Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
168 - 1581
مسئلہ ۳۲۸: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نابالغ کا نکاح بہ اجازت ہندہ اس کی پھوپھی کے محمودہ بالغہ کے ساتھ ہوا، وقت نکاح عمر زید کی چودہ سال کی اور عمر محمودہ کی سولہ سال کی تھی، زید نکاح سے چار مہینے بعد فوت ہوگیا، آیا یہ نکاح صحیح اور دین مہر محمودہ کا واجب الادا ہے یا نہیں؟ اور ہے تو کس قدر؟ اور زید محمودہ دونوں سنی المذہب ہیں، بحوالہ کتاب جواب تحریر فرمایا جائے۔
الجواب: بیان سائل سے معلوم ہوا کہ زید کا ایک جوان بھائی موجود ہے پس صورت مذکورہ میں اولاً اس قدرمعلوم ہوجانا ضروری ہے کہ شرعاً بلوغ کا دارومدار خواہی نخواہی عمرہی پر نہیں رکھا گیا جب تک آدمی اتنے سال کا نہ ہو  بالغ نہ کہا جائے گا اگرچہ تمام آثار جوانی واضح وآشکار ہوں عالم میں کوئی عالم اس کا قائل نہیں بلکہ حقیقۃ لڑکوں میں مدار کار انزال واحتلام لڑکیوں میں حیض وغیرہ پر ہے، اس لئے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ لڑکاکم سے کم بارہ سال اور لڑکی نو برس میں بالغ ہوسکتی ہے، ہاں جب یہ امور ظاہر نہ ہو ں تو اس وقت عمر پر فیصلہ کیا گیا۔
فی الدرالمختار بلوغ الغلام بالاحتلام والاحبال والانزال والاصل ھوالانزال والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل فان لم یوجد فیھما شیئ فحتی یتم لکل منھما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی لقصر اعمار اھل زماننا وادنی مدتہ لہ اثنا عشرۃ سنۃ ولہا تسع سنین ھوا لمختار۱؎ اھ ملخصا۔
درمختارمیں ہے لڑکے کا بلوغ احتلام، انزال اور بیوی کو حاملہ کرنے سے ثابت ہوگا جبکہ انزال اصل ثبوت ہے، اور لڑکی کا بلوغ احتلام، حیض اور حمل سے ثابت ہوگا،اگر ان علامات میں سے کوئی چیز دونوں میں نہ پائی جائے تو پھر دونوں کی عمر پندرہ سال تک ہونا ان کا بلوغ ہوگا۔ اس پر فتوی دیا جائے گا کیونکہ ہمارے زمانہ والوں کی عمریں کم ہوتی ہیں، اور لڑکے کے لئے کم از کم حد بلوغ بارہ سال اورلڑکی کے لئے نو سال ہے، یہی مختار قول ہے، اھ ، ملخصا۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الحجر        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/۱۹۹)
پس ممکن کہ زید چہاردہ سالہ وقت نکاح بالغ ہوجب تو صحت نکاح ووجوب تمامی مہر میں کچھ نزاع ہی نہیں۔ اس طرح اگر نابالغ تھا اور نکاح باجازت برادر واقع ہوا یا اس وقت معمولی اجازت صرف پھوپھی سے لی گئی ہو اور بھائی نے جبھی یا کسی اور وقت صراحۃ خواہ دلالۃ اس نکاح کو جائز رکھا اور پسند کیا یا یہ بھی نہ ہوا مگر چند مدت بعد زید بالغ ہوگیا اور خود اس نے نکاح جائزرکھا، ان سب صورتوں میں نکاح بھی نافذ اور مہر بھی کامل واجب ہے۔
فی الدرالمختار للولی الاتی بیانہ انکاح الصغیر والصغیرۃ جبرًا ۱؎ اھ،
درمختار میں ہے کہ ولی کو اختیار ہے جس کا بیان آگے آرہا ہے کہ نابالغ لڑکے اور لڑکی کا نکاح اپنی مرضی سے کردے اھ،
(۲؎ درمختار   باب الولی         مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
وفی تنویر الابصار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ ۱؎ اھ
اور تنویر الابصار میں ہے کہ نکاح میں عصبہ بنفسہٖ ولی ہوتا ہے اھ
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
وفی الدرالمختار لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۲؎ اھ
اور درمختار میں ہے اگر ولی اقرب کی موجودگی میں ولی ابعد نے نکاح کردیا تو اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا اھ،
 (۲؎ الدرالمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
وفی الخانیہ نفذباجازۃ الصبی بعد بلوغ ۳؎ اھ
اور خانیہ میں ہے کہ بچے کے بالغ ہوکر اجازت دینے سے نکاح نافذہوجائے گا۔
 (۳؎ فتاوی قاضی خاں    فصل فی شرائط النکاح    نولکشور لکھنو        ۱/۱۵۷)
وفی الدرالمختار المھر یتاکد عندوطء اوخلوۃ صحت من الزوج او موت احدھما ۴؎ اھ۔
اور درمختار میں ہے کہ وطی، خلوت صحیحہ اور خاوند بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے سے مہر لازم ہوجاتاہے اھ (ت)
