Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
147 - 1581
فقیر غفراللہ القدیر نے مجدد مائۃ حاضرہ، صاحب حجت قاہرہ، علامہ رحلہ، امام المسلمین اعلٰیحضرت مولانا وسیدنا ومفیدنا ومفیضنا مولوی محمد احمد رضاخان صاحب متع اللہ الناس بافاداتہ الی یوم الدین کے جواب کے بنظر غائر حرفا حرفا دیکھا عین صواب پایا جزاہ اﷲ خیر الجزا وکالہ بالمکیال الاوفی فقط۔

فقیر قادری وصی احمد حنفی
الجواب صحیح وموثق بنصوص الصحیح وروایات المستند جزاہ اﷲ خیر الجزا فی الدارین لراقم الفاضل الجلیل وعلامۃ النبیل اٰیۃ من اٰیات اﷲ۔
جواب صحیح اور صحیح نصوص اور مستندروایات سے مضبوط کیا ہوا ہے، اللہ تعالٰی دونوں جہان میں جواب لکھنے والے عالم جلیل، علامہ نبیل، اللہ تعالٰی کی نشانیوں میں سے نشانی کو بہتر جزا عطافرمائے۔ (ت)

حکیم مفتی سلیم اللہ ناظم انجمن نعمانیہ، لاہور
 ماحققہ عمدۃ العلماء الاعلام زبدۃ الفقہاء الکرام قدوۃ الفضلاء العظام امام النبلاء الفخام قاطع ورید المروۃ اللئام مظھر الکلمات العرفانیۃ کاشف الآیات الربانیۃ حامی السنۃ واھل السنۃ ماحی آثار الکفر والبدعۃ وحید العصر فرید الدھر مجدد الزمان سیدنا العریف الماھر مولانا المولوی محمد احمد رضاخان سلمہ اﷲ المنان فھو حق صراح وصدق قراح والحق احق بالاتباع وفقنا اﷲ تعالٰی وسائر المسلمین والصلوۃ والسلام علی ختم المرسلین والہ وصحبہ حماۃ الدین۔

کتب العبد المفتقر الی ربہ الاکبر محمد عمرالمراد آبادی۔
بلند علماء میں عمدہ، فقہاء کرام میں منتخب، بڑے فضلاء کے مقتداء، بڑے ماہرین کا امام، سرکش ملعونوں کی رگ کاٹنے والے، عرفانی کلمات کو ظاہر کرنے والے ، سنت اور اہلسنت کی حمایت کرنے والے، کفر وبدعت کے آثار کو مٹانے والے، اپنے زمانہ کے بے مثل ماہر مولانا مولوی احمد رضاخان، اللہ تعالٰی منان ان کو سلامت فرمائے، نے جو تحقیق فرمائی وہ خالص حق ، صاف سچ، جبکہ حق ہی اتباع کے قابل ہے، اللہ تعالٰی ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس کی توفیق دے، صلوٰۃ وسلام ہو خاتم المرسلین اور ان کی آل پر اور دین کی حمایت کرنے والے صحابہ پر۔ (ت)
 بسم اﷲ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اللہ تعالٰی کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل سے میری آنکھوں کو اس پاکیزہ تحقیق کے انوار سے روشن کیا۔ اللہ تعالٰی جزا عطافرمائے حضرت مجیب کو جن کی تحقیق کا ایک ایک حرف صدق وصواب ہے ومن اعرض فھو من الجاھلین (جس نے اس سےروگردانی کی وہ جاہلوں میں سے ہے۔ ت) فی الواقع حضرت مجدد صاحب دامت برکاتہم کی ذات والاصفات حضرت حق کی ایک شان رحمت ہے، اور بے شمار برکات کا مجموعہ، کتنے اندھوں کی آنکھیں کھول دیں ۔ اور ہزارہا نابیناؤ ں کو بینابنادیا، اللہ تعالٰی ایسے فاضل جلیل کو مدت ہائے دراز تک بایں فیض رسانی سلامت رکھے، آمین بحرمت المرسلین صلوٰۃ اللہ تعالٰی علیہ وسلامہ، بیشک اس مسئلہ کے ایضاح میں تحقیق کے خزانے کھول دئے ہیں اور نادان مفتی کی غلطی کو خوب آشکار کرکے سمجھا دیا ہے، اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو سیدھی راہ چلائے ۔ آمین!

