| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۳۲۱: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خاں صاحب ۱۵ شعبان ۱۳۱۱ھ
چہ می فرمایند علمائے اہل سنت وجماعت دریں مسئلہ کہ مسماۃ ہندہ ورثہ شرعیہ ندارد ونہ ازنطفہ زید مگر زید بسعی تام از ایام طفلی پرروش کردہ تابعمر دہ سالہ دررسیدہ و بہ سبب اطلاق پرورش زید ولی ہندہ ظاہر بعد زید منکوحہ زید نکاح ہندہ بہمراہ خیراتی خاں کردہ فرارشد وقتیکہ زید آمد برنکاحش وقوف یافتہ راضی نہ گشت درین صورت بدون اجازت زید نکاح ہندہ خورد سالہ درست ست یا نہ، بیان فرمایند بعبارت کتب، ورحمۃ اللہ علیکم اجمعین۔
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ نامی لڑکی جو زید کی اولاد نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی شرعی وارث ہے لیکن زید نے اس کی بچپن سے دس سال کی عمر تک پرورش کی۔ اس پرورش کی وجہ سے زید ہندہ کا ولی معلوم ہوتا ہے تو زید کی عدم موجودگی میں زید کی بیوی نے ہندہ کا نکاح خیراتی خاں سے کردیا، اور خیراتی خاں اس کے بعد بھاگ گیا، اب جب زید واپس آیا تو اس نے ہندہ کے نکاح کو ناپسند کیا اور راضی نہ ہوا، تو کیا مـذکورہ صورت میں ہندہ نابالغہ کا نکاح زید کی مرضی کے خلاف درست ہو ا یا نہیں؟ کتب کے حوالہ سے جواب دیا جائے۔ اللہ تعالٰی تم پر رحم فرمائے۔ (ت)
الجواب: اولا دیدہ باید کہ شخصے کہ زن زید ہندہ رابحبالہ نکاحش داد باہندہ کفایت دارد یانے، اگر ندارد مثلا در نسب یا حرفہ یاروش یا مذہب قصورے دارد کہ ہندہ رادرنکاحش آمدن نزد اہل عرف موجب عار باشد آنگاہ ایں نکاح باطل محض افتد کہ باجازت ہیچ کس روئے نفاذ نہ بیند تاآنکہ ہندہ اگر خویشتن بعد رسیدن اجازت کند ہم روئے نیابد زیرا کہ تزویج باغیر کفو جز پدر یا پدر پدر کہ دریں کاربسوء اختیار معروف نباشد ہیچ کس رانمی رسد کما نصوا علیہ قاطبۃ وفی جامع الصغار ولی غیر الاب والجدزوج الصغیرۃ من غیر کفوء فادرکت الصبیۃ فاجازت لایجوز ۱؎۔
پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ زید کی بیوی نے جس شخص سے ہندہ کانکاح کیا ہے وہ ہندہ کا ہم کفو ہے یا نہیں۔ اگر نہیں مثلا نسب، کردار، حرفہ یا مذہب میں ایسی کمی والا ہے کہ عرف میں اس کوعار سمجھا جاتاہے تو اس صورت میں یہ نکاح محض باطل ہے اور کسی کی اجازت حتی کہ ہندہ خود بالغ ہونے پر اس کو جائزنہیں کرسکتی، کیونکہ غیرکفو میں نابالغہ کانکاح کرنے کی ایسے باپ دادا جو سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں، کے بغیر کسی کو اجازت نہیں ہے، جیسا کہ تمام فقہائے تصریح کی ہے جامع صغار میں ہے باپ دادا کے غیر کسی ولی نے نابالغہ کا نکاح غیر کفو میں کردیا ہو تو لڑکی بالغ ہوکر خود بھی اس نکاح جائز نہیں کرسکتی ،
(۱؎ جامع احکام الصغار علٰی ہامش حاشیہ جامع الفصولین فی مسائل النکاح اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/۲۹)
واگر کفاءت داردآنگاہ دیدنی ست کہ ہندہ ہنگام نکاح ہیچ قریبے قریب یا بعید مردیازن از جانب پدریا مادر اگرچہ درغایت بعد ودوری می داشت یا نے، اگر می داشت پس ہماں کس ولی نکاح اوست نکاح مذکور براجازت آں ولی موقوف ست خودایں زید باشد یادیگرے اگر اجازت دہد جائز شود اگرردکند باطل گردد، واگر باہندہ ہیچ کس را از زندگان وقت نکاح قرابت نسبی نبودند زید نہ غیر اوراآنگاہ دردیار ماکہ زیرولایت ہیچ قاضی شرع وحاکم اسلام نیست نظرکردن ست اگر دراں شہر عالمے از علمائے دین کہ فقیہ وصاحب فتوی واعلم علمائے بلدباشد موجودست پس نکاح مذکور براجازت اوموقوف ست اگر اجازت دہد نافذ شود واگرردکند باطل کردد۔
