Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
157 - 1581
مسئلہ ۳۱۰: ۱۹ ذی قعدہ ۱۳۰۶ھ از چھاؤنی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ بعد بیوہ ہوجانے کے اپنا نکاح ایسے شخص سےچاہتی ہے جس سے اس کے ماں باپ ہندہ سے اس امر پر راضی نہیں اب اگر ہندہ ناراضی والدین گوارا کرکے اپنا نکاح کرلے تو آیا یہ نکاح شرعا درست ہوگا یا نادرست؟ بینوا تو جروا
الجواب : اگر وہ شخص جس سے ہندہ بہ ناراضی پدر اپنا نکاح بطور خود کیاچاہتی ہے ہندہ کا کفو ہے یعنی اس کی قوم یا پیشہ یا مذہب وغیرہا میں بہ نسبت ہندہ کے کوئی ایسا قصور وعیب نہیں جس کی وجہ سے ہندہ کا اس کی مناکحت میں آنا پدرہندہ کے لئے موجب عار ہو تو بلاشبہ نکاح صحیح ودرست ہوجائے گا اور والدین کی ناراضی اگرچہ ہندہ کو نقصان کرے مگر جواز نکاح میں خلل نہ آئے گا۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الایم احق بنفسھا من ولیھا۱؎ رواہ الائمۃ مالک واحمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وغیرھم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بالغ لڑکی اپنے ولی کے مقابلہ میں اپنے بارے میں فیصلہ کی زیادہ حقدار ہے، اس کو امام احمد ، مالک، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ وغیرہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
(۱؂صحیح مسلم               کتاب النکاح             قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۴۵۵)

(سنن ابی داؤد              فصل فی الثیب                آفتاب عالم پریس لاہور             ۱/ ۲۸۶ )
درمختار میں ہے:
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا ۲؎ (ملخصاً) واﷲ تعالٰی اعلم۔
عاقلہ بالغہ حرہ عورت کا اپنا نکاح ولی کی رضامندی کے بغیر بھی جائز ہے، اور غیر کفو میں کیا تو بالکل ناجائز ہونے کا فتوی دیا جائے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ الدرالمختار        باب الولی        مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۱)
مسئلہ ۳۱۱: ۵ ذی الحجہ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور زید کی اہلیہ  نے انتقال کیا، دوبیٹیاں چھوڑیں، اورلڑکیوں کا کوئی وارث سوا ایک ماموں حقیقی کے کوئی نہ تھا، ماموں نے ایک لڑکی جس کی عمر تخمیناً سات برس کی تھی اس کانکاح اپنے بیٹے کے ساتھ کردیا جس کو اب عرصہ آٹھ برس کا ہوا، اور دوسری بڑی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کردیا، اب بڑی دختر باغوا اپنے شوہر کے اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو بہکاتی ہے کہ تو کہہ دے کہ میری نابالغی میں نکاح ہواہے میں راضی نہیں ہوں تو میں تیرا نکاح اپنے دیور سے کرادوں گی، چنانچہ چھوٹی لڑکی اب اپنے ماموں سے کلمات ناراضی بیان کرتی ہے، اس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ـ بینوا تو جروا
الجواب : سائل اظہار کرتاہے کہ اس چھوٹی لڑکی کو بالغہ ہوئے سال بھر  گزرا اور اسے نکاح کی خبر کئی برس سے ہے اور یہ کلمات ناراضی اس نے کوئی دومہینے سے کہنے شروع کئے ہیں، اگر یہ بیان واقعی ہے تو وہ نکاح لازم ہوگیا اور عورت کو حق اعتراض اصلا نہ رہا جبکہ اسے پہلے سے نکاح پر اطلاع تھی، تو جس آن میں بالغہ ہوئی فوراً اسی آن میں اگر ناراضی ظاہر کردیتی تو اسے حق اعتراض رہتا یہاں تک کہ اگر بالغہ ہوکر ایک لمحہ کو بھی دوسرے کام یا دوسری بات میں مصروف رہی تو اب اعتراض کا اختیار نہیں رکھتی، یہاں توجوان ہونے پر کئی مہینے بعد اس نے اعتراض شروع کیا ہے، یہ اصلاً قابل قبول نہیں۔ عورت پر فرض ہے کہ اس جہالت سے باز آئے اور اس کی بہن پر فرض کہ پرائی زوجہ کو اغوانہ کرے ورنہ سوا گناہ کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار بطل خیار البکر بالسکوت لوعالمۃ بالنکاح ولایمتد الی اٰخر المجلس ۱؎ اھ ملخصاً۔
درمختار میں ہے کہ باکرہ لڑکی کی اپنے نکاح کے علم پر خاموشی اس اختیار فسخ کو ختم کردیتی ہے اور اختیار بھی صرف اس مجلس تک محدود ہوگا جس میں اسے علم ہوا ہے اس کے بعد اسے اختیار نہ ہوگا اھ ملخصاً۔ (ت)
(۱؎ الدرالمختار        باب الولی        مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۳)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منامن خبب امرأۃ علی زوجھا ۲؎۔ رواہ ابوداؤد والنسائی وابن حبان والحاکم باسناد صحیح عن ابی ھریرۃ ونحوہ احمد وابن حبان وللبزار والحاکم بسندصحیح عن بریدۃ وابویعلی والطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن ابن عباس والطبرانی فی الاوسط والصغیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمیعن۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑ دے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔ (اس کو ابوداؤد، نسائی، ابن حبان اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ایسے ہی احمد، ابن حبان، بزار اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ابو یعلی اور طبرانی نے اپنی اوسط میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نیز طبرانی نے اوسط اور صغیر میں اس کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۲؎ سنن ابو داؤد    اول کتاب الطلاق    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۲۹۶)
Flag Counter