| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۳۲۶: ۲۸ شعبان ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی نابالغہ ا س کے باپ، دادا، بھائی، بھتیجا کوئی نہیں حقیقی چچا ہیں، چچا کا نابالغ لڑکا ہے، اگر یہ ولی جائز اپنی بھتیجی نابالغہ کا اپنے پسر نابالغ سے بولایت خود ایسی حالت میں نکاح کردے کہ لڑکی زیر پرورش نانی کے ہو اس کے پاس موجود ہو تو یہ نکاح صحیح وجائز ہوگا یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: صحیح وجائز ہے جبکہ وہ لڑکا اس نابالغہ کا کفو ہو اور نابالغہ کے مہر مثل میں صریح کمی نہ کی جائے۔
درمختار میں ہے:
ان کان المزوج غیرہ ای غیر الاب وابیہ لایصح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ۱؎ الخ اھ ملخصا۔
اگر نکاح دینے والا باپ اور دادا نہ ہو تو غیر کفو یا مہر مثل سے صریح کم کی صورت میں نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا۔ اور کفو اور مہر مثل ہو تو نکاح صحیح ہوگا الخ اھ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)
جبکہ یہ شخص لڑکے لڑکی دونوں کا ولی ہے تو دو گواہوں کے سامنے اس کا صرف اتنا کہہ دینا کہ''میں نے اپنی فلاں بھتیجی اپنے فلاں بیٹے کے نکاح میں اتنے مہر پر دی'' کفایت کرتا ہے کچھ لڑکے یا لڑکی کا حاضر ہونا ضرور نہیں۔
نعم یجب ان لایکون غائبا غیبۃ منقطعۃ فانہ لایبقی ولیاح علی ماصححوہ کما نقحہ فی ردالمحتار ۲؎.
ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ چچا اس حد تک غائب نہ ہو کہ وہاں تک رسائی مشکل ہو کیونکہ ایسی صورت میں وہ ولی نہ قرار پائے گا، جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصحیح کی ہے جس کی تنقیح ردالمحتار میں کی ہے۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۵)
درمختار میں ہے:
یتولی طرفی النکاح واحد بایجاب یقوم مقام القبول کأن کان ولیا من الجانبین ۳؎ اھ ملخصا وفی ردالمحتار کزوجت ابنی بنت اخی ۴؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ايک شخص نکاح میں دونوں جانب سے ولی ہوتے ہوئے ایجاب کردے تو وہ قبول کے قائم مقام بھی ہو جائیگا مثلا جب وہ دونوں جانب سے خود ولی ہو اھ ملخصا، اور ردالمحتار میں ہے، مثلا یوں کہے: ''میں نے اپنی بیٹی کا اپنے بھتیجے سے نکاح کردیا'' واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۶) (۴؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۶)
مسئلہ ۳۲۷: عمرو اور زید د وحقیقی بھائی ہیں ان میں زید ایک لڑکی نابالغ چھوڑ کر مرگیا، عمرو اپنی بھاوج بیوہ زوجہ زید سے لڑکی نابالغ کو حیلہ کرکے اپنے مکان پر لے گیا، اس لڑکی نابالغ کا نکاح بلا اجازت اس کی والدہ کسی شخص بیمار کے ساتھ اپنی اجازت سے کردیا، اب عمرو اپنی بھاوج سے متقاضی ہے کہ لڑکی کا نکاح ہم نے اپنی اجازت سے کردیا اور رخصت نہیں کیا اب رخصت کردوورنہ عدالت ہوگی، ا س صورت میں بیوہ پوچھتی ہے کہ علمائے دین و مولویان شرع متین کیا فتوی دیتے ہیں کہ یہ نکاح درست ہے یانہیں؟ فتوی لکھ کر مہر ودستخط سے مزین فرمائیں۔
الجواب:نابالغہ کی ولایت اس کے چچا کو ہے (بشرطیکہ کوئی جوان بھائی بھتیجا حاضر نہ ہو) چچا کے ہوتے ماں کو اختیار نہیں اور شوہر کی بیماری سے بھی درستی نکاح میں کوئی خلل نہیں آتا، پس اگر وہ شخص جس سے عمرو نے اپنی بھتیجی کا نکاح کردیا اس کا کفو ہے (یعنی قوم ، مذہب، پیشہ وغیرہ میں ا س کی بہ نسبت ایسا کم نہیں کہ اس سے نکاح ہونا اس صغیرہ کے اولیاء کو باعث عار ہو) اور مہر مثل میں فاحش کمی بھی نہ کی تو نکاح بے شک صحیح ہوگیا جس پر ماں کو کسی طرح اعتراض نہیں پہنچتا، ہاں لڑکی جوان ہو کر اگر خود ناراضی ظاہر کرے تو حاکم شرع کے حضور نالشی ہو کر فسخ کراسکتی ہے، اور اگر وہ شخص کفو نہیں یا چچا نے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہے مثلا مہر مثل سور وپے کا تھا اس نے پچاس روپے باندھے تو یہ نکاح سرے سے ہواہی نہیں۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولا الام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ ۱؎ اھ مختصرا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے اگرنکاح دینے والا باپ اور دادا کا غیر ہو خواہ وہ ماں ہو غیر کفو یا مہر مثل صریح کم ہو تو نکاح بالکل صحیح نہ ہوگا اور کفو اور مہر مثل ہو تو صحیح ہوگا اور نابالغ لڑکے یا لڑکی کو بلوغ پر فسخ کا اختیار ہوگا یا اگر ان کو بلوغ کے بعد علم ہوا ہو تو اس وقت بھی فسخ کا اختیار ہوگا اھ مختصراً ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)