Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
150 - 1581
لیکن غیر کتابیہ سے مسلمان مرد کو نکاح حرام ہے۔
قال تعالٰی: لاتنکحوا المشرکت حتی یومن ولامۃ مومنۃ خیر من مشرکۃ ولو اعجبتکم ۳؎۔
مشرکہ یعنی غیر کتابیہ سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں اور بیشک ایک مسلمان باندی کافرہ غیر کتابیہ سے اچھی ہے اگرچہ وہ کافرہ تمھیں پسند  آئے۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۲/۲۱)
یہ حکم کافران اصلی کا ہے ، مرتد ومرتدہ کانکاح تمام عالم میں کسی سے نہیں ہوسکتا نہ مسلم سے، نہ کافر سے، نہ اصلی سے نہ مرتد سے۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد، کذافی المبسوط ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مرتد کو کسی مرتدہ، مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں، مبسوط میں یونہی ہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ فتاوی ہندیہ باب فی المحرمات نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۲)
مسئلہ ۲۹۶: از بنگالہ مدرسہ معین الاسلام ڈاک خانہ جنگل آباد اہل موضع کادکا کسی ضلع جسر مسئولہ عبدالصمد صاحب ۲۸ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نے اپنے بیٹے کی بی بی یعنی اپنی بہو سے زنا کیا اب وہ بی بی مذکورہ کواپنے شوہر کے لیے حلال رہے گی یا نہیں؟ اور وہ دونوں کے درمیان نکاح باقی رہے گا یا طلاق ہوگئی؟ اگر طلاق ہوگئی تو کس قسم کی؟ اور علت طلاق ہونے کی کیا ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب: لوگ اپنی طرف سے خیالات باطلہ باندھ لیتے یا فقط دو ایک شخصوں یا صرف عورت کے کہنے پر اتہام لگاتے ہیں اس کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ شہادت عادلہ شرعیہ ہو یا شوہر تصدیق کرے اس وقت حرمت کا حکم دیا جائے گا۔ عورت ہمیشہ کے لیے اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی کہ اس کے باپ کی مدخولہ ہوگئی اور باپ کی مدخولہ بیٹے پر حرام ابدی ہے،
قال تعالٰی: ولاتنکحوا مانکح اٰباؤکم ۲؎
 (جن سے تمھارے باپ نکاح کرلیں تم ان سے نکاح نہ کرو۔ ت)
 ( ۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۲)
مگر طلاق نہ ہوئی، نہ نکاح سے خارج ہوئی جب تک شوہر متارکہ نہ کرے، مثلا اس سے کہے میں نے تجھے چھوڑ دیا یا جدا کیا، جب یہ کہے گا اور عدت گزر جائے گی اس وقت عورت کسی تیسرے شخص سے نکاح کرسکے گی، ان دونوں باپ بیٹوں پر تو ہمیشہ کے لیے حرام ہے، شوہر پر فرض ہے کہ اسے متارکہ کردے کہ اب اسے رکھ نہیں سکتا تو چھوڑ نا لازم ۔
قال تعالٰی: فامساک بمعروف اوتسریح باحسان ۳؎
 (تو ہمدردی سے پاس رکھو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم      ۲/۲۲۹)
درمختار میں ہے:
وبحرمۃ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لہا التزوج باٰخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حرمت مصاہرہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا حتی کہ جب تک متارکہ اور عدت پوری نہ ہوجائے کسی دوسرے کے لیے حلال نہ ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ درمختار    باب فی المحرمات    مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
مسئلہ ۲۹۷: از سواوالہ ڈاک خانہ ریڑھ ضلع بجنور مسئولہ حکیم عبدالرحمان ۵ شوال ۱۳۳۹ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ (اللہ آپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے۔ ت) کہ زید نے اپنے لڑکے عمرو کی زوجہ سے زنا بالجبر کیا یا زنا کی نیت کی جس کا اقرار دونوں کرتے ہیں، اس صور ت میں یہ عورت عمرو کی مطلقہ ہوگئی یانہیں؟ اور کون سی طلاق واقع ہوئی؟ عدت بھی ہوگی یا نہیں؟ عمروکے لیے یہ عورت کسی طرح پھر بھی حلال ہوسکتی ہے یا نہیں؟ وقوع زنا، نیت زنا، دواعی زنا، تینوں میں کچھ فرق ہوگا یا نہیں؟ بینوا تو جروا

یہی استفتاء اس سے قبل مولانا عزیز الرحمن صاحب مفتی دیوبند کی خدمت میں ارسال کیاتھا جس کے جواب میں بوجہ انتقال مولانا محمود الحسن صاحب نوراللہ مرقدہ انھوں نے یہ مختصر جواب دیا تھا کہ:

''اگرعمرو اس کا مقر نہیں ہے تو اس کے حق میں اس کی عورت حرام نہیں ہوئی'' انتہی

چونکہ یہ فیصلہ بروئے پنچایت برادری طے ہونے والا ہے اس لیے ضروری ہے کہ کل مسئول عنہا امور کا جواب دیکھنے پر اگر حکم ہو تو برادری میں ان سے انقطاع یا حقہ پانی بند کی سزائے مروج دے سکتے ہیں یا نہیں؟ یا محض ان سے جرمانہ وصول کرکے غربا ومساکین کی دعوت کرائی جائے اور وہ جرمانہ مسجدیا اور کسی نیک کام میں صرف کیا جاسکتاہے یا نہیں؟
الجواب : محض نیت زنا سے کچھ نہیں ہوتا او ربیٹے پر اس کی زوجہ حرام ابدی ہونے کے لیے صرف دواعی بھی کافی ہیں۔ اگر عمرو کے قلب پر ان کا صدق جمتا ہے تو لازم ہے کہ وہ عورت کو اپنے اوپر حرام سمجھے،
فان التحری من دلائل الشرع وقول فاسق معتبراذا وقع التحری علٰی صدقہ۔
کیونکہ تحری (سوچ کے بعدفیصلہ) شرعی دلائل میں سے  ہے اور فاسق کا قول تحری سے تصدیق کے بعد معتبر قرار پاتا ہے۔ (ت)

یونہی اگر عمرو نے ان کی تصدیق کی توعورت کی حرمت ابدی کا حکم ہے لان الاقرار حجۃ ملزمۃ (کیونکہ اقرار اپنے اوپر لازم کرنے کے لیے دلیل ہے۔ ت) اور اگر نہ اس نے ان کی تصدیق کی نہ اس کے قلب پر ان کا صدق جمتا ہے تو عورت اس پر حرام نہ ہوئی لان الاقرار حجۃ قاصرۃ لاتعد والمقر (کیونکہ اقرار کمزور دلیل ہے اس لیے مقر کا غیر اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ ت) پھر جن صورتوں میں عورت اس پر حرام مانی جائے گی ہمیشہ کے لیے حرام ہوگی، کسی طرح ان باپ بیٹوں کے لیے حلال نہیں ہوسکتی مگر ہنوز طلاق نہ ہوئی، عمرو پرفرض ہوگا کہ اسے چھوڑدے اور اس کے چھوڑنے کے بعد عورت پر عدت لازم ہوگی، بعد عدت کسی تیسرے سے نکاح کرسکے گی،
Flag Counter