مسئلہ ۳۱۴: ۷ صفر ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نکاح لڑکی نابالغ کا جس کی عمر قریب تین سال کے ہے، ساتھ عمرو نابالغ کے جس کی عمر قریب چار سال کے ہے ولایت مادر لڑکی کے جائزہے یا نہیں ؟ درحالیکہ باپ کے چار پانچ پشت کے لوگ چچا تاؤ وغیرہ موجود ہوں، اور اب بعد بالغ ہونے کے وہ لڑکی اس نکاح سے ناراض بھی ہے۔
الجواب:اگر وہ لڑکی جس سے اس نابالغہ کا نکاح ہو ا اس کا کفو نہ تھا یعنی قوم وروش ومذہب وغیرہا امور معتبرہ سے کسی بات میں بہ نسبت دختر ایسا نقص رکھتا تھا کہ اس دختر کا اس کے نکاح میں دیا جانا اولیاء دخترکے لئے باعث ننگ وعار ہو تو وہ نکاح سرے سے باطل واقع ہوا، یونہی اگر دختر کے مہرمثل میں کمی فاحش کردی گئی مثلا مہر مثل پچاس ہزار تھا اس نکاح میں پچیس ہزار بندھا تو بھی نکاح باطل محض ہوا، ان دونوں صورتوں میں بعد بلوغ اگر خود اجازت دے اور نکاح نہ صرف ماں بلکہ ان سب اولیاء نے مل کر کیا ہو جب بھی صحیح نہیں ہوسکتا کہ نابالغہ کے ایسے نکاح کرنے کا باپ دادا کے سوا کسی کو اختیارنہیں۔
درمختار میں ہے:
ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولو الام والقاضی لایصح النکاح من غیر کفو او بغبن فاحش اصلا ۱؎ (ملخصاً)
اگر غیر باپ اور دادا نے غیر کفو یا مہر میں فحش کمی کے ساتھ نکاح کیا تو بالکل نکاح جائزہوگا خواہ وہ غیروالدہ ہو یا قاضی ہو۔ ملخصاً (ت)
( ۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)
ردالمحتار میں ہے:
فی الفتح القدیر لوکبرت واجازت لایصح لانہ لم یکن عقد اموقوفا اذلامجیزلہ ۲؎۔
فتح القدیر میں ہے کہ اگر وہ نابالغہ لڑکی بالغ ہو اس غیرکے نکاح مذکورہ کو جائز بھی کردے تو جائزنہ ہوگا کیونکہ وہ نکاح کی اجازت دینے والے کی اجازت پر موقوف نہ تھا۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۵)
اور اگر نہ لڑکا ایسا تھا نہ مہر مثل میں اس طرح کی کمی تو صحیح ہوگیا مگر از انجا کہ یک جدی مردوں میں سے جب تک کوئی موجود ہو ماں کو ولایت نکاح نہیں ہوتی بلکہ ان میں جو درباب وراثت مقدم ہو وہی ولی ہوتاہے
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام ۳؎۔
درمختار میں ہے نکاح کا ولی وراثت کے استحقاق وحجب کی ترتیب پر عصبات ہیں، اوراگر عصبہ بنفسہٖ نہ ہو تو پھر والدہ کو ولایت ہوگی۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
لہذا یہ نکاح اس ولی کی بے اجازت صرف ماں نے کردیا تو نکاح فضولی ہوا اور اجازت ولی پر موقوف رہا، اگر اس نے خبر سن کر رد کردیا مثلا کہا کہ میں اس نکاح کو جائز نہیں رکھتا یا رد کرتاہوں یا میں راضی نہیں یاا س کے مثل اور الفاظ، تو رد ہوگیا، اب دختر کی رضامندی وناراضی کا بھی اعتبار نہیں کہ سرے سے نکاح باقی ہی نہ رہا، اور اگر ابتداءً باجازتِ ولی واقع ہوا یا تزویج مادر کے بعد ولی نے اجازت دے دی تھی مثلا کہا بہتر ہوا یا میں نے پسند کیا یا مجھے منظور یا ان کے مانند اور کلمات، تونکاح نافذ ہوگیا۔
فی الدرالمختار لو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۱؎۔
