Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
155 - 1581
مسئلہ ۳۰۸: ۳ رجب المرجب ۱۳۰۵ ہجری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لیلٰی کا باپ بکر اس کا نکاح عمرو کفو کے ساتھ کردینے کی اجازت اپنے جوان بیٹے خالد کو دے کر بریلی سے اپنی نوکری پر بیسل پور کہ یہاں سے بیس کوس ہے چلا گیا، خالد برادر وہندہ مادر لیلٰی کو عمرو سے نکاح منظور نہ تھا ان کی مرضی زید کے ساتھ نکاح میں تھی کہ وہ بھی مثل عمروآپس اوربرادری ہی کاہے لہذا برخلاف اجازت بکر مادر وبرادر لیلٰی نے جلدی کرکے لیلٰی نابالغہ دہ سالہ کا نکاح زید نابالغ ہفت سالہ سے کردیا،جب پدر لیلٰی آیا خبر سن کر سخت ناراض ہوا، اور دختر کو سسرال سے بلا لیا اور پھر نہ جانے دیا، اس پر سات برس کا زمانہ گزرا کہ لیلٰی بالغہ ہوگئی مگر زید ہنوز نابالغ ہے لیلٰی نے بالغہ ہوتے ہی فورا اس نکاح سے انکار کردیا اور دوسری جگہ اپنانکاح کیا چاہتی ہے اس صورت میں نکاح اول فسخ ہو ا اور لیلٰی کو نکاح ثانی کا اختیار ملا یا نہیں؟ بینوا توجروا (بیان کیجئے اور اجر پائیے ۔ ت)
الجواب: چند روز ہوئے کہ یہ مسئلہ سائل کی طرف مقابل یعنی پدر زیدنے فقیر سے دریافت کیا اور اس میں صورت سوال بالکل اس کے خلاف تھی، اس نے ظاہر کیا تھاکہ پدر لیلٰی اس کے نکاح کی اجازت خالد پسر جوان کو اسی زید کے ساتھ دے گیا تھا اور چوتھی کی رخصت اس کے سامنے ہوئی اور لیلٰی برسوں آئی گئی ، ان سات برس کے بعد کہتاہے میں راضی نہیں۔ اس پر فقیر نے لکھا تھا کہ مضمون مذکور ثابت ہو تو بیشک نکاح صحیح ولازم ہوگیا جسے کوئی فسخ نہیں کرسکتا، اب پدر لیلٰی یہ شکل اختیار کرتاہے اور اس کے ساتھ چند کسان برادری جو اپنے آپ کو فریقین کا رشتہ دار قریب بتاتے ہیں بقسم اس بیان بکر کی تائید کرتے ہیں۔ غرض علم واقع حق وعلا کو ہے، اگر یہ لوگ سچے ہیں اور صورت سوال یونہی ہے جویہ کہتے ہیں کہ نکاح برخلاف اجازت پدر ہوا تو اگر اس نے ناراضی میں اس نکاح کے رد کرنے کا کوئی لفظ کہا تونکاح اسی وقت فسخ ہوگیا اور اگر کوئی ایسالفظ نہ کہا اور نہ اس پر راضی ہوا نہ ا س نے کبھی رخصت کی اور لیلٰی نے بالغہ ہوکر انکار کردیا تو اب نکاح فسخ ہوگیا کہ برادر لیلٰی کو جب پدر لیلٰی نے خاص عمرو کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دی تھی تو اسے بتوکیل پدر اس قدر کا اختیار تھا کہ اب اس نے مخالفت کرکے زید سے نکاح کردیا۔ یہ نکاح نکاح  فضولی ٹھہرا،
درمختارمیں ہے:
اجمعوا انہ لم یجز کمالو امرہ بمعینۃ فخالف ۱؎ اھ ملخصا یعنی الوکیل بالنکاح۔
فقہاء کا اجماع ہے کہ اگر معینہ عورت سے نکاح کا کہاا ور وکیل نے اس کے خلاف کیا تو یہ جائز نہ ہوگا اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ الدرالمختار    باب الکفاءۃ    مجتبائی دہلی            ۱/۱۹۶)
ردالمحتارمیں ہے:
فی کل موضع لاینفذ فعل الوکیل فالعقد موقوف علی اجازۃ المؤکل ۲؎۔
جہاں پر وکیل کا عمل نافذنہ ہوگا وہاں وہ عمل موکل کی اجاز ت پرموقوف ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   باب الکفاءۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۲۵)
اور نکاح فضولی بے اجازت نافذ نہیں ہوتا۔ پس اگر لیلٰی کے باپ نے ردکیا تو جبھی رد ہوگیا اور اگر نہ رد کیا نہ اجازت دی اور لیلٰی نے بالغہ ہوکر فسخ کردیا تو اب فسخ ہوگیا۔
فی ردالمحتار فی فصل الفضولی عن جامع الفصولین یتوقف علی اجازۃ ولیہ مادام صبیا ولو بلغ قبل اجازۃ ولیہ فاجازبنفسہ جاز ولم یجز بنفس البلوغ بلااجازۃ ۱؎۔
ردالمحتار میں ہے فضولی کے بیان میں جامع الفصولین سے منقول ہے کہ جب تک نابالغ ہے اس کانکاح اس کے ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اور اگر ولی کی اجازت سے قبل وہ بالغ ہوگیا تو اس نے اپنے نکاح کوجائز قرار دیا تو جائز ہوجائے گا، اس کے جائز کئے بغیر محض بالغ ہونے پر جائز نہ ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار            کتاب البیوع فصل فی الفضولی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/۱۳۵)
پس لیلٰی کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
واعلم ان غیبۃ بکر لم تکن منقطعۃ حتی تنتقل الولایۃ الی الاخ فیکون تزویجہ ایاھا صحیحا نافذا ولو غیر لا زم فلا ینفسخ بمجرد فسخھا بل تحتاج فیہ الی حکم القاضی کما فی الھدایۃ والدر۲؎ وغیرھما من الاسفار الغراء علی ما اختارہ واکثر المتاخرین وجزم بہ فی التنویر وغیرہ، وقال فی التبیین ان علیہ الفتوی۳؎ وھو التقدیر بمسافۃ القصر فالامرواضح
واضح رہے کہ یہاں بکر کا  غائب ہونا ایسا نہیں جس سے اس کی ولایت منقطع ہوکر لڑکی کے بھائی کو منتقل ہوجائے کہ اس کاکیا ہوا نکاح صحیح اور نافذ ہوتا اگرچہ لازم نہ ہوتا۔ محض لڑکی کے فسخ کرنے سے فسخ نہ ہوتا بلکہ قاضی کے فیصلہ کی ضرورت ہوتی، جیساکہ ہدایہ، در وغیرہما معتبر کتب میں ہے، لیکن جس کو اکثر متاخرین نے اختیار کیا ہے اور اس پر تنویر وغیرہ میں جز م کیا ہے، ور تبیین میں کہا کہ اس پرفتوی ہے وہ یہ کہ نماز کو قصر کرنے کی مسافت یعنی مسافت سفرپر دور ہو، تو اس قول پر معاملہ واضح ہے،
 (۲؎ درمختار            فصل فی الولی            مجتبائی دہلی            ۱/۱۹۴)