اوراگر وہ شخص ہندہ کا ہم کفو تھا پھریہ دیکھنا ہوگا کہ ہندہ کا کوئی رشتہ دار مردیا عورت قریب یا بعید جو کہ کسی کی ولایت رکھتا ہو موجود ہے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ وہ جائز قرار دے تو جائز اگر رد کردے تو رد ہوجائے گا۔ وہ ولی زید ہو یا کوئی اورہو، اور اگر ہندہ کا کوئی بھی زندہ لوگوں میں سے نسبی ولی نہیں، نہ زید ہے نہ کوئی اور ہے، تو ایسی صورت میں جبکہ ہمارے ملک میں کوئی قاضی یا شرعی حاکم سرکاری طورپر مقرر نہیں ہے، اگر اس شہر میں کوئی ایسا عالم جو مفتی، فقیہ اور علاقہ کا بڑا عالم ہو موجود ہے تو نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگاکہ وہ اگر جائز کردے تو جائز اور اگر رد کردے تو رد ہوجائے گا،
فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ اذا خلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثر وافالمتبع اعلمھم ۱؎ واگر آنجا ہمچو عالمے نیز نباشد آنگاہ ایں نکاح اصلا انعقاد نہ یافت خود باطل محض ست لکونہ عقد فضولی صدر ولامجیز فی جامع الصغار ان کان فی موضع لایکون تحت ولایۃ قاض فانہ لاینعقد ۲؎ اھحدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے منقول ہے کہ جب زمانہ شرعی طورپر امور کو سرانجام دینے والے حاکم وقاضی سے خالی ہوتو یہ امور علماء کے سپرد ہوں گے اور امت پر لازم ہوگا کہ وہ ان علماء کی طرف رجوع کریں اور یہ علماء والی بن جائیں گے، اور اگر ایک عالم کی طرف سب کو رجوع مشکل ہو توہر علاقہ کے لوگ اپنے علاقہ کے عالم کی طرف رجوع کریں گے اور کسی علاقہ میں ایسے علماء کی تعداد زیادہ ہو تو پھر ان میں سے بڑے عالم کی اتباع کریں گے، اور اگر وہاں کوئی ایساعالم نہ ہو توپھر یہ نکاح اصلا منعقد نہ ہوگا اور خود بخود باطل ہوجائے گا کیونکہ یہ فضولی کا ایسا نکاح ہوگا جسے کوئی بھی جائز کرنے والا نہ ہے، جامع الصغار میں ہے کہ اگر ایسی جگہ ہو کہ وہاں کوئی سرکاری شرعی حاکم نہ ہو تونکاح منعقدنہ ہوگا اھ،
(۱؎ الحدیقہ الندیۃ النوع الثانی من الانواع الثلاثۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/۳۵۱) (۲؎ جامع احکام الصغار علی حاشیۃ جامع الفصولین فی مسائل النکاح اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/۲۹)
وفی ردالمحتار عن الفتح ما لامجیزلہ ای مالیس لہ من یقدر علی الاجازۃ یبطل کما اذا زوجہ الفضولی مجیزہ یتیمۃ فی دارالحرب اواذالم یکن سلطان ولاقاض لعدم من یقدر علی الامضاء حالۃ العقدفوقع باطلا ۱؎ اھ ملخصا بے قرابت بمجرد پرورش ولایت نکاح ثابت نہ شود فی جامع الصغار من یتولی صغیرا اوصغیرۃ لایملک تزویجھما ۲؎۔ پس دریں صورت اجازت و عدم اجازت زید چیزے نیست، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور ردالمحتار میں فتح سے منقول ہے کہ جہاں کوئی ایسا حاکم مجاز نہ ہوجو نکاح جائز کرسکے تو نکاح باطل ہوگا۔ جیساکہ کسی فضولی نے نابالغہ یتیم لڑکی کا نکاح دارالحرب میں کردیا، یا وہاں کہ جہاں کوئی سلطان وقاضی نہ ہو توایسی صورت میں نکاح باطل ہوجائے گا کیونکہ وہاں کوئی جائز کرنے والا نہیں ہے اھ ملخصا، زید کو محض پرورش کی وجہ سے ولایت حاصل نہ ہوگی، جامع الصغار میں ہے کہ کسی بچے یا بچی کی کفالت کرنے والا اس کے نکاح کا ولی نہیں بن سکتا لہذا مذکورہ صورت میں زید کی اجازت وعدم اجازت کوئی معنی نہیں رکھتی ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار با ب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۷) (۲؎ جامع احکام الصغار علی حاشیۃ جامع الفصولین فی مسائل النکاح اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/۳۲)