Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
148 - 1581
مسئلہ۲۸۵ تا ۲۸۶: از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب ۲۹ رجب ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) ایک بہن کا لڑکا ہے اور دوسری بہن کی دختر لڑکی ہے یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

(۲) سالی حقیقی سے نکاح اس وقت میں جائز ہے کہ اپنے بیٹے کا نکاح بھی سالی کی دختر سے کیا جائے اور برتقدیر جائز بھی ہے تو پہلے کس کا نکاح ہو؟ بینوا تو جروا۔
الجواب

(۱) ہاں جائزہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲) جب عورت مرجائے یا اسے طلاق دے اور عدت گزرجائے تو سالی سے نکاح جائزہے۔ اور سالی کی بیٹی سے اپنے بیٹے کانکاح مطلقا جائز ہے، خواہ پہلے اس کا نکاح کرے یا اپنا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از مدرسہ رحمانیہ رائے بریلی مسئولہ محمد ابراہیم صاحب ۲۸ شعبان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ زید کی دوسری زوجہ ہے اور زید کی زوجہ اولٰی کے چند لڑکے ہیں ان میں سے ایک لڑکے نے ہندہ سے کئی بار اظہار تعشق کیاا ور کہا کہ ہم تم بھاگ چلیں۔ اور کئی باراپنا آلہ منتشر ہند ہ کے ہاتھ میں بلا حجاب کسی کپڑے کے پکڑادیا۔ کئی بار بوسہ لے لیا۔ اور دو مرتبہ آمادہ زنا ہوگیا یہاں تک کہ ازار کھول دیا اور پوری کوشش کی کہ دخول کرے۔ مگر ایک مرتبہ کسی نے آواز دے کر برا بھلا کہا، اور ایک مرتبہ ہندہ پوری کوشش کرکے بھاگ نکلی، ان وجوہ سے ہندہ کا پردہ عصمت چاک نہیں ہوا، مگر ان سب صورتوں میں ہندہ متنفر تھی اور اس کو کبھی شہوت نہیں ہوئی اور ہر مرتبہ ہندہ نے اپنے شوہر زید کو خبر دی مگراس نے سمجھا دیا کہ لڑکے کا معاملہ ہے بدنامی بہت ہوگی اس کا اظہار نہ کرو۔ مگر لڑکے کو بہت برا بھلا کہا اور ساتھ کھانا چھوڑ دیا اور مارا بھی، مگر لڑکا اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہیں آیا۔ اب ایسی صورت میں ہندہ زید پر حرام ہوگی یا نہیں؟ اور اگر حرام ہوگئی تو وہ اپنا نکاح دوسرا بلا طلاق زید کرسکتی ہے یا نہیں؟ اور اگرنکاح کرسکتی ہے تو عدت بیٹھنا ہوگایا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب : جبکہ پسر زیدنے زن زید سے یہ افعال خبیثہ کئے کہ قطعا بہ شہوت تھے تو زن زید  زید پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی اگرچہ زن زید کی طرف سے شہوت نہ ہونا تسلیم کرلیا جائے کہ مس میں ایک طرف سے شہوت کافی ہے، درمختار میں ہے: تکفی الشھوۃ من احدھما ۱؎ (دونوں میں سے ایک کا شہوت سے ہونا کافی ہے۔ ت)
 ( ۱؎ درمختار    فصل فی المحرمات    مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
مگر نکاح زائل نہ ہوا، زید پر لازم ہے کہ عورت سے متارکہ کرے یعنی اسے چھوڑ دے، مثلا کہے میں نے تجھے چھوڑ ا، اس کے بعد عورت عدت کرے اس کے بعد دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے، زید یاپسر زید سے کبھی نہیں کرسکتی، زیدکی بیٹی کی جگہ ہوگئی اور پسر زید کی ماں کی جگہ تھی ہی، جب تک زید متارکہ نہ کرے اور عدت نہ گزرے دوسرے سے نکاح حرام ہے۔
درمختار میں ہے:
بحرمہ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل التزوج باٰخر الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حرمت مصاہر ہ سے نکاح ختم نہیں ہوتا تاوقتیکہ بعد متارکہ عدت نہ گزر جائے دوسرے شخص سے نکاح جائز نہیں۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ درمختار    فصل فی المحرمات    مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