درمختار میں ہے اگر بعید ولی نے اقرب ولی کے ہوتے ہو ئے نکاح کردیا تو یہ نکاح ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۴)
پھر بھی ازانجا کہ مزوج غیر اَب وجَد اور دختر دوشیزہ ہے اسے اتنا اختیار دیا جائے گا کہ پہلے سے نکاح کی خبر رکھتی ہو تو اپنے بالغ ہوتے ہی اور بعد بلوغ اطلاع پائے تو خبر سنتے ہی فوراً بے وقفہ کہہ سکتی ہے کہ میں اس نکاح سے راضی نہیں یا میں نے ا سے فسخ کردیا یا مجھے ناپسند ہے یااس کے مثل اور کوئی امر کہ دلیل ناراضی ہو۔ پس اگر بلوغ یا اطلاع پر فی الفور ا س نے یہ ناراضی ظاہر کی تو اسے اجازت دی جائے گی کہ قاضی کے حضور دعوی کرکے فسخ کرالے، اور اگر ایک لمحہ بھی بے عذر سکوت کیا یا کسی دوسرے کام یا کلام میں مشغول ہوئی تو اب وہ نکاح لازم ہوگیا، اس کے بعد اظہار ناراضی کچھ بکارآمد نہیں۔
درمختارمیں ہے:
وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولکن لھما ای لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ بالنکاح ولایمتد الٰی اٰخر المجلس ۲؎ (ملخصا)
اگر کفو اور مہر مثل کے ساتھ نکاح کیا تو صحیح ہے لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بلوغ پر یابلوغ کے بعدجب علم نکاح ہو فسخ کا اختیار ہوگا لیکن فسخ قاضی کے حکم سے ہوگا۔ اگر باکرہ بالغہ اپنے نکاح کا علم ہونے پر خاموش رہی تو اس کو فسخ کا اختیار نہ رہے گا اور نکاح کے علم والی مجلس کے آخر تک یہ اختیار باقی نہ رہے گا (ملخصاً)۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۳۔ ۱۹۲)
اور اگر وہ نکاح نہ ابتداءً اجازت ولی سے ہوا نہ زمانہ نابالغی دختر میں ولی نے اجازت دی نہ ردکیا بلکہ اسے خبر ہی نہ ہوئی یا بعد خبر سکوت محض کیا یہاں تک کہ دختر بالغہ ہوئی تو اب وہ خود اجازت دختر پر موقوف ہوا، پس اگر دختر نے اس اظہار ناراضی سے پہلے بعد بلوغ کوئی کلمہ اجازت کہا یا دلالۃً اس کے کسی فعل یا حال سے رضامندی ثابت ہوئی تھی، مثلا بالغ ہونے پر شوہر کے پاس گئی یا اس سے کوئی برتاؤ زن وشوئی کا کیا یا کسی نے فلان کی دلہن کہہ کرپکار ا اس نے جواب دیا تو نکاح لازم ہوگیا اب ناراضی محض بے سود ہے اور اگر ہنوزقول یا فعل یا حال سے رضا ثابت نہ ہونے پائی تھی کہ اس نے ایسی ناراضی ظاہر کی جس سے ردنکاح مفہوم ہو اتو بے شک نکاح باطل ہوگیا۔
فی فتح القدیر یتوقف علی اجازۃ الولی فی حالۃ الصغر فلوبلغ قبل ان یخبرہ الولی فاجازہ بنفسہ نفذ لانھا کانت متوقفۃ ولاینفذ بمجرد بلوغہ ۱؎۔
فتح القدیر میں ہے نابالغ کے نکاح کا جواز ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا، اور اگر ولی کی طرف سے اطلاع سے قبل خود بالغ ہوگیا اوراس نے اپنے نکاح کو جائز کردیا تو جائز اور نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ اجازت پر موقوف تھا اور اجازت کے بغیر محض بلوغ سے نافذ نہ ہوگا۔ (ت)
( ۱؎ فتح القدیر فصل فی الوکالۃ بالنکاح مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۹۸)
مستفتی ان سب صورتوں کو سمجھ کر جو صورت واقعہ ہو اس کے حکم پر عمل کرے، واللہ تعالٰی اعلم۔