Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
165 - 1581
مسئلہ ۳۲۴: از شہر کہنہ ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے انتقال کیا اور دو لڑکی ایک قریب ایک سال، اور دوسری قریب تین سال، اور بیوی اور والدہ تین بھائی چھوڑے، ان لڑکیوں نے تامدت سات سال زیر سایہ اپنی والدہ اور چچاؤں کے پرورش پائی، قضائے الہٰی بعد سات سال والدہ نے بھی انتقال کیا، چونکہ چچا اپنے اپنے تعلقوں پر تھے یہاں موجود نہ تھے، خالائیں آئیں اور حیلہ وفریب کرکے لڑکیوں کو لے گئیں کہ تاآنے چچاؤں کے یہ لڑکیاں ہمارے پاس ہیں جب چچا آئیں گے فورا روانہ کردیں گے، یہاں سے لے جاکر دونوں لڑکیوں کے نکاح عدم موجودگی چچاؤں میں باختیار خود اپنے لڑکوں کے ساتھ کرلئے، اس صورت میں یہ نکاح ہوئے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب : آٹھ سال کی لڑکی ضرور نابالغہ ہے، یونہی دس سال کی بھی، جب تک حیض نہ آئے یا پندرہ سال کامل کی عمر نہ ہوجائے، اور نابالغ کا اختیار عصبہ کو ہے، عصبہ کے ہوتے ذوی الارحام کوئی چیز نہیں۔
ہدایہ میں ہے:
لغیر العصبات من الاقارب ولایۃ التزویج عند ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی معناہ عند عدم العصبات ۱؎۔
نابالغہ کے نکاح کی ولایت عصبات کی غیر موجودگی میں دیگر اقارب کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک حاصل ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ ہدایہ     باب فی الاولیاء والاکفاء    المکتبۃ العربیہ کراچی    ۲/۲۹۸)
چچا عصبہ ہے اور خالہ ذوات الارحام سے، خالہ سگے چچا سے چھتیسویں درجے میں ہے کہ حقیقی چچا نہ ہو تو سوتیلے چچا کو نکاح کی ولایت ہے، پھر حقیقی چچا کے بیٹے کو ، پھر سوتیلے چچا کے بٹیے کو، پھر باپ کا حقیقی چچا، پھر سوتیلا، پھر باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے کا، پھر دادا کا حقیقی چچا، پھر سوتیلا، پھر دادا کے حقیقی چچا کا بیٹا،پھر سوتیلے کا، پھر اور دور کاسگا چچا، پھر سوتیلا، پھر اس کا بیٹا، پھر اس کا، پھر آزاد کرنے والا، پھر اس کا عصبہ، یہ سب عصبات ہیں، جب ان میں کوئی نہ ہو تو ماں ولی ہے، پھر دادی، پھر نانی، پھر بیٹی، پھر پوتی، پھر نواسی، پھر پسر کی پوتی نواسی، پھر دختر کی، پھر نانا، پھر سگی بہن، پھو سوتیلی ، پھر ماں کی اولاد جو باپ میں شریک نہیں، پھر سگی بہن کی اولاد، پھر سوتیلی کی، پھر اولاد مادر کی، پھر پھوپھی، پھر ماموں، اور جب ان سب میں کوئی نہ ہو تو خالہ، ان تمام درجات کی تفصیل عالمگیری ودرمختار وغیرہا سے ظاہر،  فتاوی قاضی خاں میں ہے:
ولایۃ النکاح الی العصبات اقرب الی الصغیر والصغیرۃ الاب ثم الجد ثم الاخ لاب وام ثم الاخ لاب ثم بنوھما علی ھذا الترتیب وان سفلوا ثم العم لاب وام۱؎ اھ ملخصا۔پ
نکاح کی ولایت عصبات کو ہے اور نابالغ لڑکے اور لڑکی کے قریب ترین عصبات والد پھر دادا، حقیقی بھائی، پھر باپ کی طرف سے بھائی، پھر ان دونوں کے لڑکوں کو اس ترتیب سے نیچے تک، پھر حقیقی چچا کو، اھ ملخصا (ت)
(۱؎ فتاوی قاضی خاں    فصل فی الاولیاء    نولکشور لکھنؤ        ۱/۱۶۳)
درمختار میں ہے:
فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام (وعد درجات الی ان قال) ثم الخالات ۲؎۔
اگر عصبہ نہ ہوتو ماں کو ولایت ہے، اور ولایت کے درجات متعددہ کو بیان کرنے کے بعد انھوں نے کہا پھر خالاؤں کو ولایت ہوگی۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۳)
پس چچا کے ہوتے جو نکاح خالہ کردے چچا کی اجازت پر موقوف ہے، اگر جائز رکھے جائز اور اگر رد کردے تو باطل ہوجائے  درمختار میں ہے:
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
اگر قریبی ولی کے ہوتے ہوئے بعید ولی نے نکاح کردیا تو قریب ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اللہ تعالٰی اعلم ہے اور اس کا علم اتم اور محکم ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
مسئلہ ۳۲۵: از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملک زادگان مرسلہ مرزا حامد حسن صاحب ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک نوجوان بالغ لڑکی ناکتخدا کا نکاح ا س کی ماں نے عدم موجودگی پدر میں اپنے عزیز واقارب کو جمع کرکے اپنے بھانجے کے ساتھ کردیا ، باپ بھی اس لڑکے کو جانتا ہے اوراس پر راضی بھی تھا مگر یہ کہتا تھاکہ جب تک یہ نوکر نہ ہو مت کرنا، اس صورت میں نکاح شرعا درست ہوا یا نہیں؟ اور ماں کوبہ موجودگی باپ کے اولاد پر ایسا اختیارہے یا نہیں؟
الجواب: نابالغ اولاد باپ کے ہوتے ماں کے لئے ایسا اختیار اصلا نہیں۔ اور بالغ اولاد پر ماں باپ کسی کے لئےولایت جبری نہیں۔ حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الایم احق بنفسھا من ولیھا ۱؎ رواہ الستۃ الاالبخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔)
بالغہ عورت ولی کی بنسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے، اس کو امام بخاری کے سوا ائمہ ستہ نے بروایت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ذکر کیا۔ (ت)
 ( ۱؎ صحیح مسلم        کتاب النکاح    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۴۵۵



(سنن ابوداؤد        فصل فی الثیب    آفتاب عالم پریس لاہور        ۱/۲۸۶)
درمختار میں ہے:
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ۲؎۔
بالغہ باکرہ لڑکی کونکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر اس پر جبر کی ولایت کسی کو حاصل نہ رہی، (ت)
 (۲؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۱)
صورت مذکورہ میں جبکہ لڑکی بالغہ ہے تو اس کا نکاح بے اس کے اپنے اذن کے نہ ماں کے کئے نافذ ہوسکے نہ باپ کے ہاں، جس عورت بالغہ کا ولی موجود ہو وہ غیر کفو سے اپنانکاح نہ خود کرسکتی ہے نہ دوسرے کو اذن دے سکتی ہے جب تک ولی اس شخص کے غیر کفو ہونے پر مطلع ہوکر پیش از نکاح بالتصریح اپنی رضامندی ظاہر نہ کردے، ورنہ نکاح محض باطل ہوگا کہ پھر رضائے ولی سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔
Flag Counter