مسئلہ ۳۱۲: ۱۶ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی ایک لڑکی نابالغہ کہ جس کی عمر گیارہ برس کی ہے اورا س کی ماں مرچکی ہے اور باپ اس کا گوالیار میں نوکرہے، نانا اس لڑکی کاباپ کی غیبت میں لڑکی کو اپنے یہاں لے گیا اور بلا مشورہ باپ کے اس کا نکاح ایک رافضی سے کردینا چاہتاہے، جب باپ کو اطلاع ہوئی آیا اور نانا کو ممانعت کی کہ میں ایسی تقریب ہرگز روا نہیں رکھتا بلکہ اس مضمون کا اس نے نوٹس بھی دے دیا ہے مگر وہ اپنے ارادہ سے باز نہیں رہتا ہے لڑکی کو روک رکھا ہے اور لڑکی اوراس کا باپ سب سنی ہیں اس صور ت میں اگر نانا اس نابالغہ کا نکاح باوجود ممانعت پدر کے اس رافضی سے کردے گا تو صحیح ہو گا یا نہیں؟ اور نانا کو لڑکی کے اپنے پاس بٹھارکھنے اورباپ سے روکنے کا اختیار ہے یا نہیں؟
الجواب: باپ کے ہوتے نانا کوئی چیز نہیں، نہ بے اس کی اجازت کے وہ نکاح کردینے کا مختار، یہاں تک کہ اگر نانا بے اجازت پدر اس نابالغہ کا کسی سنی سے نکاح کردے گا اور باپ روانہ رکھے گا تووہ نکاح باطل ہے نہ کہ رافضی کہ آج کل عموما مرتدین ہیں اور ان سے سنیہ عورت کا نکاح اصلاً صحیح نہیں، علاوہ بریں اس قدر میں تو شک نہیں کہ رافضی سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور غیر کفو سے جو نکاح باپ دادا کے سوا دوسرا کردے گا ہر گز صحیح نہ ہوگا، نہ کہ باپ کی صریح ممانعت کی حالت میں یہ نکاح کیا جائے، یہ کیونکر وجہ صحت رکھے گا، پس یقینا یہ نا نا کا محض ظلم ہے۔ اگر وہ ایساکرے گا تو ہر گز نکاح نافذ نہ ہوگا بلکہ باطل ہوگا اورلڑکی نو برس کی عمر سے باپ ہی کے پاس رہے گی، اگر ماں ہوتی تو وہ بھی نوبرس کے بعد اپنے پاس نہ رکھ سکتی نہ کہ نانا، یہ سب ظلم وتعدی ہے ____
تنویر الابصار میں ہے:
الولی فی النکاح العصبۃ بلا توسط انثی علی ترتیب الارث والحجب ۱؎۔
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہ یعنی وہ مرد شخص جس کی نسبت میں عورت کا واسطہ نہ ہو، یہ ولی وراثت کی ترتیب اور ایک دوسرے کے لیے مانع ہونے کی ترتیب سے ہوں گے۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ۱؎۔
اگر قریب ولی کی موجودگی میں بعید ولی نے نکاح کردیا تو وہ نکاح قریب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الولی مطبع مجتائی دہلی ۱/۱۹۴)
اسی میں ہے:
ۤ ان کان المزوج غیرھما ای الاب وابیہ ولو الام لایصح من غیر کفو اصلا ۲؎۔ (ملخصا)
اگر باپ اور دادا کے غیر نے خواہ والدہ ہی ہونکاح کیا تو غیر کفو میں بالکل جائز نہ ہوگا (ملخصاً)۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الولی مطبع مجتائی دہلی ۱/۱۹۲)
اسی میں ہے:
لیس فاسق کفو الصالحۃ اوفاسقۃ بنت صالح نھر۳؎ انتہی ملخصا۔
صالحہ لڑکی یا صالح مرد کی فاسقہ لڑکی کے لیے فاسق شخص کفو نہیں ہے۔ نہر اھ ملخصا (ت)
(۳؎ درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتائی دہلی ۱/۱۹۵)
ردالمحتامیں ہے:
قولہ اصلا ای لالازما ولا موقوفا علی الرضاع بعدالبلوغ ۴؎۔
اس کا قول اصلا یعنی وہ نکاح نہ لازم اور نہ موقوف ہوتا ہے کہ بلوغ کے بعد رضاپر صحیح ہوجائے ۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۵)
والدہ اور دادی / نانی لڑکی کو پرورش میں لینے کی زیادہ حقدار ہیں یہ حق لڑکی کے بلوغ تک ہے اور بعض نے نو سال تک کہا یہی مفتی بہ ہے (ملخصاً) ۔ (ت)
(۵؎ ردالمحتار باب الحضانۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۶۵)
