| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
دوم اصل کہ خود مرضع ومرضعہ ہیں یعنی وہ عورت جس نے دودھ پلایا اور وہ مرد جس کا یہ دودھ تھا اور ان کے اصول نسبی ورضاعی پدری مادری منتہی تک اور یہاں خویش کے یہ معنی ہیں کہ مرضع ومرضعہ رضیعین کے ماں باپ ہوگئے، اور ان کے اصول ان کے سگے دادا دادی نانا نانی۔
سوم فرع کہ خود رضیعین ہیں اور رضیعین کے جملہ فروع نسبی ورضاعی پسری ودختری انتہاتک، اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب مرضع ومرضعہ کے بیٹا بیٹی پو تا پوتی نواسا نواسی ہوگئے۔
چہارم اصل قریب کی فرع یعنی مرضعین کے نسبی، رضاعی فروع وفروع الفروع آخرتک اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب رضیعین کے بہن بھائی ، بھتیجا بھتیجی ،بھانجا بھانجی ہوگئے، پھر وہ اگر مرضع ومرضعہ دونوں کی فرع الفرع ہیں تو عینی اور صرف مرضع کے فروع ہیں تو علاتی اور صرف مرضعہ کے تواخیافی۔
پنجم اصل بعید کی فرع قریب یعنی مرضعین کے اصول واصول الاصول نسبی ورضاعی کے فروع قریب نسبی خواہ رضاعی، اور یہاں یہ معنی کہ یہ سب رضیعین یا رضیعین کے اصول رضاعی چچا ماموں پھوپھی خالہ ہوگئے۔ (ازجانب شیرخوارہ) اول زوجین یعنی رضیع کی زوجہ اور رضیعہ کا شوہر یا رضیع ورضیعہ کے فروع نسبی رضاعی میں کسی کے زوج وزوجہ کہ یہ سب مرضعین پر حرام ہوگئے، اور یہاں یہ معنی کہ وہ مرضعین کے دور یا نزدیک کے داماد اور بہو ہوگئے۔
دوم فرع کہ رضیعین کی تمام اولاد واولاد اولاد جہاں تک جائے، نسبی ہو یا رضاعی، سب مرضعین کی اولاد اولاد ہوگئے، مگر رضیعین کے اصول یا فروع قریبہ وبعیدہ اصول کومرضعین سے کچھ علاقہ نہ ہوا۔ الحمدللہ شعرکے یہ معنی ہیں، ان تمام تاصیلات وتفریعات پر کہ ہم نے ذکرکیں اگر نصوص لائیں موجب اطالت ہو اور حاجت نہیں کہ اول بحمداللہ تعالی یہ سب مسائل خادم فقہ پر خود ظاہر، ثانیا ان پر نصوص کتب مذہب میں دائر وسائر۔ والحمدﷲ فی الاول والاٰخر مسئلہ نے بحمد اللہ تعالٰی وضوح تام پایا۔ اب فتوائے خلاف کی طرف چلئے اگرچہ حاجت نہ رہی:
اولا اس تشریح سے کھل گیا کہ یہ شعر تحریم صورت مسئولہ میں نص صریح تھا جسے برعکس دلیل گمان کیا گیا ، کاش اتنا ہی خیال کرلیا جاتا کہ جانب شیرخوارہ سے فروع کا خویش مرضعین ہوجانا کیا معنی دے رہا ہے فروع شیرخوارہ شیردہ کے خویش ہوجانے میں کوئی معنی ہی نہیں سوااس کے کہ شیرخوارہ کی اولاد شیردہ کی اولاد اولاد ہوگئی، پھر وہ اولاد شیردہ پر کیونکر حلال ہوسکتی ہے، کون سی شریعت میں ہے کہ اپنے ماں باپ کی پوتی نواسی اپنے لیے حلال ہو جس بچہ سے چاہے پوچھ دیکھئے کہ ماں باپ کی پوتی اپنی بھتیجی ہوتی ہے اور نواسی اپنی بھانجی اور تمام جہان جانتا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں بھتیجی اور بھانجی حرام قطعی ہے۔ سوئے اتفاق سے یہ گمان ہوا کہ فروع شیرخوارہ کو شیردہ کے خویش بتایا ہے نہ کہ اولاد شیردہ کے، اور نہ جانا کہ یہاں شیردہ کے خویش ہونے کواولاد شیردہ کے لیے خویش ہونا قطعا لازم بین ہے، یہ کیونکر متصور کہ آدمی کی ماں باپ کی اولاداپنی کوئی نہ ہو، شیردہ کی طرف اضافت بوجہ اصالت ہے کہ اول اسی کے لیے ثابت ہو کہ باقیوں کی طرف سرایت کرتی ہے ۔
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا:
حقیقۃ الحال ان حقیقۃ البعضیۃ تثبت بین المرضعۃ والرضیع فثبتت حرمۃ الابنیۃ ثم انتشرت لوازم تحریم الولد ۱؎۔
حقیقت حال یہ ہے کہ دودھ پلانے اور دودھ پینے والوں کے درمیان جزئیت حقیقیہ پائی جاتی ہے جو ابنیت کی حرمت کوثابت کرتی ہوئی بچے کی تحریم کے تمام لوازمات میں پھیل جاتی ہے۔ (ت)