العبدا لمعتصم بحبل اللہ المتین محمد نعیم الدین خصہ اللہ بمزید العلم والیقین
مسئلہ ۲۸۱: از موضع بہار ضلع بریلی مسئولہ عبدالرحمن خان صاحب ۳ جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لڑکے نے سنا کہ میرے والد نے میری بی بی کے ساتھ زنا کیا ہے اس پر اس کو غصہ آیا اور اپنی بی بی کو مارا اور طلاق دے کر مکان سے علیحدہ کردیا یعنی نکال دی۔ لڑکی نے اپنی مہر کی نالش کردی، مہر اس کا جو کچھ تھا اس کی ڈگری ہوگئی۔ لڑکے کا وکیل کہتا ہے کہ طلاق ا س نے غصہ میں دی اس وجہ سے طلاق نہیں ہوئی، او رلڑکی کا وکیل کہتاہے کہ طلاق ہوگئی ، اس صورت میں کون سچا ہے؟ کون سے وکیل کی بات مانی جائے؟ یعنی طلاق ہوئی کہ نہیں ہوئی؟ بینوا تو جروا۔
الجواب : اگر یہ صحیح ہے اور ثبوت شرعی سے ثابت ہے کہ اس کے باپ نے اس کی بی بی سے زنا کیا جب تو وہ عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی۔ اس پر فرض تھا کہ اسے فورا جدا کردے، جو طلاق دی یہ جدا کرنا ہی ہوا اور اب وہ اسے کبھی واپس نہیں لے سکتا۔ اور اگر مذکور ثبوت شرع سے ثابت نہ ہو نہ لڑکے نے اس کی تصدیق کی ہو تو یہ طلاق طلاق ہوئی اور مجرد غصہ کا عذر مسموع نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۲ تا ۲۸۴: ازغازی پور محلہ بر برہنہ برمکان منشی واجد علی صاحب مسئولہ محمد ادریس صاحب ۲۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں (۱)کہ زید عمر ۱۶ سال، بی بی عمر ۲۵ سال سے جو کہ رشتہ میں زید کی ممانی ہوتی ہے ہمیشہ مذاق وتفریح کرتا رہا ہو کسی وقت میں زید نے جمیلہ کا ہاتھ  یا پیر پکڑ لیا ہو اور ایک مرتبہ بوسہ بھی لے لیاہو ازروئے شہوت مذاق کے۔ کچھ عرصہ کے بعد بکر جو کہ رشتہ میں زید کا باپ ہے صغرٰی سے جوکہ جمیلہ کی لڑکی ہے نکاح کرنا چاہتا ہے اور زید ازروئے شرم وحیا کے اس بات کو ظاہرنہیں کرسکتا ہے تو ایسی حرکت میں نکاح ہوگا یا نہیں؟ اگر نہ ہو تو او رکوئی صورت جواز  کی نکل سکتی ہے ازروئے کفارہ کےیا نہیں ؟

(۲) اور اگر نکاح کردیا ہو اس وقت میں کیا صورت ہوسکتی ہے؟

(۳) اور ہماری طر ف ممانی اور بھاوج سے مذاق اور تفریح کرنا کچھ عیب میں داخل نہیں؟
الجواب: بھاوج یا ممانی سے ایسا مذاق حرام قطعی ہے اور کرنے والا اور وہ عورت دونوں فاسق، اور ان کے شوہر باپ بھائی اگر اس پر راضی ہوں دیوث ہیں۔ اور دیوث پر جنت حرام، اورصغرٰی سے بکر کا نکاح حلال ہے، درمختار میں ہے:
اما بنت زوجۃ ابیہ وابنہ فحلال ۱؎
 (اور اپنے باپ کی زوجہ یعنی سوتیلی ماں کی بیٹی جو باپ کے نطفے سے نہیں اور اپنے بیٹے کی زوجہ کی بیٹی جو بیٹے کے نطفہ سے نہیں وہ حلال ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ درمختار    فصل فی المحرمات    مجتبائی دہلی        ۱/۱۸۷)
Flag Counter