Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
166 - 1581
 درمختار میں ہے:
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ۳؎ اھ ملخصا۔ا
ولی کی رضا کے بغیر حرہ عاقلہ بالغہ کا اپنی مرضی سے نکاح نافذ ہوتا ہے اور غیر کفو میں ولی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح جائز ہونے پر فتوی ہے جبکہ ولی غیر کفو میں ہونے کا علم حاصل کرچکا ہو اھ ملخصاً (ت)
 (۳؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۱)
ردالمحتار میں ہے:
ھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلایفید الرضی بعدہ بحر ۴؎۔
یہ اس صورت میں ہے جب لڑکی کا کوئی ولی ہو اور نکاح سے قبل وہ اس پر راضی نہ ہو تو نکاح کے بعد ولی کی رضا مفید نہ ہوگی، بحر۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار        باب الولی        دارحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۹۷)
اور کفو وہ ہے جس کے قوم، مذہب، چلن، پیشے وغیرہ میں کوئی ایسا عیب نہ ہو جس کے سبب اس کے ساتھ نکاح اولیائے دختر کے لئے اہل عرف کے نزدیک موجب ننگ وعار وبدنامی ہو، نہ ایسی حالت محتاجی ناداری بے حرفگی و بے سامانی میں ہو کہ عورت کا نفقہ واجبہ نہ چل سکے، یا جس قدر مہر شرعاً یا عرفاً پیشگی دینا ٹھہرا ہے نہ دے سکے۔
درمختار میں ہے:
تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ومالا بان یقدر علی المعجل ونفقۃ شھر لو غیر محترف والافان کان یکتسب کل یوم کفایتھا لو تطیق الجماع وحرفۃ ۱؎ اھ ملخصاً۔
عرب وعجم میں کفوکے لئے دینداری اور مال کا اعتبار ہوگا کہ وہ مہر معجل دینے پر قادرہو اور وہ کاروبار والا نہ ہو تو ایک ماہ کا خرچہ اداکرنے پر قادر ہو، ورنہ اگر وہ کاروبار والا ہے تو روزانہ بیوی کو کفایت کے لئے نفقہ کی قدرت رکھتا ہو اگر عورت کو جماع کی برداشت ہو ورنہ مہر معجل کی قدرت کافی ہے اور برابری معتبرہے پیشہ میں اھ ملخصاً (ت)
(۱؎ درمختار    باب الکفاءۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۵)
پس اگر شخص مذکور ان سب نقائص سے خالی تھا اور نکاح باذن دختر ہوا تو بلا شبہ صحیح وتام ونافذ ہوگیا جس میں ناموجودی وناراضی پدر کچھ خلل انداز نہیں۔ نہ اس کا نوکرنہ ہونا مخل ہوسکتاہے جبکہ وہ اور مال رکھتاہو یا کسی دستکاری سے اپنے اور زوجہ کے کھانے پینے کے قابل ہوسکتا ہے یا حسب عادت بلد اس کے ماں باپ بہو بیٹے کی کافی خبر گیری رکھیں اور کچھ مہر پیشگی دینا ہو تو اس کے ادا پر بھی قادر ہو،
درمختار میں ہے:
الصبی کفو بغنی ابیہ وامہ بالنسبۃ الی المھر المعجل لاالنفقۃ لان العادۃ ان الاباء یتحملون عن الابناء المھر لا النفقۃ ذخیرۃ۲؎ اھ ملخصا۔
لڑکا باپ یا ماں کے غنی ہونے کی وجہ سے مہرکے بارے میں کفو ہوسکتا ہے کیونکہ عادۃ والدین لڑکوں کے مہر کو خود برداشت کرتے ہیں، نفقہ کے معاملہ میں والدین کا غنا کارآمد نہیں کیونکہ والدین نفقہ کی کفالت نہیں لیتے، ذخیرہ، اھ ملخصا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    باب الکفاءۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۵)
ردالمحتار میں ہے:
مقتضاہ انہ لوجرت العادۃ بتحمل النفقۃ ایضا عن الابن الصغیر کما فی زماننا انہ یکون کفوا بل فی زماننا یتحملھا عن ابنہ الکبیر الذی فی حجرہ والظاھر انہ یکون کفوا بذلک لان المقصود حصول النفقۃ من جھۃ الزوج بملک اوکسب او غیرہ ویؤیدہ ان المتبادر من کلام الھدایۃ وغیرھاان الکلام فی مطلق الزوج صغیرا کان اوکبیرا ۱؎ الخ۔
اس سے حاصل ہو ا کہ اگر نابالغ بیٹے کی طرف سے نفقہ کو اپنے ذمّے لئے جانا عاد ت ہو جیساہمارے زمانہ میں ہے تو بھی کفوہوسکے گا ہمارے زمانے میں تو لوگ اپنے اس رہنے والے بالغ بیٹے کی طرف سے بھی نفقہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ تو اس صورت میں کفو ہونا ظاہر ہے کیونکہ مقصد تو لڑکے کی طرف سے بیوی کے لئے نفقہ کا حصول ہے مالک ہونے یا کا سب یا کسی اورطریقہ سے نفقہ حاصل ہو، اور اس بات کی تائید ہدایہ کے کلام سے متبادر ہوتی ہے کہ انھوں نے مطلق خاوند کی بات کی ہے خواہ نابالغ ہو یابالغ ہو الخ (ت)
(۱؎ ردالمحتار     باب الکفاءۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۲۴)
ہاں اگر دخترکے مہر مثل میں کمی فاحش کی گئی ہے تو باپ کو اس پر اعتراض پہنچتا ہے جس کا حاصل اس قدر کہ مہر مثل پور اکرالیا جائے، اورپورا نہ کرے تو قاضی نکاح فسخ کردے، نہ یہ کہ خواہ مخواہ نکاح رد ہوجائے ،
درمختار میں ہے:
لونکحت باقل من مھرھا فللولی العصبۃ الاعتراض حتی یتم مھر مثلھا اویفرق القاضی بینھما دفعا للعار ۲؎۔
اگر بالغہ نے اپنے نکاح میں مہر مثل سے کم مہر منظور کیا تو ولی عصبہ کو اعتراض کا حق ہے تا وقتیکہ لڑکی اپنا مہر مثل پورا کرائے یا پھر قاضی ولی کی عار کو ختم کرنے کے لئے نکاح فسخ کرے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار   باب الکفاءۃ        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۵)
البتہ اگر امور مذکورہ بالاسے کسی امر میں ایسا بھی ہے جس کے باعث وہ شرعا کفو نہ ٹھہرے، اور باپ نے اس پر مطلع ہوکر اپنی رضامندی ظاہر نہ کردی تھی تو بیشک، یہ نکاح سرے سے باطل ہوا کہ اب باپ کی رضامندی سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا، اس تقدیر پر فرض ہے کہ مرد عورت فورا جدا ہوجائیں اور اس نکاح کو ترک کردیں، پھر اگر چاہیں تو بعد اجازت صریحہ پدر از سرنو نکاح کرلیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter