| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۳۲۹: از کلکتہ دھرم تلا اسٹریٹ نمبر ۱۰۲ مرسلہ حافظ عزیز الرحمان صاحب ۱۶ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی نابالغہ کا نکاح بسبب نہ رہنے باپ دادا کے اس کے ماموں نے اپنی ولایت سے کردیا تھا اب بحالت بلوغ لڑکی نے اس نکاح کو منظور نہ کیا اور بعین حالت بلوغ دو چار آدمیوں کو بلا کر اظہار کیاکہ میں اس وقت بالغ ہوئی اپنے ولی کے نکاح کو نامنظور کرکے فسخ کیا آپ لوگ اس امر کے شاہد رہیں۔ اور اس فسخ کی خبر اس کے ناکح کو ہوئی اور دین مہر بھی معاف کردیتی ہے، تاہم صفائی نہیں کرتا، قریب سال کے گزر ااور دربارہ مسئلہ فسخ درمختار وغیرہ میں ہے کہ فسخ کی خبر قاضی کو کرے۔ قاضی تفریق کردے، اور اس سلطنت انگریزی میں قضا یا نہیں حکم قضا یا حکام ہائی کورٹ کے متعلق ہے اور ہائیکورٹ میں خبرکے واسطے وکیل اور بیرسٹر مبلغ ایک ہزار طلب کرتے ہیں اور لڑکی مذکورہ نان ونفقہ کو محتاج اور عالم شباب رکھتی ہے، خوف شیطانی غالب رہے، پس ایسی صورت میں کیا کرے؟ بیان فرمایئے۔ بینوا تو جروا
فی ردالمحتار الزوج لوکان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر، قلت وبہ صرح الاستروشنی فی جامعہ ۱؎۔
ردالمحتارمیں ہے جب تک خاوند حاضر نہ ہو قاضی تفریق نہ کرے، ورنہ اس کی غیرموجودگی میں تفریق ، قضاء علی الغیب ہوگی، نہر، میں کہتاہوں استروشنی نے اپنی جامع میں یہی تصریح کی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۷)
اور ہائی کورٹ وغیرہ انگریزی کچہریاں دارالقضاء شرعی نہیں۔ نہ وہ حکام حکام وقضاۃِ شرع ، تو ایسے مسائل میں ان کی طرف رجوع اگر آسان بھی ہو تو اصلا مفید نہیں کہ ان کے فسخ کئے یہ نکاح فسخ نہ ہوگا اور عورت بدستور زوجہ شوہر رہے گی بلکہ وہاں جو عالم فقیہ سنی تمام اہل شہر سے علم فقہ میں زائد ہو اس قسم کے خاص دینی کاموں میں اس کی طرف رجوع لازم ہے، اوراگر وہاں یہ بھی نہ ہو تو چارہ کار یہ ہے کہ زن وشوہراس معاملہ کوپنچایت پر رکھیں، مسلمان پنچ بعد ثبوت بمواجہہ شوہر تفریق کردے نکاح فسخ ہوجائے گا۔
فان الحکم کالقاضی فی کل مالیس بحد ولاقود ولادیۃ علی عاقلۃ کما نصوا علیہ۔
حکم یعنی ثالث، قصاص، حدا ور عاقلہ پر دیت کے سواباقی امور میں قاضی کی طرح ہے، جیساکہ فقہاء نے اس پر نص کی ہے۔ (ت)
اور اگر شوہر پنچایت پر راضی نہ ہو تو عورت کسی اسلامی ریاست کے شہر میں جائے جس طرح یہاں ریاست رام پور وغیرہ اور وہاں قاضی شرع کے حضور (جس کی قضا کو نواب والی ملک مسلمان نے نہ اس شہر والوں سے خاص کردیا ہو نہ سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب پر حکم کے لئے مقید کیا ہو) استغاثہ کرے وہ بلحاظ قواعد شرعیہ تفریق کرسکتاہے، اور اگر شوہر بھی وہاں جانے پر راضی ہویا قاضی کی طلبی پر اسے جانا ضرور ہو جب تو امر آسان ہے، اب اس قاضی میں صرف اتنی شرط ہوگی کہ والی نے صرف اہل شہرکے ساتھ اسی کی قضاء کو خاص کردیا ہو جیساکہ اکثر یہی ہے کہ تخصیص نہیں کرتے۔
وذٰلک لما عرف ان القضاء یتخصص بکل ماخصص بہ المقلد کما فی الاشباہ والدر وغیرھما واذالم یخصص باھل البلد لم یشترط ان یکون المتداعیان من اھل البلد۱؎ کما فی ردالمحتار وغیرہ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ اس لئے کہ قضاء کا دائرہ قاضی کو مقرر کرنے والے کی تخصیص سے خاص ہوتاہے جیساکہ اشباہ، درمختار وغیر ہ کتب میں مذکور ہے، اور جب قاضی کا دائرہ کسی خاص علاقہ سے مخصوص نہ ہو تو دعوی کے فریقین کااہل بلد سے ہونا شرط نہیں ہے، جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)م