 (۳؎ تبیین الحقائق        باب الاولیاء والاکفاء        المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر        ۲/۱۲۷)
واما علی مااختارہ اکثر المشائخ وقال السرخسی ومحمد بن الفضل واصحاب الذخیرۃ والمجتبٰی والبحر انہ الاصح ۴؎ وصاحب الھدایۃ انہ اقرب الی الفقہ ۱؎ والامام قاضی خان فی شرح الجامع الصغیر انہ حسن لانہ النظر ۲؎ والزیلعی فی التبیین انہ احسن ۳؎ والمحقق فی الفتح انہ الاشبہ بالفقہ ۴؎ وعلیہ مشی فی الاختیار والنقایہ الملتقی والباقانی،
اور وہ جس کو اکثر مشائخ نے جس کے متعلق سرخسی اور محمد بن فضل، ذخیرہ، مجتبٰی اور بحر کے مصنفین نے فرمایا کہ یہ اصح ہے اور صاحب ہدایہ نے کہا کہ یہ اقرب الفقہ ہے، اور امام قاضی خاں نے جامع الصغیرکی شرح میں کہا کہ شفقت کی وجہ سے اچھا ہے اور زیلعی نے تبیین میں اچھا، محقق نے فتح میں اشبہ بالفقہ کہا اور یہی موقوف اختیار، نقائی، ملتقی اور باقلانی کا ہے
(۴؎ البحرالرائق            باب فی الاولیاء        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۳/۱۲۶) 

