(۱؎ الدرالمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)
اور ہندہ کا نکاح اس کے چچا نے کیا کہ پدر ہندہ مرچکا تھا اس حالت میں اگر زید ہندہ کا کفو نہیں یعنی اس سے قوم یا دین یاپیشہ وغیرہا امور معتبرہ میں ایسا گھٹا ہوا ہے جس کے ساتھ نکاح ہونا باعث عار وبدنامی ہو یا یہ کہ ہندہ کا جس قدر مہر مثل تھا اس سے بہت کم مہر باندھا گیا تو ان صورتوں میں نکاح اصلا صحیح نہ ہوا یہاں تک کہ اگر ہندہ بالغہ ہوکر اسے ناجائز رکھے تب بھی جائز نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار ان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا ومافی صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم ۱؎ (ملخصاً)
درمختار میں ہے اگر باپ یادادا کے غیر نے نکاح کیا ہو توغیر کفو اور فحش کمی مہر کے ساتھ بالکل صحیح نہ ہوگا۔ اور جو صدرالشریعہ میں کہا گیا کہ وہ نکاح صحیح ہے اور باپ اورداداکو بعدمیں فسخ کا اختیار ہے، یہ محض وہم ہے (ملخصاً)۔ (ت)
( ۱؎ درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)
اوراگر یہ بات نہیں بلکہ زید کفو ہے اور مہر مثل میں کمی فاحش نہ ہوئی تو نکاح صحیح ہوگیا مگر ہندہ کوا ختیار ہے کہ بعد بلوغ فوراًاس سے نکاح کو ردکردے اور حاکم شرع کے حضور دعوی کرکے فسخ کرائے۔
فی الدرالمختار وان کان من الکفو وبمھر المثل صح ولصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ ولوبعد الدخول بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ لقصور الشفقۃ بشرط القضاء للفسخ ۲؎ (ملخصاً)
درمختار میں ہے اگر مہر مثل اور کفو میں نکاح کیا ہو تو صحیح ہے لیکن نابالغ لڑکے اور لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد اس کے فسخ کا اختیار ہے اگرچہ دخول کے بعد بلوغ ہوا ہو یا بلوغ کے بعد نکاح کا علم ہوا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ اوردادا کے غیر میں شفقت کمزور ہوتی ہے تاہم فسخ کے لئے قاضی کا حکم شرط ہے۔ (ملخصاً) ۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱/۹۳۔ ۱۹۲)
مگر از انجا کہ ہندہ بِکر ہے تو بحالت بلوغ جس وقت نکاح پر مطلع ہو فوراً اور پہلے سے مطلع تھی تو بالغ ہوتے ہی معا نکاح کور د کردے، اگر ذرا بھی دیر کی تو نکاح لازم ہوجائے گا اور اسے فسخ کرانے کا اختیار نہ رہے گا۔
فی الدرالمختار بطل خیار البکر بالسکوت لومختارۃ عالمۃ باھل النکاح ولایمتد الٰی اٰخر المجلس ۳؎۔ (ملخصاً) واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اطلاع ملنے پر باکرہ کا سکوت اس کے فسخ کے اختیار کو باطل کردیتاہے بشرطیکہ اپنے نکاح کے بارے میں اس کو علم ہوا ہو اور وہ بالغہ ہو، تاہم فسخ کاا ختیار اس مجلس تک محدود رہےگا جس میں اس کو علم ہوا ہو، (ملخصاً) واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ درمختار باب الولی مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)