| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۳۰۲: مسئولہ حافظ محمد علاؤ الدین صاحب پیش امام مسجد مقام بلرام پور ڈاک خانہ انگہ ڈیرہ ضلع مان بھوم (۱) جن عورتوں سے نکاح حرام ہے وہ کون کون ہیں؟ عام فہم ہو خصوصاً میرے سمجھنے کے قابل۔ (۲) جو عورت زیدکے بڑے بھائی کے نکاح میں آچکی ہو، بعد مرنے بڑے بھائی کے اس عورت یعنی اپنی بھاوج سے زید عقد کرسکتا ہے یا نہیں؟ اس کا جھگڑا پڑا ہوا ہے اس کا خلاصہ تحریر فرمائیں، فقط۔
الجواب (۱) حرمت کے اسباب متعدد ہیں: اول نسب جیسے ماں بیٹی، بہن، خالہ، پھوپھی، بھتیجی، بھانجی۔ دوم رضاعت ، دودھ کے رشتہ سے یہ عورتیں، دودھ پلانے والی ماں اور اس کی بیٹی بہن اور جس نے اس کا دودھ پیا بیٹی اور جن مرد و عورت کا دودھ پیا ان کی بہنیں خالہ پھوپھی اور اپنے رضاعی بھائی بہن کی اولاد یا اپنے بھائی بہن کی رضاعی اولاد بھتیجی بھتیجیاں، وقس علیہ۔ سوم مصاہرت کہ اپنے اصول مثلاً باپ دادا نانا اپنی فروع مثلاً بیٹا پوتا نواسہ ان کی بیبیاں یاجن عورتوں کو انھوں نے بشہوت ہاتھ لگایاہو، یونہی اپنی بی بی یا مدخولہ کی ماں ، دادی، نانی۔ چہارم شرک یعنی غیر کتابی کافرہ عورت مسلمان پر حرام ہے۔ پنجم ارتداد جو عورت مسلمان ہوکر اسلام سے نکل جائے اس سے نکاح حرام ہے اگرچہ وہ کتابیوں ہی کا دین اختیار کرے۔ ششم پانچویں، یعنی چارعورتیں نکاح میں موجود ہوں تو پانچویں حرام ہے۔ ہفتم دو محارم میں جمع کرنا، مثلاً ایک عورت نکاح میں ہے تو جب تک وہ نکاح میں رہے اس کی بہن پھوپھی خالہ بھتیجی بھانجی سے نکاح حرام ہے۔ ہشتم جب کوئی آزاد عورت نکاح میں ہو اس کے ہوتے ہوئے کنیز سے نکاح جائز نہیں۔ نہم جس عورت کو تین طلاقیں دے چکا جب تک حلالہ نہ ہو اس سے نکاح حرام ہے۔ دہم جس عورت سے لعان کرچکا جب تک اپنے نفس کو تکذیب نہ کرے اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ یازدہم وہ عورت کہ دوسرے کے نکاح میں ہے۔ دواز دہم وہ عورت کہ دوسرے کے عدت میں ہے۔ جزئیات بہت کثیر ہیں تفصیل کواجزا درکار ہیں، یہ چند اجمالی باتیں ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۲)عدت گزرنے کے بعد کرسکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۴: از دوارکا اوکھاکاٹھیا وار مرسلہ نائیک حبیب خان ۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۵ھ مصدر بوارق معانی، مظہر شوارق فیض رسانی، ادام اللہ عنایتکم، السلام علیکم، دست بستہ آداب،۔ خیریت طرفین کا خواستگار ہوں، وہ لڑکی کہ جس نے بچپن میں میری اس ہمشیرہ کا دودھ ایک یاد ودفعہ نیند کی حالت میں پیاہو کہ اس کی اور میری والدہ ایک ہے اور والد جدا۔ آیا وہ لڑکی میرے نکاح میں آسکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ لڑکی میرے نکاح میں آچکی ہو اور دودھ پلانے کی واردات پیچھےظاہر ہوئی اس کے لیے کیا فتوی ہے؟ براہ نوازش جلد مطلع فرماکر فخر بخشیں۔
