Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
164 - 1581
مسئلہ ۳۲۲: از قاضی باڑی ضلع  ہردوئی، ڈاکخانہ شاہ آباد مرسلہ حضرت سید امیر حیدر صاحب ۲۶ شعبان ۱۳۱۱ھ

چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ سید سجاد حسین مرحوم نے چار لڑکیاں اور ایک زوجہ چھوڑکر انتقال کیا بعد چند عرصہ کے ایک لڑکی فوت ہوگئی، بعدا س کے زوجہ  نےانتقال کیا، تین لڑکیاں دو منسوبہ اور ایک نابالغہ چھوڑی، بعد دو سہ ماہ کے دختر کلاں نے بھی انتقال کیا، اب لڑکی نابالغ کے نکاح کی اجازت بموجب شرع شریف کے فوقیت ہمشیرہ حقیقی کوہے یا نانی ناناکو حاصل ہے فقط۔
الجواب : اس نابالغہ  کے دادا پر دادا یا ان کے باپ دادا پردادا کی اولاد پسری میں کوئی مسلمان عاقل بالغ مرد باقی ہے تو اس کے نکاح کی ولایت اسی کو ہے، اُس کے ہوتے نانا نانی بہن بلکہ ماں بھی کوئی چیز نہیں اورا س طرح کے  مرد متعدد ہیں، تو ان میں جو قریب تر ہوگا یعنی جوا س نابالغہ کے نسب میں بہ نسبت دوسروں کے کم واسطوں سے ملے گا وہی ولایت پائے گا، اور جو برابر درجے کے ہیں وہ ہر ایک ولی ٹھہرے گا، مثلا ہندہ بنت زیدبن خالد ہے اور سعید ورشید پسران حمید بن حامد بن خالد اور باقرابن جعفر بن احمد بن حامد اور کبیر صغیر منیر پسران طاہرین مطہر بن حامد مذکور ہیں توولایت نکاح ہندہ سعید ورشید دونوں کویکساں ہے اور ان کے ہوتے باقر وکبیر ومنیر کو استحقاق نہیں، ہاں اگر دُدھیال میں کوئی مرد ایسا نہیں خواہ یوں کہ سرے سے کوئی مرد رہا ہی نہیں یا جو ہے وہ مجنون یا رفض وغیرہ بدمذہبوں میں حد کفر تک پہنچا ہوا ہے، تو اس وقت اشخاص مذکورین سوال میں ولایت نکاح نانی کو ہے، وہ نہ رہے تو نانا کو، وہ نہ رہے تو بہن کو، اور ان سب میں بھی عقل واسلام کی شرط ضرور ہوگی یعنی اگر مذہب میں فساد ہو تو حد کفر تک نہ پہنچا ہو ورنہ مرتد کو کسی پر ولایت نہیں اگرچہ دعوی اسلام رکھتا ہو،
ۤفی الدرالمختار الولی فی  النکاح العصبۃ بنفسہ بلاتوسط انثی علی ترتیب الارث والحجب بشرط حریۃ وتکلیف واسلام فی حق مسلمۃ وولد مسلم فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ثم لام الاب ثم للجد الفاسد ثم للاخت ۱؎ الخ اھ ملخصا،
درمختار میں ہے نکاح میں عصبہ بنفسہٖ یعنی وہ مرد جس کی نسبت میں عورت واسطہ نہ بنے ، وراثت وحجب کی ترتیب پر ولی بنتے ہیں بشرطیکہ یہ حر، مکلف اور مسلمان ہوں جبکہ ان کی ولایت مسلمان لڑکی یا لڑکے کے لئے ہو، اوراگر عصبات بنفسہا نہ ہوں پھر والدہ کو، پھر دادی کو، پھر نانے کو، پھر اخت کو ولایت ہوگی الخ اھ ملخصا،
 (۱؎ درمختار    با ب الولی    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۳)
وفی ردالمحتار صرح فی الجوھرۃ بتقدیم الجدۃ علی الاخت، ونقل ذٰلک الشرنبلالی عن شرح النقایۃ للعلامۃ قاسم قال ولم یقید الجدۃ بکونھا لام اولاب اھ ، وفیہ عن الخیریۃ ان الجدۃ لاب اولی من الجدۃ لام قولا واحد افتحصل بعد الام ام الاب ثم ام الام ثم الجد الفاسد تامل اھ قال وما جزم بہ الرملی افتی بہ فی الحامدیۃ ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور ر دالمحتار میں ہے کہ جوہرہ میں جدہ کو بہن پر متقدم کرنے کی صراحت کی  ہے، شرنبلالی نے اس کو علامہ قاسم کی شرح نقایہ سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ جدہ کو سگی کی قید سے مقید نہیں کرسکتے اھ، اوراسی میں فتاوی خیریہ سے منقول ہے کہ دادی کا نانی سے مقدم ہونا ایک ہی قول ہے تو حاصل یہ ہوا کہ والدہ کے بعد دادی اور پھر نانی پھر نانا، غورکرو اھ، اورکہا کہ جس پر رملی نے خیریہ میں جزم کیا ہے اسی پر حامدیہ میں فتوی دیا ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار با ب الولی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۱۳۔ ۳۱۲)