( ۱؎فتح القدیر کتاب الرضاع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/۳۱۴)
ثانیا کاش مفتی نے اپنی ہی عبارت کو شعر سے ملاکر دیکھا ہوتاتوبہ نگاہ اولین کھل جاتا کہ دونوں طرفین نقیض پر ہیں۔ شعر توصاف بتارہاہے کہ حرمت رضاعت رضیع کی طرف زوجین وفروع رضیع کو شامل ہوتی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ خاص رضیع کے لیے ہوتی ہے رضیع کے فروع کے لیے نہیں ہوتی صاف صاف نفی واثبات کا خلاف ہے اس کی نظیر اس سے بہتر کیا ہوسکتی ہے کہ زید کہے بیٹے کے لیے ماں حلال ہے اس لیے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
حرمت علیکم امھتکم ۲؎
(تم پر تمھاری مائیں حرام کی گئی ہیں۔ ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
ثالثا آگے تفریع میں فرماتے ہیں: ''پس فروع رضیع پر فروع مرضعہ ہر گز حرام نہیں'' آپ کی اس اصل بے اصل کی یہ پوری تفریع نہ ہوئی، جب آپ کے نزدیک حرمت رضاعت جانب رضیع میں صرف رضیع کی ذات پر مقصور ہے، اس کے اصول کی طرح فروع کوبھی شامل نہیں۔ تو تفریع یوں کیجئے کہ فروع رضیع خود مرضع ومرضعہ پر بھی حرام نہیں جس طرح اصول رضیع ان پر حرام نہیں۔ وہاں تک تو بھانجی بھتیجی حلال ہوئی تھی اب پوتی نواسی حلال ہوگئی۔
رابعاً عبارت شرح وقایہ کا جو مفاد ٹھہرایا کاش اتناہی ہوتا کہ عبارت اس سے بے علاقہ محض ہوتی مگر زنہار ایسا نہیں بلکہ عبارت یقینا قطعا اس کا رد کررہی ہے عبارت جس شے کی خاص حرمت بیان کرنے کولکھی گئی، اس اختراع مفاد نے وہی حلال کردی جیساکہ بحمد اللہ تعالٰی آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیا، آخرنہ دیکھاکہ نص ہفتم میں مستخلص نے عبارت شرح وقایہ کا کیا مطلب ٹھہرایا۔
خامساً بلکہ نص ۱۷ و ۲۱ میں دیکھئے کہ خود امام شارح وقایہ نے کیا فرمایا اور اپنا مطلب کیا بتایا۔ الحمد للہ اس روشن مسئلہ کا روشن ترکرنا جس طرح مقصود فقیر تھاکہ ہر بات ہجے کرکے پڑھادی جائے بروجہ اتم حاصل ہوگیا، احباب پر تو یہ سخت شدید عظیم فرض ہے۔ السر بالسر والعلانیۃ بالعلانیۃ (پوشیدہ کی پوشیدہ اور علانیہ کی علانیہ۔ ت) معاملہ حرام قطعی کا ہے جس سے اغماض ناممکن تھا، رجوع الی الحق میں عار نہیں بلکہ تمادی علی الباطل میں۔ اور معاذ اللہ اس باطل ومہمل فتوی پر عمل ہو کر اگرنکاح ہوگیا تو یہ زنا، اور زنا بھی کیسا زنائے محارم۔ اس کا عظیم وبال تمام فتوی دہندوں پر رہے گا۔ اور ہر حرکت ہر بوسہ ہر مس کے وقت روزانہ رات دن میں خدا جانے کتنے کتنے بار یہ کبائر وجرائم ان سب کے نامہ اعمال میں ثبت ہوتے رہیں گے۔ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم کان اثمہ علی من افتاہ ۱؎ ۔ رواہ ابوداؤد والدارمی والحاکم عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جسے بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی والے پر ہے۔ اس کو ابوداؤد ، دارمی اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا، اللہ تعالٰی زیادہ علم والاہے اور اس جل مجدہ کا علم کامل ومحکم ہے۔ (ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب العلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۵۹) (المستدر ک کتاب العلم دارالفکر بیروت ۱/۱۲۶)
کتبہ العبد المذنب احمد رضاالبریلوی عفی بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم o الجواب صحیح والمجیب نجیح۔ مصطفی رضاخاں قادری عرف ابوالبرکات محی الدین o الجواب صحیح۔ نواب مرزا عبدالغنی قادری سنی حنفی بریلوی o الجواب صحیح۔ واﷲ اعلم محمد عبدالرب عرف محمد رضاخان قادری o الجواب صحیح۔ محمد امجد علی اعظمی