی ہے کہ یہ بولے گی بلکہ بالعموم سکوت علامت رضامندی ہوتی ہے مگر بااینہمہ وکیل نے بمقابلہ گواہان کے محمودہ کا نام لے کر کلمات ایجاب وقبول کو پوچھا کہ محمودہ تم کو منظورہے؟ـ محمودہ اس وقت محض ساکت رہی اور کچھ سرنگوں ہوگئی، اس طور پر دوبارہ باصرار دریافت کیا گیا تو اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اور زیادہ جھکی، تیسری دفعہ وکیل نے اسی طرح تقریر کی، محمودہ کی حالت وہی حالت سکوت وخاموش کی رہی، بعد اس کے وکیل گواہان باغ حامد میں آئے اور حسب اصول شرعیہ ودستور مروجہ نکاح محمودہ کا حامد کے ساتھ جماعت کثیرہ کے رو برو ہوگیا اور  نکاح مکان محمودہ میں حسب دستور سب اعزہ آئے وباہم مبارک وسلامت ہوئی اور رسوم شربت نوشی کی عمل میں آئی جس پر مادروبہن ونانی محمودہ نے شادمانی کا اظہار کیا اور یہ واقعہ قبل از نماز جمعہ کے تھا اور شب میں آٹھ بجے والد محمودہ کا علاقہ سے مکان پر آگیا اور اس نے ایک شور وغل برپا کیا صبح کو تمام اعزہ کو بلاکر یہ کہا کہ یہ نکاح درست نہیں ہوا، اور کہنے لگا کہ مادر محمودہ یہ کہتی ہے کہ محمودہ کو یہ نکاح منظور نہ تھا اور وقت اعادہ الفاظ نکاح بغرض حصول رضامندی کے محمودہ نماز میں تھی او رجب وہ سجدہ سہو میں جانے لگی تو حامد نے اس کا سر پکڑلیا، آپ لوگ چلیں اور گھر میں دریافت کرلیں، اعزہ گھر میں آئے، ان کے رو برو پدر محمودہ نے مادرمحمودہ سے یہ پوچھا کہ آیا محمودہ کو یہ عقد منظور تھا یا نہیں۔ وہ نماز میں تھی یا نہیں۔ بجواب اس کے مادر محمودہ نے یہ کہا کہ مجھ کو منظور ہے اور سجدہ سہو کی بابت مادر محمودہ نے کہا کہ میں کچھ نہیں جانتی اگرچہ مکررسہ کرر والد محمودہ مادر محمودہ سے دیر تک سجدہ سہو کی نسبت پوچھتا رہا مگر وہ انکار کرتی رہی اگرچہ بیان والد محمودہ کا بالکل خلاف واقعہ کے تھا اور صریح بے اصل تھا، دوپہر تک والد محمودہ اس امر پر غلو کرتا رہا کہ بوجہ مشغولی نمازکے یہ نکاح نہیں ہوا، جب یہ امر بے اصل کسی طرح سے ثابت نہ ہوا کہ وقت نکاح کے محمودہ نماز میں تھی تو اس نے بعد دوپہر کے اعزہ کو جمع کرکے یہ خواہش ظاہر کی کہ علیحدہ ہوجائے، جس علیحدگی کا مطلب یہ تھا کہ طلاق ہوجائے، حامد اور اعزہ حامد نے اس علیحدگی کو منظورنہیں کیا اگرچہ عرصہ تک والد محمودہ کا اس پر اصرار تھا، محمودہ خواندہ ہے اس عرصہ میں محمودہ نے ایک رقعہ دستخطی اپنے والد کو لکھا کہ مجھے آپ کی خوشی منظور ہے مجھے سوائے نماز وروزہ کے اور کوئی چیز نہیں چاہئے مگر لفظ طلاق کا ہرگز درمیان میں نہ آنے پائے، اور انہی الفاظ کا اعادہ محمودہ نے اپنی چند ہم عمروں سے بھی کیا ، صورت استمزاج ماقبل نکاح وسکوت بوقت نکاح وتحریر رقعہ بعد نکاح واظہار خیال از ہم عمران سے منظوری ورضامندی محمودہ کی اس نکاح کی نسبت بخوبی ثابت ہے اور اس وقت تک یہ نکاح محمودہ کو منظور ہے، چونکہ یہ نکاح باپ محمودہ کی غیبت میں برضامندی محمودہ ومادر محمودہ ونیز تمام خاندان فریقین ہوا ہے تو ایسی صورت میں یہ نکاح از روئے فقہ جائز ہوا یا نہیں؟ بینوا بالکتاب توجروا بالثواب
الجواب: صورت مستفسرہ میں اگر حامد محمودہ کا کفو شرعی ہے یعنی اس کے نسب ومذہب وروش وپیشہ وغیر ہ میں کوئی بات ایسی نہیں کہ اس سے نکاح ہونا اولیائے محمودہ کے لئے باعث ننگ وعار ہو تونکاح مذکورہ منعقد ہوجانے میں اصلا شبہہ نہیں اگرچہ وقت طلب اجازت نماز ہی پڑھتی ہو بلکہ اگرچہ اس سے اصلا اجازت نہ لی گئی ہو، والد محمودہ کا ادعا کہ نکاح نہ ہوا محض باطل وبے معنی ہے عقد بے اجازت غایت یہ کہ عقد فضولی ہو، پھر عقد فضولی صحیح ومنعقد ہوتا اور اجازت صاحب اجازت پر اس کا نفاذ موقوف رہتاہے نہ کہ اصلا باطل ٹھہرے۔