 (۴؎ الدرالمختار        باب المہر        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۷)
ہاں اگر ان امور میں سے کچھ نہ واقع ہوا یعنی نہ زید بالغ تھا نہ نکاح بہ تجویز ولی واقع ہوا، نہ ولی نے کسی وقت صریحاً یا دلالۃً اس کی اجازت دی، نہ زید خود لائق اجازت ہوا، یہاں تک کہ مرگیا تو بے شک نکاح باطل ہوگیا۔
لان الموقوف یبطل بالموت قبل الاجازۃ کما لایخفی علی احد۔
کیونکہ موقوف نکاح، اجازت سے قبل موت سے باطل ہوجاتاہے، جیسا کہ سب پر واضح ہے۔ (ت)
اور جلسہ نکاح میں ولی کا مجرد خاموش بیٹھا رہنا اجازت وپسندی پر یقین نہیں دلاسکتا بلکہ اس کا کوئی فعل ایسا ہونا چاہئے جس سے رضامندی سمجھی جائے، مثلا دلہن کو رونمائی دینا یا دولھا کی سلامی کے روپے لینا یا مبارک باد لینا دینا۔
وغیر ذلک عما یدل علی الرضا وفی ردالمحتار تقدم ان البالغۃ لوزوجت نفسھا غیر کفو فللو لی الاعتراض مالم یرض صریحا او دلالۃ کقبض المھر ونحوہ فلم یجعلوا سکوتہ اجازۃ والظاہر ان سکوتہ ھنا کذلک فلویکون سکوتہ اجازۃ لنکاح الابعد وان کان حاضرا فی مجلس العقد مالم یرض صریحا اودلالۃ تامل ۱؎۔
ان کے علاوہ دیگر امور جو رضاکی دلیل ہوسکتے ہیں، اور ردالمحتار میں ہے کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اگر بالغہ لڑکی نے اپنا نکاح خود غیر کفو میں کرلیا اور ولی صراحۃ یا دلالۃ رضامندی ظاہر نہ کرے مثلا مہر وصول کرنا وغیرہ عمل نہ کرے، تو ولی کو ا س نکاح پر اعتراض کا حق ہے تو فقہاء نے ا س کے سکوت کو اجازت نہیں قرار دیا اور ظاہر یہی ہے کہ اس کا یہاں موقعہ پر سکوت کا یہی مطلب ہے تو اس کا سکوت ابعد ولی کے نکاح کی اجازت قرار نہیں پائے گا اگرچہ یہ اقرب مجلس نکاح میں موجود ہو جب تک صریحا یا دلالۃ رضامندی ظاہر نہ کردے، غور کرو (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۱۵)
اور اس صورت میں مہر بھی لازم آئے گا،
لان النکاح باطل والباطل معدوم والمعدوم لایفید۔
کیونکہ یہ نکاح باطل ہے اور باطل کا لعدم ہوتاہے او رمعدوم چیز مفید نہیں۔ (ت)
البتہ اگرایسی صورت میں یہ ثابت ہوکہ زید نابالغ نے بعد اس عقد نافذ کے محمودہ سے بالجبر قربت کی اورمحمودہ اس وقت حقیقۃ حالت جبر واضطرار میں تھی نہ وہ حالت جو ابتداء بوجہ شرم وحجاب عموما انکار کی باعث ہوتی ہے بلکہ وہ حالت جو زن عفیفہ کو مرد اجنبی کے ساتھ ہوتی ہے تو اس تقدیر پر ہندہ کا مہر مثل ذمہ زیدلازم ہونا چاہئے۔
وذٰلک لان الموقوف قبل الاجازۃ لایحل الوطی بل ولا النظر ۲؎ کما صرح بہ فی احکام الخلوۃ من باب المھر من ردالمحتار عن النھر عن النھایۃ وقد تبین بالموت انھا لم تکن زوجتہ ولاحد للشبھۃ و للصبی فیجب العقرا لا ان تکون مطاوعۃ فلایوجب لعدم الفائدۃ اذلولزم لرجع بہ  الولی علیھا لانھا مکلفۃ وقد وقع ماوقع بامرھا لکونھا طائعۃ کمافی ردالمحتار عن الشرنبلالی عن الفتح۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ اس لئے کہ اجازت سے قبل موقوف نکاح میں وطی حلال نہیں بلکہ اس کو دیکھنا بھی حلال نہیں جیساکہ مہر کے باب میں خلوت کے احکام میں ردالمحتار نے نہر سے انھوں نے نہایہ سے نقل کیا ہے اور اجازت سے قبل موت سے ظاہر ہوگیا کہ یہ اس کی بیوی نہ تھی، اگر قبل از اجازت ولی اقرب وطی یا خلوت ہوجائے تو حلال نہ ہونے کے بعد زنا کی حد نہ ہوگی کیونکہ مقام شبہ ہے نیز لڑکا نابالغ ہے، تاہم عقریعنی جوڑا خرچہ واجب ہوجائے گا بشرطیکہ لڑکی کی خواہش پر یہ عمل نہ ہوا ہو، ورنہ عقر واجب نہ ہوگا کیونکہ اس میں فائدہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر واجب قرار دیا جائے تو لڑکے کا ولی لڑکی سے تعرض کرے گا۔ کیونکہ جو واقعہ ہوا ہے وہ لڑکی کی مرضی اور کہنے سے ہوا اس لئے کہ لڑکی بالغ ہے جس کی خواہش پر یہ کچھ ہوا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں شربنلالی سے اورا س نے فتح سے نقل کیاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار    باب المہر        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۴۱)
Flag Counter