مسئلہ ۳۲۳: از کلکتہ اسٹریٹ ۱۶۲ دھرم تلا مرسلہ حافظ عزیزالرحمن صاحب ۴ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی نابالغہ کا نکاح اس کے ماموں نے درصورت نہ ہونے والدہ اور چچا اور برادر اور دادا اس لڑکی کے بہ موجودگی والدہ کے کردیا تھا اب اس نے بحالت بلوغ اس نکاح کو منظور نہ کیا تو وہ نکاح باقی رہے گا یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب : اگر عورت کی نامنظوری اس بناپر ہے کہ ماموں نے جس کے ساتھ اس کا نکاح کیا وہ اس کا کفو نہیں یعنی اس سے قوم یا دین یا پیشہ وغیرہ امور معتبرہ میں ایسا گھٹاہوا جس سے نکاح اس کے لیے باعث ننگ وعار ہے یااس بناپر کہ ماموں نے اس کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہے جب تو وہ نکاح خود ہی باطل محض ہوا جسے خود شرع مطہر نکاح نہیں ٹھہراتی، عورت کو منظوری ونامنظوری کو کچھ دخل نہیں، اور اگر یہ دونوں وجہیں نہیں بلکہ کسی اور سبب سے نامنظور کرتی ہے تو اس صورت میں اگر عورت نے کہ بکر تھی بعدبلوغ خبرنکاح سنتے ہی یا پہلے سے معلوم تھا تو بالغہ ہوتے ہی فورا بلا توقف اختیاری نامنظوری ظاہر نہ کی تو نکاح لازم ہوگیا، اب عورت کو اصلا کوئی چارہ نہیں، اور اگر فی الفور آن بلوغ میں یا بعد بلوغ نکاح معلوم ہوا تو آن استماع خبر میں معا اپنی نامنظوری ظاہر کی توازانجا کہ نکاح غیر اَب وجَد کا کیا ہوا ہے عورت کو اختیار فسخ حاصل ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ بطور خود فسخ کردے اور اس کے حبالہ زوجیت سے باہر ہوجائے بلکہ یہ کہ حاکم شرع کے یہاں دعوی رجوع کرے، حاکم بعد تحقیقات امورمذکورہ نکاح فسخ کردے ،
درمختار میں ہے:
ان کان المزوج غیرالاب وابیہ لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ومن کفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ وشرط للکل القضاء وبطل خیار البکر بالسکوت لو مختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتد الی اٰخر المجلس وان جھلت ۱؎ اھ ملتقطا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اگر نابالغہ کا نکاح باپ اور دادا کے غیر نے کیا تو غیر کفو میں یا بہت کم مہر کے ساتھ کیا تونکاح بالکل نہ ہوگا۔ اور اگر کفو یامہر مثل سے کیا تو نکاح صحیح ہوگا، اور نابالغ لڑکی اور لڑکے کو نکاح کے فسخ کا اختیار ہوگا خواہ دخول کے بعد بلوغ یا نکاح کا علم ہوا ہو اس وقت فسخ کرسکتے ہیں، فسخ کی ان تمام صورتوں میں قضاء شرط ہے اور باکرہ بالغہ لڑکی کا سکوت اس کے خیار فسخ کو ختم کردیتا ہے جبکہ وہ اپنے نکاح سے باخبرہو اور اس سے اس کی اجازت طلب کی گئی ہو اگرچہ اس کو اپنے اختیار کے بارے میں علم نہ بھی ہو اور مجلس کے خاتمہ تک یہ اختیار باقی رہے گا، اھ، ملتقطا، واللہ سبحانہ وتعالٰی زیادہ علم والا ہے اوراس کا علم اتم واکمل ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۹۳۔ ۱۹۲)
Flag Counter