Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
159 - 1581
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واذنھا صماتھا ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ (ت)
 (۳؎ المعجم الکبیر للطبرانی    حدیث ۱۰۷۴۶         ۱۰/۳۷۳)
ورنہ نکاح فضولی ہوا کہ قولاً یا فعلاً ردکردے تو رد ہوجائے اور قولاً یا فعلاً یا سکوتاً اجازت دے تو جائز ہوجائے ردقولی یہ کہ خبر نکاح سن کر صاف کہے میں نے ردکیا یا مجھے منظورنہیں یا میں نکاح کرنا ہی نہیں چاہتی یا اور کوئی کلمہ ان کے مثل اور رد فعلی یہ کہ مثلا ہاتھ ہلا دے کہ میں راضی نہیں یا اور کوئی حرکت ایسی کرے جس سے اس نکاح سے حقیقۃً نفرت وناراضی ظاہر ہو اور اجازتِ قولی یہ کہ میں راضی ہوئی یا مجھے پسند ہے یاخدا مبارک کرے یا بہتر ہوا، یا اس کی مثل اور الفاظ، اوراجازتِ فعلی مثلا بلاجبر واکراہ شوہر کے یہاں رخصت ہوکر جانا یا خلوت میں اپنے پاس اسے آنے دینا یا اس سے مہر یا نفقہ طلب کرنا یا اور کوئی فعل کہ دلیل رضامندی ہو، اور اجازتِ سکوتی یہ کہ خود ولی یا اس کا رسول یا ایک ثقہ پر ہیز گار یعنی جس کی عدالت وو ثاقت معلوم ہو یا دومستور الحال یعنی جن کا کوئی فسق نہ معلوم ہو نکاح ہوجانے کی عورت کو خبر دیں اوروہ شوہر کو پہچانتی ہو اور غیر اَب وجَد نے نکاح کیا ہو مہر میں کمی فاحش نہ کی ہو اور شوہر اس کا کفو بھی ہویعنی اس کے دین یا نسب یا پیشہ وغیرہا میں کوئی بات ایسی نہ ہوجس کے باعث اس سے نکاح اس کے اولیاء کے حق میں عارہو اس صورت میں عورت خبر سن کر خاموش رہے تویہ خاموشی بھی اجازت تصور کی جائے گی، غرض یہ پانچ صورتیں ہیں دو رد کی کہ ان کے وقوع سے نکاح باطل ہوجائے گا اور تین اجازت کی کہ ان کے وقوع سے نفاذ پائے گا، اور جب تک ان پانچ میں سے کوئی صورت واقع نہ ہو بدستور موقوف رہے گا جب تک کہ ان میں سے ایک واقع ہو مثلاً ہنوز عورت کو نکاح کی خبر ہی نہ ہوئی یا خبر دواجنبی فاسقوں یا ایک اجنبی مستورالحال نے دی اور عورت خاموش رہی یا خود ولی خواہ اس کے فرستادہ نے اطلاع دی، مگر عورت شوہر کو نہ پہچانتی تھی مگر جس سے اَب وجَد کے سوا اور ولی نے نکاح کردیا وہ کفو تھا یامہر مثل سےکمی فاحش کی تھی، توان سب صورتوں میں یہ خاموشی نہ اجازت ہوگی نہ رد، بلکہ عورت کو اختیار ہے گا چاہے جائز کردے خواہ باطل۔
اتقن ھذا التحریر فانک لاتجدہ بھذا التحبیر فی غیر ھذا التقریر والحمد ﷲ الھادی القدیر۔
اس تقریر کومحفوظ کرلو کہ اس مہارت سے کسی دوسری تقریر میں نہ پاؤگے، تمام محامد اللہ تعالٰی ہادی اکمل کے لئے ہیں۔ (ت)
درمختار میں ہے:
لو بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ولذا استحسنوا التجدید عندالزفاف لان الغالب اظھار النفرۃ عند فجأۃ السماع ۱؎ اھ
اگر لڑکی کو نکاح کی خبر پہنچی تو اسے رد کردیا پھر کہتی ہے میں راضی ہوں تو اس سے وہ نکاح جائز نہ ہوگا کیونکہ رد کردینے پر وہ باطل ہوچکا ہے، اسی وجہ سے فقہاء نے فرمایا کہ (جب لڑکی سے پہلے اجازت لئے بغیر نکاح کیا ہو جس کو وہ بعد میں جائز قرار دے) ایسی صورت میں بہتر ہے کہ زفاف کے وقت نکاح کی تجدید کرلی جائے کیونکہ عام طور پر ایسی صورت میں اچانک نکاح کے متعلق سن کر لڑکی  نفرت کا اظہار کردیتی ہے اھ،
 (۱؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۲)
قال ط ای فیحتمل انھا نفرت من النکاح عند اعلامھا بہ فیبطل العقد ولایلحقہ الرضا ۲؎ اھ
طحطاوی نے فرمایا کہ اس احتمال کی بناپر کہ نکاح باطل کی خبر پاکر لڑکی نے بطور نفرت ردکردیا ہو تو نکاح باطل ہوجائے گا جو بعد میں اظہار رضامندی سے جائز نہ ہوگا اھ
 (۲؎حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار        باب الولی      دارالمعرفۃ بیروت         ۲/۲۹)
قلت فاذا تبین ذلک کان ردا محققا کمالا یخفی وفی الدر ایضا زوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ او فضولی عدل فسکتت فھو اذن ای اجازۃ ان علمت بالزوج ۱؎ اھ (ملخصاً)
قلت: اگریہ بات ثابت ہوجائے تو پھر یقینی طورپر وہ نکاح مردود ہوگا جیسا کہ واضح ہے۔ اور در میں یہ بھی ہے کہ ولی نے لڑکی کا نکاح کیا جس کی اطلاع ولی کے قاصد یا کسی اجنبی عادل شخص نے لڑکی کودی تو لڑکی نے خاموشی اختیار کی تویہ اجازت ہوگی بشرطیکہ اس کو خاوند کا علم ہوچکا ہو اھ
