مسئلہ ۳۱۷: از پیلی بھیت ایضا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دختر ہندہ نابالغہ کا نکاح عمرو سے اس حالت میں کہ اوضاع واطوار عمرو موصوف کے درست تھے اپنی ولایت سے کردیا جب ہندہ مذکورہ رخصت کے زمانہ تک خود بلوغ کو پہنچی تو اس نے اپنے شوہر عمرو کو محرمات وممنوعات شرعیہ کا مرتکب اورمامورات و مشروعات کا محترز پاکر اپنے باپ زید کے فعل کو قبیح سمجھا اس تزویج کو ناجائز رکھا، پس صورت مسئولہ میں ہندہ کا عمرو سے عقد نکاح منعقد رہا یا فسخ ہوا؟ بینوا توجروا
الجواب:جب ہنگام تزویج عمرو میں کوئی امران بد اطواریوں سے نہ تھا بلکہ یہ باتیں اس نے بعد میں اختیار کیں تو عدم کفایت بعد نکاح حادث ہوئی اور ایسی عدم کفاءت اصلا مانع صحت نکاح نہیں خصوصاً تزویج پدر میں کہ آئندہ کا علم بندہ کی قدرت سے باہر ہے
ولا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا ۲ ؎
(اللہ تعالٰی کسی کو وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ت)
(۲؎ القرآن ۲/۲۸۶)
پس اس بناپر ہندہ کا ا س نکاح کو جائز رکھنا اصلا قابل سماعت نہیں۔ درمختار میں ہے:
والکفاءۃ اعتبارھا عند ابتداء العقد فلایضر زوالھا بعدہ ۳؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(
ابتداء نکاح کے وقت کفو کا اعتبار ہوتاہے لہذا بعد میں کفو کا زوال مضر نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۵)
مسئلہ ۳۱۸: ۲۳ رجب ۱۳۱۰ھ
بالغہ کا نکاح باپ خود کسی کفو سے کرے استیذان بالغہ ضرور ہے یا نہیں؟ نہیں تو مستحب و مسنون یامباح یاکوئی حاجت نہیں؟
الجواب: بالغہ پر ولایت نہیں، استیذان نفاذ نکاح کے لیے ضرورہے، اگر بے استیذان نکاح کردے گا نافذ نہ ہوگا بلکہ اجازت بالغہ پرموقوف رہے گا۔ اگرجائز کرے گی جائز ہوجائے گا۔ ردکرے گی ردہوجائے گا، کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیساکہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔ ت) باقی واجب نہیں کہ ترک پر گناہ ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۹: ۱۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کاباپ مفقود الخبر ہے اور اس کا کچھ پتا نہیں، اورہندہ کا ایک بھائی بالغ ہے جس کی عمر پندرہ برس کی ہے اور سبزہ آغاز ہندہ کا نکاح اس کی ماں اور اس کے بھائی نے کردیا، اس صورت میں یہ نکاح ہوایا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: صو رت مسئولہ میں جبکہ ہندہ نابالغہ ہے اوراس کا باپ مفقود الخبر ہے اورہندہ کے جوان بھائی نے اس کا نکاح کیا تو وہ نکاح ہوگیا بشرطیکہ جس شخص سے نکاح کیا ہو وہ اس کا کفو ہو اس کی قوم یا پیشہ یا مذہب وغیرہ میں کوئی بات ایسی نہ ہو کہ اس کے نکاح سے ہندہ کے اولیاء کو ننگ وعار آئے اور بشرطیکہ مہر میں ایسی کمی نہ کی گئی ہو جس کا تحمل لوگ نہ کرتے ہوں اور اگر ان باتوں میں سے ایک بات ہوگی یعنی اس شخص کے قوم یا مذہب یاپیشہ وغیرہ میں کوئی امر موجب ننگ وعار ہوگا یا مہر میں ایسی سخت کمی کی گئی ہو مثلا ہندہ کامہر مثل دس ہزار تھا اوربھائی نے پانچ ہزار پر نکاح کردیا تو ان صورتوں میں وہ نکاح اصلا نہ ہوا، والمسائل منصوص علیھا فی الدرالمختار وغیرہ (یہ مسائل درمختار وغیرہ میں منصوص ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۰: ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ نکاح دختر نابالغہ کا باوجود انکار دختر نابالغہ اور حیات ہوتے اس کے باپ کے ، بے اجازت اس کے باپ کے، اس کی ماں نے زید کے ساتھ کردیا، آیا شرعا یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ بینواتو جروا