(۱؎ بحرالرائق کتاب القضاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۲۵۷)
مسئلہ ۳۳۰: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ کے باہم شادی بولایت پدارن عالم نابالغی زوجین میں ہوئی، بعد ایک عرصہ کے زید نابینا ہوگیا اور ہنوز وہ دونوں نابالغ ہیں اور پدر ہندہ نے وفات پائی اب مادروعم ہندہ اسے رخصت کرنا نہیں چاہتے اور کہتے ہیں ہم اپنی بیٹی زید کو نہیں دیں گے اس صورت میں ماں کے انکار سے اس نکاح میں خلل آیا یا نہیں؟ اور ماں اور چچا کو فسخ کا اختیارحاصل ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :صورت مسئولہ میں نکاح مذکور بحالہ باقی ہے اورا م وعم ہندہ بلکہ کسی کے انکار سے اس میں خلل نہیں آتا، نہ انھیں اختیار فسخ حاصل، یہاں تک کہ اگرخود ہندہ بعد بلوغ فسخ نکاح چاہے تاہم منفسخ نہ ہوگا۔
فی تنویر الابصار لزم النکاح ولوبغبن فاحش ان کان الولی ابااوجدا ۱؎ الخ فی فتاوی قاضی خاں اذا بلغ الصغیر اوالصغیرۃ قد زوجھما الاب والجد لاخیار لھما ۲؎ انتھی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تنویر الابصارمیں ہے کہ ولی باپ یادادا ہوتوبہت کم مہر سے بھی نکاح لازم ہوتاہے الخ۔ اور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ لڑکا یا لڑکی کو بالغ ہونے پر اختیار نہ ہوگا انتہی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲) (۲؎ فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء منشی نولکشور لکھنؤ ۱/۱۶۴)
مسئلہ ۳۳۱: ۲۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر مرگیا اور دو لڑکی ایک کی عمر تین برس کی اور ایک کی چھ برس کی، چھ برس کی عمرکی لڑکی کو اس کی پھوپھی چور سے لے گئی اپنے گھر کو، جب ہندہ کو معلوم ہوا تو وہ اس فکر میں رہی کہ جب موقع پاوے اپنی لڑکی کو لے آئے، اوراپنے عزیزوں سے بھی کہہ رکھا کہ جب موقع ملے تو میری لڑکی میرے پاس لے آؤ، حسب اتفاق وہ لڑکی ہندہ کی کسی دکان پر گوشت لے رہی تھی اور ہندہ کا بھانجا اس طرف سے آرہا تھا اسے گودی میں اٹھا لایا اور ہندہ کو دے دیا، جب وہ لڑکی ہندہ کے پاس آگئی تو چھ سات روز بعد اس کی پھوپھی آئی اورہندہ سے کہا میں نے اس کا نکاح اپنے لڑکے کے ساتھ کردیا ہے اب اس کو بھیج دو، ہندہ نے کہا میں ماں تھی میری بلاجازت تم نے کیوں نکاح کیا میں اس لڑکی کو نہیں دوں گی اور اس کے نکاح کا مجھے اختیار ہے، اور وہ لڑکی ایک برس اپنی پھوپھی کے رہی اور چھ برس کی عمر میں گئی تھی اور ا س کو ماں کے پاس آئے ہوئے چارپانچ برس کا عرصہ ہوااس حساب سے اب گیارہ بارہ برس کی عمر ہے تو اس صور ت میں وہ نکاح فاسد رہا یا قائم رہا؟ اور ہندہ اس کا اور جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے، آیا بموجب شرع شریف کے کرسکتی ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: اگرا ن لڑکیوں کا کوئی جوان بھائی، بھتیجا، چچا، چچا کابیٹا، پوتا غرض دادا پردادا کی اولاد سے کوئی عاقل بالغ مرد نہ تھا تو ان کے نکاح کی ولایت ان کی ماں ہی کو تھی پھوپھی کو ماں کے ہوتے کچھ اختیار نہ تھا جو نکاح پھوپھی نے بے اجازت ماں کے کیا جبکہ ماں نے اسے رد کردیا کہ تم نے کیوں کیا میں اس کو نہ دوں گی اس کا مجھے اختیار ہے وہ نکاح باطل ہوگیا اب ہندہ کو اختیا ر ہے جہاں مناسب دیکھے لڑکی کا نکاح کردے۔
فی الدرالمختار ان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب الیہ المرجع والمآب۔
درمختار میں ہے اگر کوئی عصبہ نہ ہو تو پھر ولایت ماں کو ہے، واللہ تعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)