مسئلہ ۳۱۳: یکم شعبان ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین او رمفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ باکرہ تھی اس کے ولی نے اپنی اجازت سے اس کا نکاح زید کے ساتھ کردیا، ہندہ کو معلوم تھاکہ میرا نکاح زید کے ساتھ ہوگا لیکن اس نے خاص اجازت اپنی زبان سے نہیں دی اور نہ انکار کیا، اس صورت میں ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ جائز ہوگیا یانہیں؟ اگر نہیں ہوا تو ولی اور نکاح پڑھانے والے پر کیا کفارہ ہوگا۔ بینوا تو جروا۔
الجواب :اصل یہ ہے کہ زن بالغہ پر کسی کی ولایت جبریہ نہیں اور اس سے پیش از نکاح اذن لینا مسنون ہے اگر بے اذن لئے نکاح کیا جائے تو وہ نکاح نکاح فضولی ہے کہ اجازت زن پر موقوف رہے گا۔ اگر جائز رکھے جائز ہوجائے اور رد کردے تو باطل ،۔ مگر زن دوشیزہ کا سکوت بھی اذن ہوتاہے جبکہ خود ولی اقرب یا اس کا وکیل یا فرستادہ نکاح کرنے کا اس سے اذن لے بشرطیکہ جس کے ساتھ نکاح کا اذن لیا گیا عورت اسے پہچانتی بھی ہو اور بغیر استیذان ولی کے مجرد اس جاننے پر کہ میرا نکاح فلاں کے ساتھ کیاجائے گا خاموش رہنا اذن نہیں کہ اذن وعلم میں زمین وآسمان کافرق ہے یہاں تک کہ اگر ولی اقرب کے ہوتے ولی ابعد اذن لے اوردوشیزہ سکوت کرے تاہم یہ سکوت اذن نہ ٹھہرے گا، توجہاں اصلا استیذان نہ ہومجرد واقفیت پر خاموشی کیونکر اذن ہوسکتی ہے،
درمختارمیں ہے:
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ فان استاذنھا ھو ای الولی وھو السنۃ اووکیلہ اورسولہ فسکتت عن ردہ مختارۃ فھو اذن ای توکیل ان علمت بالزوج لتظھر الرغبۃ فیہ اوعنہ ولوفی ضمن العام کجیرانی اوبنی عمی لویحصون والا لا فان استاذنھا غیر الاقرب کاجنبی او ولی بعید فلا عبرۃ بسکوتھا ۱؎ اھ ملخصا
باکرہ بالغہ کو نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر اس پر کسی کی ولایت نہیں رہی، تو اگر اس سے اس کا ولی اجازت طلب کرے اوریہ سنت ہے ،یا ولی کا وکیل یا اس کاقاصد اجازت طلب کرے اور لڑکی اپنے اختیار کے باوجود خاموش رہے تو یہ وکالت کی منظوری تصور ہوگی، بشرطیکہ اس کے ہونے والے خاوند کا اس کو علم ہو تا کہ پسند یاناپسند کرسکے، خاوند کا علم شخصی طورپر ضروری نہیں عمومی طور پر بھی مثلاً یہ کہ پڑوسی ہے یا چچا زادوں میں سے ہے کافی ہے، جن کو وہ جانتی ہو، اگر خاوند کا علم بالکل نہ ہوسکے تو پھر یہ سکوت رضامندی نہ قرار پائیگا، اگر ولی اقرب کی بجائے ولی بعید یا اجنبی نے بالغہ سے اجازت طلب کی تواس وقت سکوت کو اجازت نہ قرار دیا جائے گا اھ ملخصا۔
(۱؎ درمختار باب فی الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۲۔ ۱۹۱)
وفی ردالمحتار عن البحر عن المحیط ان زوجھا بغیر استئمار فقد اخطأ السنۃ وتوقف علی رضاھا۱؎ اھ وفیہ (قولہ لایحصون) عبارۃ الفتح وھم محصورون معروفون لہا۲؎ اھ۔
ردالمحتار میں بحر اور اس میں محیط کے حوالے سے کہ اگر ولی نے بالغہ کے مشورہ اوراجازت کے بغیر نکاح کردیا تو لڑکی کی رضا مندی پر موقوف ہوگا اھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ درمختار کا قول ''لا یحصون'' کا مطلب فتح کی عبارت میں یہ ہے کہ لڑکی کے ہاں معروف ومحدود ہوں اھ۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۹۹۔ ۲۹۸)
(۲؎ درمختار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۰)
پس صورت مستفسرہ میں اگر ولی اقرب نے بروجہ مذکور ہندہ سے اذن لیااور اس نے سکوت کیا تھا جب تو یہ نکاح خودہی جائز و نافذ ہوا کہ کنواریوں کا زبان سے صراحۃً اذن دینا ضرور نہیں۔