 (۱؎ درمختار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۱)
قال الشامی الشرط فی الفضولی العدالۃ اوالعدد فیکفی اخبار واحد عدل او مستورین ۲؎ الخ
شامی نے کہا کہ فضولی کی خبر میں عدالت یا عدد (دو ۲) ہونا شرط ہے اس لئے ایک عادل یا دومستورالحال حضرات کافی ہیں۔ (۲؎ ردالمحتار         باب الولی       داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۹۹)
قال فی الدر فان استأذنھا غیر الاقرب فلا بد من القول کالثیب او ماھو فی معناہ من فعل یدل علی الرضا کطلب مھرھا ونفقتھا ودخولہ بھا برضاھا وقبول التھنئۃ ونحو ذلک ۳؎ اھ ملخصا۔
در میں فرمایا کہ بالغہ لڑکی سے ولی اقرب کے غیر نے اجازت طلب کی ہو تو ضروری ہے کہ لڑکی قولی یا فعلی طورپر جواب دے جس سے اس کی رضا معلوم ہوسکے، مثلا مہر طلب کرے یا نفقہ طلب کرے یا مبارکباد قبول کرے یاخاوند کو اپنے پاس آنے کی اجازت دے دے وغیرہ، جیساکہ ثیبہ  یا اس جیسی عورت کے لئے ضروری ہوتاہے اھ ملخصا۔
 (۳؎ درمختار      باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۲)
وفی ردالمحتار عن البحر عن الظھیریۃ لوخلابھا برضاھا عندی ان ھذا اجازۃ اھ وفی البزازیہ الظاھرانہ اجازۃ ۴؎ اھ
ردالمحتار میں بحر کے حوالے سے ظہیریہ سے منقول ہے اگرلڑکی نے رضامندی سے خاوند کے ساتھ خلوت کرلی تو میرے نزدیک یہ اجازت ہے اھ ، اور بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہے،
 (۴؎ ردالمحتار        باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۰۱)
قلت وتمام الکلام علی الافعال التی تدل علی الرضا فی فتاوٰنا ثم فی الشامیۃ فی البحر اختلف فیما اذا زوجہا غیر کفو فبلغھا فسکتت فقال لایکون رضا وقیل فی قول ابی حنیفۃ یکون رضا ان کان المزوج ابااوجدا وان کان غیرھما فلاکما فی الخانیہ اخذا من مسئلۃ الصغیرۃ المزوجۃ من غیر کفو اھ قال فی النھر وجزم فی الدرایۃ بالاول بلفظ قالوا ۱؎ اھ مافی الشامی
قلت: ان تمام افعال جو رضامندی پر دلالت کرتے ہیں، کوہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے، پھر شامی میں ہے  کہ بحر میں ہے اگر ولی نے بالغہ عاقلہ کو غیر کفو میں نکاح کردیا تو اس وقت اجازت طلب کرنے پر یا معلوم ہونے پر لڑکی خاموش رہے تو کیا یہ اجازت ہوگی یا نہیں۔ اس میں اختلاف ہے ، بحر نے کہا کہ رضانہ ہوگی، بعض نے کہا کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایک قول کے مطابق اگر نکاح کرنے والا ولی باپ یا دادا ہو تو سکوت اجازت قرار پائیگی ورنہ نہیں، جیساکہ خانیہ میں اس مسئلہ کو نابالغہ کو غیرکفو میں نکاح کردینے کے مسئلہ سے اخذ کیا ہے اھ نہر میں کہا کہ درایہ میں اس پر ''قالوا'' کے لفظ کہہ کر پہلے قول پر جزم کیا ہے، شامی کی عبارت ختم ہوئی،
(۱؎ ردالمحتار    باب الولی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۲۹۹)
قلت وقدمہ فی الخانیۃ وھولا یقدم الا الاظھر الاشعر لکن قالوا یؤتی بہ للتبری وقد علل فی الخانیۃ للقول الثانی بتعلیل جلیل والتعلیل دلیل التعویل ونص فی المحیط والمبسوط وجامع قاضی خاں ثم الکافی شرح الھدایۃ ثم الشلبی علی التبیین انہ قول الامام وقد صحح فی الکفایۃ والکافی و الدرایۃ والدر التفرقۃ بین الاب والجد وغیرھما بناء علی مذہب الامام رضی اﷲ تعالٰی۔
قلت:خانیہ میں اس کو مقدم ذکر کیا ہے اور وہ زیادہ ظاہر اور مشہور قول کو مقدم ذکر کرتے ہیں لیکن علماء نے فرمایا کہ یہاں خانیہ کا اس کو مقدم ذکر کرنا اس سے فراغت کے طور پر ہے ورنہ انھوں نے دوسرے قول کی مضبوط دلیل ذکرکی ہے جبکہ دلیل کو ذکرکرنا اعتماد کی دلیل ہے، محیط،مبسوط، جامع قاضی خاں پھر کافی شرح ہدایہ میں پھر تبیین کے حاشیہ میں اس کو امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول بتایا ہے، اور کفایہ، کافی، درایہ، درر میں اس دوسرے قول کی تصحیح کی گئی ہے کیونکہ امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب میں باپ دادا اور غیر کے اقدام میں فرق ہے۔(ت) 

اور بے اذن لیے ولی کا نکاح کردینا اگرچہ خلاف سنت ہے مگر گناہ نہیں، یوں ہی نکاح پڑھانے والے پر کوئی الزام نہیں کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter