حرمت مصاہرہ نکاح کو ختم نہیں کرتی حتی کہ دوسرے شخص سے نکاح، متارکہ اوراس کے بعد عدت گزرجانے کے بغیر جائز نہیں۔ (ت)
( ۱؎ درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
اگر بصورت حرمت عمرو عورت کو رکھے تو مسلمان اس سے میل جول چھوڑ دیں مگر جرمانہ لینا حرام ہے اور اسے مسجد میں صرف کرنا اور دیوبندیوں سے فتوی پوچھنا حرام اوران کے فتوی پرعمل کرنا حرام، اور انھیں مولٰنا یا نوراللہ مرقدہ کہنا حرام، تمام علماء کرام حرمین شریفین نے شان الوہیت وشان رسالت میں ان کی سخت گستاخیوں کے سبب ان کی تکفیر پر اتفاق کیا اور حسام الحرمین میں فرمایا: من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۲؎ یعنی جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر وعذاب میں شک کرے وہ بھی کافر۔ والعیاذ باﷲ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ حسام الحرمین مکتبہ نبویہ، گنج بخش روڈ، لاہور ص۱۳)
مسئلہ ۲۹۸ تا ۳۰۰: مسئولہ مولانا مولوی احمد مختار صاحب میرٹھی مورخہ ۸ شعبان المعظم ۱۳۳۸ھ
(۱) ماقولکم ایھا العلماء الکرام (اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد ہے۔ ت) مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مہدی، مسیح موعود اور پیغمبر صاحب وحی والہام ماننے والے مسلمان ہیں یا خارج ازاسلام اور مرتد۔
(۲) بہ شکل ثانی اس کا نکاح کسی مسلمہ یا غیر مسلمہ یا ان کی ہم عقیدہ عورت سے شرعا درست ہے یانہیں؟
(۳) بہ صورت ثانیہ جس عورت کا نکاح ان لوگوں کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے ان عورات کو اختیار حاصل ہے کہ بغیر طلاق لیے اور بلاعدت کسی مرد مسلم سے نکاح کرلیں۔ بینوا آجرکم اللہ تعالٰی
الجواب
( ۱) لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کاجو قائل ہو وہ تو مطلقاً کافر مرتد ہے اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لیے مانے،
قال اللہ تعالٰی: ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین ۱؎۔
لیکن اللہ تعالٰی کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ (ت)
( ۱؎ القرآن الکریم ۳۳/۴۰)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم: انا خاتم النبیین لانبی بعدی ۲؎۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں (ت)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب الفتن باب ماجاء لاتقوم الساعۃ الخ امین کمپنی دہلی ۲/۴۵)
لیکن قادیانی توایسا مرتدہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ
من شک فی کفرہ فقد کفر ۳؎
(جس نے اس کے کفر میں شک کیا ہو کافرہوگیا۔ ت)
اسے معاذاللہ مسیح موعود کیا مہدی یا مجدد یا ایک ادنی درجہ کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکراس کے کافر ہونے میں ادنی شک کرے وہ خود کافر مرتد ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) قادیانی عقیدے والے قادیانی کو کافر مرتد نہ ماننے والے مرد خواہ عورت کانکاح اصلا ہرگز زنہار کسی مسلم کافر یا مرتد اس کے ہم عقیدہ یا مخالف العقیدہ غرض تمام جہان میں انسان حیوان جن شیاطین کسی سے نہیں ہوسکتا جن سے ہوگا زنائے خالص ہوگا۔
فتاوی عٰلمگیریہ میں ہے:
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد، کذافی مبسوط ۴؎۔
مرتد کو کسی مرتدہ، مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں، ایسے ہی مرتدہ کو کسی مرد سے نکاح جائز نہیں، جیساکہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
بعض وہ چیزیں جو بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح تو اس کے لیے کسی مسلمہ مرتدہ اور اصلی کافرہ اور ذمی عورت، حربیہ اور لونڈی سے نکاح باطل ہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۵؎ فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/۲۵۵)
جس مسلمان عورت کا غلطی خواہ جہالت سے کسی کے ساتھ نکاح باندھا گیا اس پر فرض فرض فرض ہے
کہ فوراً فوراً اس سے جدا ہوجائے کہ زنا سے بچے اور طلاق کی کچھ حاجت نہیں بلکہ طلاق کاکوئی محل ہی نہیں، طلاق تو جب ہو کہ نکاح ہوا ہو، نکاح ہی سرے سے نہ ہوا، نہ اصلا عدت کی ضرورت کہ زنا کے لیے عدت نہیں، بلاطلاق بلاعدت جس مسلمان سے چاہے نکاح کرسکتی ہے،
یعنی اس میں وطی زنا ہے جس سے نسب ثابت نہیں ہوتا۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ ردالمحتار فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۶۳۳)
مسئلہ ۳۰۱: از قصبہ نہٹور ضلع بجنور محلہ میاں صاحب سادات اول مرسلہ سید محمد مختار احمد صاحب ۵ شعبان ۱۳۳۴ روز چہارشنبہ
مکرم معظم جناب قبلہ مولانا صاحب زاد ظلکم۔ السلام علیکم، مزاج شریف! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ زید کی دو زوجہ، زوجہ اول کا انتقال ہوگیا، اس سے اس کے ایک نواسہ، زوجہ دوم کے ایک لڑکی، اب زوجہ دوم کی لڑکی سے زوجہ اول کے نواسہ کا نکاح درست ہے یا نہیں؟ گویا سوتیلی خالہ سے یعنی اپنی ماں کی سوتیلی بہن سے جو دوسری ماں سے پیدا ہو کوئی شخص اپنا نکاح کرسکتاہے؟ سبب یہ ہے کہ ناکح کا باپ اور منکوحہ کا باپ اور ماں دونوں علیحدہ ہیں کیونکہ بعض شخص کچھ ایسی حجت پیداکرتے ہیں کہ چچا زاد یا تائی زاد یا خالہ زاد بہن بھائی حقیقی کانکاح جائزہے جبکہ ناکح اور منکوحہ کے ماں اور باپ کا ایک باپ اور ایک ماں ہیں، جزئیت کس طرف سے شمار ہوتی ہے، کسی ایسی عام فہم صورت میں جواب صاف اور کسی مستقل حوالہ کے ساتھ تحریر فرمائیں۔ بینوا تو جروا
الجواب : زوجہ دوم کی وہ لڑکی اگر زیدہی کے نطفہ سے ہے بلا شبہہ زید کے نواسے پر حرام قطعی ہے، اور اگر کسی دوسرے شوہر سے ہے تو جائز ہے، جزئیت کے بارے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اپنی فرع اور اپنی اصل کتنی بعید ہو مطلقاً حرام ہے، اور اپنی اصل قریب کی فرع اگرچہ بعیدہو حرام ہے، اور اپنی اصل بعید کی فرع بعید حلال، اپنی فرع جیسے بیٹی پوتی نواسی کتنی ہی دور ہو اور اصل ماں دادی نانی کتنی ہی بلند ہو اور اصل قریب کی فرع یعنی اپنی ماں اور باپ کی اولاد یا اولادکی اولاد کتنی ہی بعید ہو اوراصل بعید کی فرع قریب جیسے اپنے دادا، پردادا، نانا ، دادی، پردادی، نانی، پرنانی کی بیٹیاں یہ سب حرام ہیں، اور اصل بعید کی فرع بعید جیسے انہی اشخاص مذکورہ آخر کی پوتیاں نواسیاں جو اپنی اصل قریب کی نوع نہ ہوں حلال ہیں۔ صورت مذکورہ میں جبکہ زوجہ دوم کی لڑکی زید کے نطفہ کی ہو تو وہ اس کے اصل بعید کی فرع بعید قریب ہوئی، زید اس کا نانا ہے وہ اس کی اصل بعید ہوا اور یہ لڑکی اس کی بیٹی، یہ اس کی فرع قریب ہوئی، لہذا حرام ہوئی۔ اورا گر دوسرے شوہر سے ہے تو اس سے کوئی تعلق نہ ہوا لہذا حلال ہوئی ، چچا، خالہ، ماموں، پھوپھی کی بیٹیاں اس لیے حلال ہیں کہ وہ اس کی اصل بعید کی فرع بعید ہیں یعنی دادا نانا کی پوتیاں نواسیاں جو اپنی اصل قریب سے نہیں۔ نقایہ میں ہے:حرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفرع اصلہ القریب وصلبیۃ اصلہ البعید ۱؎۔ وھو تعالٰی اعلم۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب کی فرع اور اصل بعید کی صلبیہ عورتیں حرام ہیں۔ (ت) وھو تعالٰی اعلم۔