الجواب: سائل مظہر کہ یہ نکاح مادر وبرادر بالغ نے بریلی میں کیا اور اس کا باپ کان پور میں موجود ہے جسے ہنوز اس نکاح کی اطلاع نہ ہوئی، اور جس لڑکے سے نکاح ہوا وہ اس کا کفو ہے، اگر یہ سب بیان واقعی ہیں تو دیکھا جائے گاکہ ناکح کفواس قدر انتظام پر راضی ہوسکتا تھا کہ باپ کو خط لکھا جائے اوراس کی اجازت منگائی جائے یا وہ اس پر راضی نہ ہوتا بلکہ اتنے انتظار پر نکاح ہی نہ کرتا اگر یہ پچھلی صورت فرض کی جائے جس کے وقوع کی امید بہت ہی ضعیف بلکہ کالمعدوم ہے کہ انتظار جواب میں یہ بات ہاتھ سے جاتی تھی تو نکاح نافذہوگیا بشرطیکہ مہر مثل میں کمی فاحش نہ کی گئی ہو او راگر ایسا نہ تھا بلکہ انتظار جواب کرلیتا اور غالب ایسا ہی ہے تو یہ نکاح بشرط مذکور اجازت پر موقوف ہے اگر جائز رکھے گا جائز ہوجائے گا اور باطل کردے گا تو باطل ہوجائے گا۔
فی الدرالمختار للولی الابعد التزویج بغیبۃ الاقرب واختار فی الملتقی مالم ینتظر الکفو الخاطب جوابہ واعتمدہ الباقانی ونقل ابن الکمال ان علیہ الفتوی ۱؎ا ھ مختصرا،
درمختار میں ہے اگر ولی اقرب اتنی مسافت پر ہے کہ رشتہ طلب کرنے والا ہم کفو وہاں سے جواب کا انتظار نہ کرتا تو ولی ابعد کو نکاح جائز ہے، اس پر باقانی نے اعتماد کیا اور ابن کمال نے نقل کیا ہے کہ اس پر فتوی ہے اھ مختصرا،
(۱؎ درمختار با ب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۴)
وفی ردالمحتار قال فی الذخیرۃ الاصح انہ اذا کان فی موضع لو انتظر حضورہ اواستطلاع رأیہ فات الکفو الذی حضر فالغیبۃ منقطعۃ والیہ اشار فی الکتاب وفی البحر المجتبٰی عن المبسوط انہ الاصح وفی النھایۃ اختارہ اکثرالمشائخ وصححہ ابن الفضل وفی الھدایۃ انہ اقرب الی الفقہ وفی الفتح انہ الاشبہ بالفقۃ وفی شرح الملتقی من الحقائق انہ اصح الاقاویل وعلیہ الفتوی وعلیہ مشی فی الاختیار والنقایۃ ویشیر کلام النھر الی اختیارہ وفی البحر والاحسن الافتاء بماعلیہ اکثر المشائخ۱؎ اھ مافی ردالمحتار قلت لاسیما فی ھذا الزمان فان العجلۃ الدخانیۃ قد جعلت مسافۃ القصر کمسافۃ ساعۃ واحدۃ بل اقل فوجب التعویل علی ماافتی بہ اکثرالمشائخ۔
اور ردالمحتار میں ہے ذخیرہ میں کہا اصح یہی ہے کہ اگر ولی اقرب اتنی مسافت پر ہوکہ رشتہ طلب کرنے والا ہم کفو وہاں سے جواب یا اس کی رائے حاصل کرنے کا انتظارنہیں کرتا تو غیبت منقطعہ قرارپائی گئی اور کتاب میں اسی کی طرف اشارہ ہے، اور بحر میں مجتبٰی کے حوالے سے مبسوط سے منقول ہے کہ یہ اصح ہے، اور نہایہ میں ہے کہ اکثر مشائخ نے اسے پسند کیاہے اور ابن فضل نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، اور ہدایہ میں ہے کہ یہ اقرب الی الفقہ ہے، اور فتح میں ہے کہ حق کے قریب ہے، اور ملتقی کی شرح میں حقائق سے منقول ہے کہ یہ تمام اقوال میں اصح ہے اور اس پر فتوی ہے، اور اختیاراور نقایہ میں اس کو قائم رکھا ہے، اور نہر کا کلام بھی اس کے مختار ہونے کی طرف اشارہ ہے، اور بحر میں ہے کہ جس پر مشائخ کا اعتمادہو اس پر فتوی باعث اطمینا ن ہے، درمختارکی عبارت ختم ہوئی، قلت خصوصا موجودہ زمانہ میں کہ جب ریل گاڑی نے مسافت قصر کوایک گھنٹہ کی مسافت بنادیا ہے بلکہ اس سے بھی کم کردیاہے لہذا جس پر اکثر مشائخ نے فتوی دیاہے یہی قابل اعتماد ہے۔ (ت)
۱؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۵)
یہ سب اس صورت میں کہ عورت کے مہرمثل میں کمی فاحش نہ ہوئی ہو مثلا مہر مثل سور وپے کا تھا ا س نکاح میں پچاس کا باندھا تو سر ے سے نکاح ہی نہ ہوا۔