 (۱؎ الہدایۃ             باب فی الاولیاء والاکفاء    المکتبۃ العربیہ کراچی        ۱/۲۹۹)

 (۲؎ البحرالرائق بحوالہ شرح جامع الصغیر    باب فی الاولیاء    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۳/۱۲۶)

(۳؎ تبیین الحقائق        باب الاولیاء والاکفاء    المطبعۃ الکبرٰی مصر        ۱/۱۲۷)

(۴؎ فتح القدیر            باب الاولیاء والاکفاء    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳/۱۸۵)
ونقل ابن الکمال ان علیہ الفتوی ۵؎ وفی شرح الملتقی عن الحقائق انہ اصح الاقاویل وعلیہ الفتوی ۶؎ ویشیر کلام النھر الٰی اختیارہ وفی البحران الاحسن الافتاء بہ۷؎
اور ابن کمال نے اس پر فتوی کہا ہے اور ملتقی کی شرح میں حقائق سے منقول کہ اقوال میں یہ اصح اور اس پر فتوی ہے اور نہر کا کلام ابھی اس کے مختار ہونے کی طرف اشارہ ہے، اور بحر میں کہا کہ اس پرفتوی بہتر ہے،
 (۵؎ الدرالمختار    فصل فی الولی        مطبع مجتبائی دہلی                ۱/۱۹۴)

(۶؎ الدرالمنتقی علی حاشیہ مجمع الانہر    باب الاولیاء        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۳۳۹)

(۷؎ البحرالرائق            باب فی الاولیاء    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۳/۱۲۶)
وبالجملۃ کان ارجح التصحیحین وھوکونہ بحیث لوانتظر حضورہ اواستطلاع رأیہ فات الکفو الذی حضروان کان مختفیا فی نفس البلد فلان المبنی عندھم الحاجۃ الی استطلاع مفوت للکفو الحاضر لما فیہ ضرر والولایۃ للنظر فواجب اسقاطھا وھھنا کلا الامرین منتفی الحاجۃ الی الاستطلاع لحصول الاطلاع فانہ قداذن فی التزویج لعمر ووفوات الکفو لوجود عمرو، بل لقائل ان یقول ان لاغیبۃ اصلا لوجودالتوکیل ووجود الوکیل کوجود الموکل فظن انہ تزویج نافذ صدر عن ولایۃ ظن باطل، واﷲ تعالٰی اعلم۔
غرضیکہ دونوں تصحیحوں میں یہ قول زیادہ راجح ہے کہ اگر ولی اتنی مسافت پر ہے کہ اس سے رابطہ،مشورہ اور اجازت حاصل کرنے میں موجود رشتہ جوکہ کفو ہے، چھوٹ جائے گا۔ تویہ ولایت کے ختم ہونے اور دوسرے کو منتقل ہونے کا معیار ہے، اگرچہ وہ ولی شہر میں چھپا ہواہی کیوں نہ ہو کیونکہ غائب ولی کی ولایت کے انقطاع کا سبب کفو والے رشتہ کے چھوٹ جانے کاخدشہ قرار دیا ہے تو ایسی صورت میں اس سے اجازت حاصل کرنے میں ولایت کا مقصد فوت ہوجاتاہے اس لئےا تنی مسافت یا شہر میں تلاش کی بجائے اس کی ولایت کو منقطع قرار دیا جائے گا، جبکہ موجودہ مسئلہ میں ولایت کو منقطع قرار دینے کی متاخرین اور مشائخ والی دونوں صورتیں نہیں پائی جاتیں کہ اس سے اجازت حاصل کی جائے کیونکہ بکر نے خود عمرو سے نکاح کردینے کی اجازت دی نہ ہی کفو کے فوت ہونے کا خدشہ رہا کیونکہ عمرو وہاں موجود ہے، بلکہ یوں کہا جاسکتاہے کہ ولی کے غیب ہونے والی صورت یہاں نہیں پائی جاتی کیونکہ ولی کا وکیل یعنی خالد موجود ہے جبکہ وکیل کا موجود ہونا خود موکل کی موجودگی کی طرح ہے، پس مسئولہ صورت میں یہ خیال کرنا کہ زید سے کیا ہوا نکاح ولی سے صادر شدہ ہے یہ خیال باطل ہے (کیونکہ بکر نے عمرو سے نکاح کی اجازت دی تھی) واللہ تعالٰی اعلم (ت)
Flag Counter