| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۲۹۰: از مند سورہ مالوہ اے، وی ، ایم ، سکول ریاست گوالیار مسئولہ محمد عبدالحمید صاحب مدرس ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں مسئلہ کہ ایک بیوہ عورت حاملہ ہوگئی اوربروقت تحقیقات پولیس مسماۃ مذکورہ نے بیان کیاکہ یہ حمل خاص میرے داماد کا ہے۔ ایسی حالت میں منکوحہ داماد مسماۃ مذکورہ کی حرام ہوئی یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: فقط اس عورت کے کہنے سے داماد پر اس کی منکوحہ حرام نہیں ہوسکتی۔ یا توثبوت شرعی ہو یا داماد اقرار کرے۔ اس وقت اس کی منکوحہ پر حرام ابدی ہونے کا حکم دیا جائے گاورنہ نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۱: از بستی محلہ دکھن دروازہ دھنیا ٹولہ مسئولہ بقر عیدن صاحب ضلعدار محکمہ افیون ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ دو برس سے مفرور ہوگئی ہے اور نہ طلاق دی نہ اس کا کچھ پتاہے کہ زندہ ہے یا مرگئی، زید اپنی بی بی کی حقیقی بہن سے چاہتا ہے کہ نکاح کروں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :ناجائز، قال تعالٰی: وان تجمعوا بین الاختین ۲؎
(دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
زید اگر چاہتا ہے تو زوجہ کو طلاق دے اورتا انقضائے عدت انتظار کرے اس کے بعداس کی بہن سے نکاح کرسکتاہے، انقضائے عدت یہاں ظن غالب سے لیا جائے گا فانہ ملتحق فی الفقھیات بالیقین (فقہ میں یہ یقین سے ملحق ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۲ تا ۲۹۳: از احمد نگر دکن گنج بازار متصل مسجد شاہی مسئولہ محمد ابراہیم صاحب خطیب حنفی قادری ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ (۱) زید وعمرو حقیقی بھائی ہیں، عمرو اپنے پوتے کے ساتھ زیدکی لڑکی کا نکاح کراناچاہتا ہے جائزہے یانہیں؟ (۲) زید نے چھ ماہ کی عمرمیں زینب کا دودھ ہندہ کے ساتھ پیا اور ہندہ کی عمر چار سال کی تھی، کیا زینب کی تیسری لڑکی سے زید کانکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب (۱) یہ نکاح جائز ہے کہ حقیقی پھوپھی نہیں رشتہ کی پھوپھی ہے۔
قال تعالٰی: واحل لکم ماوراء ذٰلکم ۱؎
(اوران کے سوا جو رہیں وہ تمھیں حلال ہیں۔ ت)
(۱؎ القرآ ن الکریم ۴/۲۴)
یعنی بھتیجی سے بیٹے کا نکاح جائز ہے حالانکہ وہ رشتہ میں اس کی بہن ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) زینب زید کی ماں ہوگئی اور زینب کی جتنی اگلی پچھلی اولاد ہے سب زید کی بہن بھائی ، زینب کی کسی لڑکی سے زید کا نکاح جائز نہیں۔
قال تعالٰی: واخواتکم من الرضاعۃ ۲؎
(اور تمھاری رضاعی بہنیں حرام ہیں۔ ت)واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
مسئلہ ۲۹۴: مولوی عبداللہ صاحب بہاری مدرس مدرسہ منظر الاسلام بریلی ۲۹ صفر ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو حقیقی بہنیں ان کا نکاح زیدو اس کے حقیقی لڑکے کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟ اور جن لوگوں میں ایسا جائزہے ان کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب: شرعا جائز ہے کہ ایک بہن کا نکاح باپ اور دوسری کا بیٹے سے ہو، اس میں کچھ حرج نہیں جبکہ کوئی مانع شرعی اور وجہ سے نہ ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۵: از شاہجہاں پور مسئولہ خان بہادر فصیح الدین صاحب ڈپٹی کلکٹر ۲۵ رمضان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان عورت یا مرد کسی دوسرے مذہب کے مرد یا عورت سے مثلا بدھ، جین، ہندو، دہریہ وغیرہ سے مناکحت کرسکتا ہے یا نہیں؟ ایسی صورت میں کہ وہ غیر مذہب والا مرد یا عورت اسلام قبول نہ کرے اور اپنے مذہب پر قائم رہے، اگر نہیں کرسکتا ہے تو اس بارہ میں احکام کلام مجید کیا ہیں؟ براہ مہربانی ان آیات کو درج فرمایاجائے۔ بینوا تو جروا
الجواب: مسلمان عورت کا نکاح مطلقاً کسی کافر سے نہیں ہوسکتا۔ کتابی ہو یا مشرک یا دہریہ یہاں تک کہ ان کی عورتیں جو مسلمان ہوں انھیں واپس دینا حرام ہے۔
قال تعالٰی: یاایھا الذین اٰمنوا اذاجاء کم المومنٰت مھجرات فامتحنوھن اﷲ اعلم بایمانھن فان علمتموھن مومنات فلاترجعو ھن الٰی الکفار لاھن حل لھم ولاھم یحلون لھن ۱؎۔
اے ایمان والو! جب تمھارے پاس اسلام لانے والی عورتیں کافروں کا دیا ر چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرو، اللہ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو، پھر اگر تمھیں آزمائش سے ان کا ایمان ثابت ہو تو انھیں کافروں کو واپس نہ دو، نہ مسلمان عورتیں کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ کافر مسلمان عورتوں کے لیے حلال ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶۰/۱۰)
مسلمان مرد کافرہ کتابیہ سے نکاح کرسکتا ہے۔
قال تعالٰی: الیوم احل لکم الطیبت وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم وطعامکم حل لھم والمحصنت من المؤمنت والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم اذا اتیتموھن اجورھن ۲؎۔
آج کے دن ستھری چیزیں تمھارے لیے حلال کی گئیں اور کتابیوں کا ذبیحہ تمھارے لیے حلال ہے اور تمھاراذبیحہ ان کے لیے حلال ہے اور تمھارے لیے حلال کی گئیں پارسا مسلمان عورتیں اور عفت والی کتابیہ عورتیں جب تم انھیں ان کے مہر دو۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵/۵)