الجواب : جس لڑکی نے سائل کی بہن کا دودھ پیا اگرچہ اس کے سوتے میں۔ اگرچہ ایک ہی بار، اگرچہ ایک ہی قطرہ، اگرچہ وہ بہن سائل سے صرف ماں میں شریک اور باپ میں جدا تھی، وہ لڑکی سائل کی بھانجی ہوگئی اور اس سے اس کا نکاح حرام قطعی ہے، اور اگر نادانستگی میں ہوگیا اور اب بہ ثبوت شرعی رضاعت ثابت ہوئی تو سائل پر فرض ہے کہ فوراً فوراً اسے جدا کردے کہ وہ اس کی بھانجی اور مثل حقیقی دختر کے ہے، پھر اگر جماع واقع ہوا، تو مہردینا آئے گا جو مہر مثل ومہر مسمٰی میں کم ہو اور عورت اس کے چھوڑنے کے بعد تین حیض عدت کرے گی، پھر جس سے چاہے نکاح کرے گی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۵: مسئولہ میاں قدرت اللہ صاحب چشتی از مقام پٹن ضلع گجرات ریاست بڑودہ ۲۰ رجب ۱۳۳۵ھ
11_2.jpg
علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ لڑکا کمال اور لڑکی کریما دونوں کے درمیان نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: اس شجرہ سے واضح ہے کہ کمال اور ولی دونوں آپس میں سوتیلے بھائی ہیں۔ باپ ایک اور ماں جدا۔ اور کریمہ ولی کی نواسی یعنی بیٹی ہے تو وہ کمال پر حرام ہے نکاح نہیں ہوسکتا، قال تعالٰی: وبنت الاخ ۱؎ (اور بھائی کی بیٹیاں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن لکریم ۴/۲۳)
مسئلہ ۳۰۶: از مارہرہ شریف مرسلہ محمد نعیم صاحب ۱۶ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ ایک شخص نے اپنے لڑکپن میں جبکہ اس کی عمر صرف دس گیارہ سال تھی ایک چودہ سالہ عورت سے جس کی شادی اسی ماہ میں ہوئی تھی عورت کے رغبت کرنے اور سکھانے سے زنا کیا لیکن لڑکا نابالغ تھا اب اس عورت سے ایک لڑکی ہے ، اس کا نکاح لڑکے مذکور سے جس نے اپنی نابالغی کی حالت میں اس کی ماں سے زنا کیاتھا جائز اور درست ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر اس وقت لڑکے کی عمر ۱۲ برس سے کم تھی تو حرمت ثابت نہ ہوئی، وہ لڑکا اس عورت کی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے،
درمختار میں ہے:
لوجامع غیر مراھق زوجۃ ابیہ لم تحرم ۲؎ فتح۔
اگر غیر مراہق نے اپنے باپ کی زوجہ سے جماع کیاتو حرمت ثابت نہ ہوگی۔ فتح (ت)
(۲؎ درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
ردالمحتار میں ہے:
لابد فی کل منھما من سن المراھقۃ واقلہ للاثنی تسع وللذکر اثنا عشر لان ذلک اقل مدۃ یمکن فیھا البلوغ کماصرحوا بہ فی باب بلوغ الغلام وھذا یوافق مامران العلۃ ھی الوطء الذی یکون سببا للولد، والمس الذی یکون سبباً لھذا الوطء ولایخفی ان غیر المراھق منھما لایتأتی منہ الولد ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مردو عورت دونوں کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کم از کم مراہق کی عمر میں ہوں، اور مراہق کی عمر لڑکی کے لیے کم از کم نو سال اور لڑکے کے لیے بارہ سال، کیونکہ یہ وہ کم از کم عمر ہے جس میں بلوغ ہوتا ہے جیسا کہ فقہاء نے لـڑکے کے بلوغ کے متعلق تصریح فرمائی ہے اور یہ بیان گزشتہ اس بیان کے موافق ہے کہ حرمت مصاہرہ کی علت وہ وطی ہے جو بچے کا سبب بن سکے اور وہ مس جو اس وطی کا سبب بن سکے، اور یہ ظاہر ہے کہ مراہق سے کم عمروالے کی وطی بچے کا سبب نہیں ہوتی، (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ ردالمحتار باب فی المحرمات دارحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۲)