فی الدرالمختار الفضولی من یتصرف فی حق غیرہ بغیر اذن شرعی کل تصرف صدر منہ تملیکاکان کبیع وتزویج اواسقاطا کطلاق وعتاق ولہ من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ۱؎۔
درمختار میں ہے فضولی وہ ہوتاہے جو شرعی اجازت کے بغیر، غیر کے حق میں خود بخود تصرف کرے، فضولی کا کوئی تصرف خواہ مالک بنانے کے لئے ہو جیسا کہ بیع ونکاح یا ملکیت کو ساقط کرنے کے لئے ہو، جیساکہ طلاق وعتاق، تو اس کے تصرف کے وقت اگر کوئی اس کو جائز کرنے والاہو تو فضولی کایہ تصرف موقوف ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار    فصل فی الفضولی    مجتبائی دہلی    ۲/۳۱)
نظر بوقائع مذکور سوال عقد محمودہ ایسا ہی واقع ہوا، نکاح سے ایک دن پہلے ہم عمر لڑکی سے جو گفتگوآئی اورمحمودہ نے پسند ظاہرکی وہ صرف رائے تھی نہ کسی شخص کو نکاح کرنے کی توکیل وقت تزویج اذن لینے پر جو سکوت محمودہ نے کیا وہ بھی توکیل کے لئے ناکافی تھا کہ ولی اقرب یعنی پدر چند ہی کوس پر تھا اور اذن لینے والا جب نہ خود ولی اقرب نہ اس کاوکیل نہ اس کا رسول ، تو دوشیزہ کا سکوت بھی معتبر نہیں اذن صاف درکار ہے۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار و ردالمحتار ان استاذنھا غیر الاقرب کاجنبی (المراد بہ من لیس لہ ولایۃ لکن رسول الولی  قائم مقامہ فیکون سکوتھا رضاعند استیذانہ کما فی الفتح والوکیل کذٰلک کما فی البحر عن القنیۃ) اوولی بعید (کالاخ مع الاب اذالم یکن الاب غائباۤغیبۃ منقطعۃ کما فی الخانیۃ) فلا عبرۃ لسکوتھا بل لا بدمن القول کالثیب البالغۃ اوماھو فی معناہ من فعل یدل علی الرضا ۱؎۔
تنویر الابصار ، درمختار، ردالمحتار میں ہے اگرلڑکی سے نکاح کی اجازت چاہنے والا، ولی اقرب کاغیر مثلا اجبنی یعنی غیر ولی ہو یا ولی ابعد ہو مثلا والد کی موجودگی میں بھائی، جبکہ والد لمبے سفر پر نہ ہو (جیساکہ خانیہ میں ہے) تو لڑکی کی اجازت کے لئے اس کا سکوت معتبر نہ ہوگا بلکہ اس موقعہ پر اس کا بولنا ثیبہ عورت کی طرح ضروری ہے یا کوئی ایسا فعل ضروری ہے جو بولنے کے قائم مقام رضا پر دلالت کرسکے، لیکن ولی اقرب کا قاصد یا وکیل ہو تو وہ ولی کے قائم مقام ہوتاہے لہذا ان کے اجازت طلب کرنے پر لڑکی کی خاموشی کو رضا قرار دیا جائے گا۔ جیساکہ فتح میں ہے، اور وکیل کے بارے بحر میں قنیہ سے منقول ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار حاشیہ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۱)
معہذا رسم اکثر دیار ہندیہ یوں ہے کہ وکالت واذن زید  کے نام لیتے ہیں اور پڑھانے والا عمرو ہوتاہے یوں باوصف اذن صریح بھی عقد عقد فضولی رہتاہے کہ جسے اذن تھا اس نے نہ پڑھایا،
فی ردالمحتار عن الرحمتی عن الحموی عن کلام محمد فی الاصل ان مباشرۃ وکیل الوکیل بحضرۃ الوکیل فی النکاح لاتکون کمباشرۃ الوکیل بنفسہ بخلافہ فی البیع ۲؎ اھ وفی وکالۃ غمز العیون عن الو لوالجیۃ ھوالصحیح ۳؎۔
ردالمحتار نے رحمتی اور انھوں نے حموی کے واسطہ سے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا مبسوط میں بیان کردہ کلام نقل کیاہے کہ وکیل کا وکیل، نکاح کے معاملہ میں اصل وکیل کی موجودگی میں ، وکیل والاحکم نہیں پاتا، بیع کا معاملہ اس کے خلاف ہے اھ ، اور غمز العیون کے باب وکالت میں ولوالجیہ سے ہے کہ یہی صحیح ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار حاشیہ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی    دارحیاء التراث العربی بیروت     ۲/۳۰۰)

(۳؎ الاشباہ والنظائر معہ غمز العیون    کتاب الوکالۃ    ادارۃ القرآن کراچی    ۲/۱۱)
Flag Counter