بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
مسئلہ ۳۰۶: از کھنڈوا ضلع نماڑ ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکی نابالغہ جس کی عمر آٹھ برس کی ہے، باپ اس کا اس کی شیرخوارگی میں انتقال کرگیا، پرورش ا س کی ماں نے کی اور وہی اس کی وارث وکفیل ہے، ایک چچا اس کا ہے وہ لڑکی کے باپ مرحوم سے تخمیناً چالیس سال سے بالکل علیحدہ ہے، کسی نوع کا واسطہ وتعلق باہمی نہیں۔ اس لڑکی کا نکاح بے اجازت والدہ وعم کے ایسے مقام پر لے جاکر پڑھادیا جہاں ماں موجود نہ تھی، پس یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: تقریرسوال سے واضح کہ اس لڑکی کا دادا یا کوئی جوان بھائی نہیں۔ پس صورت مستفسرہ میں اس کا چچا ہی ا س کا ولی ہے جس کے ہوتے ماں کو بھی اختیار نہیں۔ اور چچا کا باپ سے جداوبے علاقہ ہونا اس کی ولایت شرعیہ کو ساقط نہیں کرتا غایت درجہ قطع رحم ہوگا اس کی نہایت گناہ اور گناہ مسقط ولایت نہیں۔
تنویر الابصار میں ہے:
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ ۱؎۔
نکاح میں ولی عصبہ بنفسہٖ ہوتاہے۔ (ت)
( ۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
درمختار میں ہے:
فان لم یکن عصبۃ فالولا یۃ للام ۲؎۔
اگر عصبہ موجود نہ ہو تو پھر ماں کو ولایت ہوگی۔ (ت)
( ۲ درمختار شرح تنویر الابصار باب الولی مجتبائی دہلی ۱/۱۹۳)
فتاوی خیریہ میں ہے:
الام لاتملک تزویج ابنھا مع العم ۳؎۔
والدہ کی بیٹی کے چچا کی موجودگی میں ولایت نہیں۔ (ت)
(۳؎ فتاوی خیریہ کتاب النکاح باب الاولیاء دارالمعرفۃ بیروت ۱/۲۴)
فتاوی خانیہ میں ہے:
الفسق لایمنع الولایۃ ۴؎۔
فسق، ولایت کے لیے مانع نہیں ہے۔ (ت)
(۴؎ فتاوی قاضی خاں فصل فی الاولیاء نولکشور لکھنو ۱/۱۶۳)
پس وہ نکاح کہ بے اجازت چچاکے ہوا اس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اگر رد کردے باطل ہوجائے گا۔
مجمع الانہرمیں ہے:
وقف تزویج فضولی وھو من لم یکن ولیا ولااصیلا ولاوکیلا علی اجازۃ من لہ العقد فان اجاز ینعقد والالا ۵؎۔
جو شخص ولی، اصیل اور وکیل نہ ہو وہ فضولی ہوتاہے جس کا کیاہوا نکاح ولایت والے کی اجاز ت پر موقوف رہتا ہے، اگر وہ جائز کردے تو جائز ، ورنہ ناجائز ہوگا۔ (ت)
(۵؎ مجمع الانہر فصل فی تزویج الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۳۴۳)
اور اجازت دے تو نافذ ہوجائے گا بشرطیکہ جس شخص کے ساتھ نکاح ہوا وہ اس دختر کا کفو ہو اورا س کے مہر میں کمی فاحش نہ کی گئی ہو۔ ورنہ اگر کفو نہیں یا مہر میں ایسی کمی ہے تو نکاح اصلاً وجہ صحت نہیں رکھتا۔ نہ چچا وغیرہ ان اولیاء کی اجازت سے نافذہوسکے کہ ایسا نکاح اگر خود چچا کے ہاتھوں کا کیاہو تا تاہم باطل ہوتا پھر اس کے جائز کئے نفاذ کیونکرپاسکتاہے۔
درمختار میں ہے:
ان کان المزوج غیرالاب وابیہ ولوالام لایصح النکاح من غیر کفو اوبغبن فاحش اصلا۶؎ اھ ملخصا
نکاح کرنے والا باپ یا دادا نہ ہو اگرچہ ماں ہو تو غیر کفو اور مہر کی فحش کمی کی صورت میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
(۶؎ درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۲)
ردالمحتار میں ہے:
اصلا ای لالازما ولاموقوفا علی الرضا بعد البلوغ ۱؎۔
بالکل نہ ہوگا۔ نہ اب نافذ ہوگا اور نہ بعد بلوغ رضاپر موقوف ہوگا۔ (ت)
( ۱؎ ردالمحتار باب فی الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۰۵)
فتح القدیر میں ہے:
العم ونحوہ لایصح منھم التزویج بغیر الکفو ۲؎۔
چچا وغیرہ کا غیرکفو میں نکاح کردینا صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر فصل فی الکفاءۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۹۶)
او رکفو کے یہ معنی کہ اس کی قوم یا مذہب یا اعمال یا پیشے میں بہ نسبت خاندان دختر کے کوئی ایسا قصور وعیب نہ ہو جس کے سبب اولیائے دختر کو عار لاحق ہو نہ ایسا محتاج ہوکہ اگر یہ دختر بالفعل قابل جماع ہے تو نفقہ نہیں دے سکتا یا کسی قدرمہر کل یا بعض ازروئے شرط یاحسب رواج معجل ہے تو فی الحال ا س کے ادا پرقادر نہیں۔
تنویر میں ہے:
تعتبر (یعنی الکفاءۃ) نسبا وحریۃ واسلاما ودیانہ ومالا وحرفۃ ۳؎۔
کفو ہونے میں نسب، حریت، اسلام، دیانت، مال اور حرفت کا اعتبارہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار فصل فی الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۹۵۔ ۱۹۴)