مسئلہ ۳۱۵: از رائے پور علاقہ جے پور ڈاک خانہ ہنڈون مرسلہ منشی محمد فرزند حسن صاحب ۲۰ ذی قعدہ ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک طوائف قوم مسلمان نے جس کی عمر تخمیناً ۲۸ یا ۲۹ سال ہوگی زناکاری سے توبہ کرکے ایک شریف مسلمان سے اپنا نکاح کرلیا، اب اس کی نائکہ کہتی ہے کہ میں ولی ہوں بے میری اجازت کے نکاح جائز نہیں، اور زید کہتاہے کہ طوائف خود فعل مختار بالغہ ہے تیری اجازت کی حاجت نہیں، اور ولی واسطے ہدایت کار نیک کے ہوتاہے زناکے لیے ولی نہیں ، نابالغ کو ولی بھی فعل بد کرانے کا مختار نہیں، ایسی ولایت شرعا باطل ہے نائکہ کسی طرح ولی نہیں ہوسکتی، جو لونڈی اس نے حرام کی کمائی سے حرام کاری کے لیے خریدی وہ شرعاً لونڈی نہیں ہوسکتی بلکہ جو شرعا ایسی ولایت کادعوی کرے وہ قابل سزا ہے۔پس صحیح قول زید کا ہے یا نائکہ کا؟ بینوا تو جروا
الجواب:قول زید کا صحیح ہے اور نائکہ کا محض دعوی باطل وقبیح۔ ہندوستا ن میں جو بعض خدا ترس محتاج اپنی اولاد قحط وغیرہ میں بیچ ڈالتے ہیں شرعا یہ بیع کسی حالت میں جائز نہیں بلکہ باطل ومحض مہمل وبے معنی ہے وہ ہر گز لونڈی غلام نہیں ہوسکتی، نہ خریدنے والا ان کا مالک ہوسکتاہے نہ کسی وجہ سے استحقاق ان میں رکھتا ہے کہ حُر کی بیع محض باطل ہے،
مردار، خون اور آزاد کی خرید وفروخت باطل ہے کیونکہ یہ چیزیں مال نہیں ہیں اس لئے یہ بیع کا محل نہیں۔ (ت)
(۱؎ ہدایہ با ب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/۵۳)
ہدایہ میں ہے:
ۤالباطل لایفید ملک التصرف ۲؎۔
بیع باطل ملک تصرف کا فائدہ نہیں دیتی۔ (ت)
(۲؎ ہدایہ با ب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/۵۳)
اورجبکہ وہ عورت بالغہ ہے تو اپنی جان کا آپ اختیار رکھتی ہے، نکاح کہ اس نے بہ ہدایت الہٰی زناسے تائب ہوکر ایک شریف مسلمان سے کرلیا قطعا صحیح ولازم ہے جو کسی کے روکے رد نہیں ہوسکتا،
فتاوی عالمگیری میں ہے:
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلاولی ۳؎۔
حرہ عاقلہ بالغہ کا ولی کے بغیر اپنا نکاح صحیح ہے۔ (ت)
(۳؎ فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۷)
اسی میں ہے:
سئل شیخ الاسلام عطاء بن حمزۃ عن امرأۃ شافعیۃ بکر بالغۃ زوجت نفسھا من حنفی بغیر اذن ابیھا والاب لایرضٰی وردہ ھل یصح ھذا النکاح قال نعم ۴؎۔
شیخ الاسلام عطاء بن حمزہ سے ایک باکرہ بالغہ شافعی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے اپنا نکاح بغیر ولی ایک حنفی مرد سے خود کیا، والد کی اجازت اور مرضی نہ تھی، اوروالد نے اس کے نکاح کو ردکردیا، تو یہ نکاح صحیح ہوگا ؟ تو انھوں نے جواب فرمایا: ہاں صحیح ہے۔ (ت)
(۴؎ فتاوی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۷)
جب خود باپ کی نسبت یہ حکم ہے تو نائکہ کا دعوی کیا قابل التفات ہوسکتا ہے، یہ محض جہل ناسزا ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۶: از پیلی بھیت محلہ ملک احمد خاں مرسلہ حافظ بشیر احمد خاں صاحب ۱۵ رجب ۱۳۱۰ھ
جناب عالی ! گزار ش یہ ہے کہ ایک لڑکی کا نکاح نابالغی میں باپ کی ولایت سے ہوا اب وہ لڑکی بالغ ہوئی وہ اپنے باپ کے فعل کو ناپسند کرتی ہے ، باپ کی ولایت سے نکاح جائز ہے یا ناجائز ہے؟ فقط
الجواب:صورت مسئولہ میں حق جواب یہ ہے کہ باپ نے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح جس شخص سے کیا اگر وہ کفو یعنی دین و نسب وپیشہ ومال وغیرہ میں کوئی امرایسا نہیں رکھتا کہ اس سے تزویج باعث عارہو نہ دختر کے مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو تو وہ نکاح مطلقا صحیح نافذ ولازم ہے اگرچہ ناپسند کرے اگرچہ باپ اس سے پہلے معروف بسوئے اختیار ہوکہ اس نکاح میں اس کا حسن اختیار ظاہر تو پہلے کے سوء اختیار اس کی صحت میں مخل نہیں ہو سکتے یوں ہی اگر باپ وقت تزویج نشہ میں نہ تھا نہ اس سے پیشتر اپنی کسی قاصرہ کا نکاح غیر کفو سے اگرچہ مہر مثل میں کمی فاحش پر کرکے معروف بسوء اختیار ہوچکا تو بھی یہ نکاح صحیح ولازم اگرچہ غیر کفو سے ہو اگرچہ مہر مثل میں کمی فاحش کی ہو، ہاں اگر دونوں امر مجتمع ہیں یعنی اس نکاح میں کفاءت بمعنی مذکور نہیں یا مہر میں کمی فاحش ہے اور ہنگام تزویج نشہ میں یا پہلے سے معروف بسوء اختیار تھا تو اس صورت میں نابالغہ کا نکاح اگرچہ بولایت پدری ہے اصلا صحیح نہیں۔
درمختار میں بعدعبارت مذکورہ ہے:
وکذا لوکان سکران فزوجھا من فاسق او شریر اوفقیر اوذی حرفۃ دنیۃ الظھور سوء اختیارہ فلاتعارضہ شفقتہ المظنونۃ، بحر ۱؎۔
اور ایسے ہی اگرولی نے نشہ کی حالت میں فاسق یا شریر یا فقیر سے یا باعث ہتک کام والے سے نکاح کردے کیونکہ اس صورت میں اس ولی کا اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنا ثابت ہوچکا ہے اس کے مقابلہ میں اس کی شفقت جوکہ ظنی ہے معارض نہیں بن سکتی بحر (ت)
( ۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)
ردالمحتار میں ہے:
قلت ویقتضی التعلیل ان السکران او المعروف بسوء الاختیار لوزوجھا من کفوء بمھر المثل صح لعدم الضرر المحض (الی قولہ) وھذا مفقود فی السکران وسیئ الاختیار اذا خالف لظھور عدم رایہ وسوء اختیارہ فی ذلک انتھی ۱؎۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں کہ یہ عبارت تفصیل کو چاہتی ہے کہ اگر نشے والایا غلط اختیار کی شہرت والا اگر لڑکی کا نکاح کفو میں اور مہر مثل کے ساتھ کرے تو یہ نکاح صحیح ہے کیونکہ اس میں لڑکی کے لیے کوئی ضرر نہیں ہے (ان کاکلام یہاں تک ہوا) کہ عدم ضرر کی صورت میں اس نشے والے اور غلط اختیاروالےجنھوں نے غیر کفومیں نکاح کیا ہے میں نہیں پائی جاتی کیونکہ نشے والے کی رائے ظاہر نہ ہوئی اوردوسرے کا غلط اختیار اس معاملہ میں ظاہر ہوچکا ہے انتہی۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
( ۱؎ ردالمحتار با ب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۵)