شامی میں ذخیرہ وفتح القدیر میں ہے:
قولہ لوتطیق الجماع ، فلو صغیرۃ لاتطیقہ فھو کفو وان لم یقدر علی النفقۃ لانہ لانفقۃ لھا ۴؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ سبحنہ احکم۔
اس کا قول کہ بیوی جماع کے قابل ہو، تو اگرایسی کم عمر ہو کہ وہ جماع کے قابل نہیں تو کفو ثابت ہوگی اگرچہ خاوند نفقہ پر قادرنہ ہو کیونکہ ایسی عمر کے لیے خاوند پر نفقہ لازم نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم، اللہ جل مجدہ کا علم کامل و اکمل اور اس کا حکم نافذ مضبوط ہے۔ (ت)
(۵؎ ردالمحتار باب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۱)
مسئلہ ۳۰۷: ۱۲جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ ہجری قدسی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صغیرہ کا باپ اس کے نکاح کی زید کے ساتھ اپنے پسر جوان کو اجازت دے کر اپنی نوکری کے مقام پر کہ وہاں سے سات آٹھ کوس ہے چلا گیا، اس کے پیچھے وہ نکاح ہوا، رخصت کے بعد باپ آیا، چوتھی کی رخصت اس کے سامنے ہوئی اور برسوں آئی گئی، اب سات برس کے بعد باپ کہتا ہے میں اس نکاح سے راضی نہیں، اس صورت میں باپ یا اس صغیرہ کو بلوغ حق فسخ نکاح پہنچتا ہے یا نہیں؟ اور وہ نکاح کہ بھائی نے کیا صحیح ہوا یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب
جبکہ ثابت ہو کہ پدر صغیرہ نے اپنے پسر جوان کو دختر نابالغہ کے نکاح کی زید کے ساتھ اجازت دی اور وہ نکاح حسب اجازت واقع ہوا تو اب اسے نہ پدر صغیرہ خود فسخ کرسکے نہ صغیرہ بعد بلوغ اس کا اختیار فسخ رکھے، بلکہ وہ نکاح قطعا صحیح ونافذ ولازم ہوگیا۔
فان الاذن توکیل وفعل الوکیل کفعل المؤکل ومن سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ۔
وکیل کو اجازت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فعل کو مؤکل کا فعل قرار دیا جائے گا لہذا وکیل کی طرف سے تمام شدہ کارروائی کو کالعدم قرار دینے والے کی کوشش کو ردکردیا جائے گا۔ (ت)
تنویر میں ہے:لزم النکاح ولو بغبن فاحش اوبغیر کفو ان کان الولی ابااوجدا ۱؎ الخ۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
اگر باپ یا دادا نکاح کرنے والا ہو تو غیر کفو اور مہر کی فحش کمی کے باوجود نکاح لازم ونافذ ہوگا۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
( ۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)