مسئلہ ۲۸۸: از روضہ حضرت مجدد الف ثانی سرہند شریف مسئولہ عبدالقادر صاحب مدرس درگاہ شریف ۳۰ رمضان شریف ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرزائی مذہب شخص کی دختر نابالغہ سے جو عقد نکاح ہوگیا ہے وہ شرعا جائز ہے یاناجائز؟ دختر مذکورہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے۔ والد اس کا انتقال کرچکا ہے صرف اس کی والدہ  نے نکاح ایک حنفی مذہب سے کردیا ہے، ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے اس کو علیحدہ کردیا جائے یا تاوقت بلوغ رکھا جائے۔ بینو ا تو جروا
الجواب :مرزائی مرتد ہیں کما ھو مبین فی حسام الحرمین (جیساکہ حسام  الحرمین میں واضح بیان کیا گیا ہے۔ ت) اور مرتد مردہو یاعورت ا س کا نکاح کسی مسلمان یا کافر اصلی یا مرتد غرض انسان یا حیوان جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا۔ جس سے ہوگا زنائے محض ہوگا۔
عالمگیری میں ہے:
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احدکذافی المبسوط ۱؎۔
مرتد کے لیے مرتدہ، مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں، اور اس طرح مرتدہ عورت کا بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں، جیسا کہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ فتاوٰی ہندیہ        باب فی المحرما ت بالشرک    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۸۲)
عورت اگرچہ نابالغہ ہے سال دوسال کی ناعاقلہ بچی نہ ہوگی اور عقل وتمیز کے بعد اسلام وارتداد صحیح ہیں۔
تنویر الابصار میں ہے:
اذا ارتد صبی عاقل صح کاسلامہ ۲؎۔
بچہ اگر مرتدہوجائے تو اس کا ارتداد صحیح ہے جیسے اس کا اسلام لانا صحیح ہے۔ (ت)
 ( ۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الجہاد باب المرتد    مجتبائی دہلی        ۱/۳۶۱)
سمجھ وال ہونے کی حالت میں اگر اس نے مرزائیت قبول کی یا اتناہی جانا کہ مرزا نبی یا مسیح یا مہدی تھا تو اسی قدر اس کے مرتدہ ہونے کو بس ہے، تجربہ ہے کہ یہ مرتد لوگ بچپن سے اپنی اولاد کو اپنے عقائد کفریہ سکھاتے ہیں تو سائل کا کہنا کہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے بعید از قیاس ہے۔ پھر ان لوگوں میں سے ایسی قرابت قریبہ رکھنا بارہا منجربہ فتنہ وفساد مذہب ہوتاہے۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی، تو سلامتی اسی میں ہے کہ اس کو فورا جدا کردیا جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹: از ریاست فرید کوٹ کوٹھی ملیر گنج مسئولہ علیم الدین صاحب فراش ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ غیر مقلدوں کے ساتھ تعلقات رکھنا اور ان کے ساتھ رشتہ ناتا اپنے لڑکے لڑکی کا جائز ہے یا حرام؟ اور اگر حرام ہے تو حنفی المذہب اپنی لڑکی کو کسی طور سے واپس لے سکتا ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب : غیر مقلدوں سے میل جول حرام ہے اور ان سے مناکحت ناجائز کما بیناہ فی رسالتنا ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار (جیساکہ ہم نے اپنے رسالہ ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار میں بیان کیا ہے۔ ت) وہابیت ارتداد ہے اور مرتد مرد ہو یا عورت اس کا نکاح تمام جہان میں کسی سے نہیں ہوسکتا، نہ کافر سے، نہ مرتد سے، نہ مسلمان سے، نہ انسان سے، نہ حیوان سے، جس سے ہوگا زنائے خالص ہوگا۔
عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط ۱؎۔
مرتد کو مرتدہ، مسلمہ اور اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں۔ اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں۔ مبسوط میں ایسی ہی ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ فتاوی ہندیہ    باب فی المحرمات    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۸۲)
حنفی اگر اس میں مبتلاہوا ہو تو اپنی لڑکی اسی دعوے سے واپس لے کہ نکاح ہو اہی نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter