Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
145 - 1581
حیث قال مفادالمصرع الاول ان من جانب المرضعۃ وکذا زوجھا یکون الکل ذاقرابۃ من الرضیع ای الذین لھم قرابۃ محرمۃ من النسب فیدخل فیہ المرضعۃ وزوجھا واقرباؤھما ومفاد المصرع الثانی ان من جانب الرضیع انما یثبت القرابۃ للمرضعۃ وزوجھا من فروعہ واحد زوجیۃ ۱؎ انتھی۔
انھوں نے یوں کہا پہلے مصرع کا مفادیہ ہے کہ دودھ پلانے والی اور اس کے خاوند کی جانب سے تمام رشتے دودھ پینے والے کے قریبی ہوں گے یعنی ان کے وہ رشتے جو نسبی طورپر حرام ہوتے ہیں، تو اس میں دودھ پلانے والی اور اس کا خاوند اوران دونوں کے اقرباء داخل ہوں گے، اور دوسرے مصرع کا مفاد یہ ہے کہ دودھ پینے والے کی جانب سے دودھ پلانے والی اور اس کے زوج پر تمام فروع اوراس کے زوج یا زوجہ کی قرابت ثابت ہوگی، انتہی (ت)
 (۱؎ عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح الوقایہ    کتاب الرضاع        مجتبائی دہلی        ۲/۶۷)
ظاہر ہے یہ محض ترجمہ ہے، صرف اتنا زائد ہے کہ ہمہ سے مراد محارم نسبی ہیں، یہ غلط ہے کہ ماں باپ کے جتنے علاقہ والے اولاد پر حرام ہوتے ہیں نسبی ہوں خواہ رضاعی صہری، وہ خود ماں باپ کے محارم ہوں یا نہ ہوں۔ جہاں جہاں معنی محرم فی النسب موجود ہو سب مراد ہیں، مثلاً رضاعی ماں باپ کے رضاعی ماں باپ بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسا نواسی رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم رضاعی ہیں نہ کہ نسبی، یوں ہی رضاعی ماں باپ کے سوتیلے ماں باپ رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں کہ وہ رضیع کے رضاعی نانا دادا کی بیبیاں ہیں اور رضیعہ کے رضاعی نانی دادی کے شوہر حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم صہری ہیں نہ کہ نسبی، یونہی رضاعی باپ کے دوسری بی بی رضاعی ماں کا دوسرا شوہر رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں کہ وہ ان کے سوتیلے ماں باپ ہیں حالانکہ وہ رضاعی ماں باپ کے محارم ہی نہیں بلکہ حلیل وحلیلہ ہیں، تو قرابت محرمہ اور نسبیہ دونوں قیدیں غلط ہیں بلکہ سرے سے لفظ قرابت ہی ٹھیک نہیں کہ مصرع اول میں لفظ ھمہ مرضع کے زوجین کو بھی یقینا شامل، اور زوجیت داخل قرابت نہیں،
تفسیر نیشاپوری میں ہے:
امک من الرضاع کل انثی ارضعتک اوارضعت من ارضعتک ۲؎۔
تیری رضاعی ماں سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ عورت جس نے تجھے یا تیری رضاعی ماں کو دودھ پلایا ہو (ت)
 (۲؎ غرائب القرآن (نیشاپوری)    تحت آیت حرمت علیکم امھاتکم الخ    مصطفی البابی مصر    ۵/۸)
ہندیہ میں ہے:
المحرمات بالصھریۃ اربع فرق، الرابعۃنساء الآباء والاجداد من جہۃ الاب والام وان علوا کذافی الحاوی القدسی۱؎۔
نکاح کی وجہ سے محرمات کے چار گروہ ہیں، چوتھا ماں باپ کی طرف سے سگے باپ دادوں کی بیویاں اگرچہ  یہ باپ دادے اوپرتک ہوں، حاوی القدسی میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب النکاح    فی بیان المحرمات        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۷۴)
پھر لکھا:
المحرمات بالرضاع کل من تحرم بالقرابۃ والصھریہ کذافی محیط للسرخسی ۲؎۔
رضاعی محرمات وہ تمام جو قرابت اور نکاح سے حرام ہوتے ہیں۔ محیط سرخسی میں یوں ہی ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب النکاح    فی بیان المحرمات        نورانی کتب خانہ پشاور      ۱/۲۷۷)
تبیین الحقائق میں ہے:
لایجوز لہ ان یتزوج بامہ ولابموطوۃ ابیہ ولاببنت امرأتہ کل ذٰلک من الرضاع ۳؎۔
اس کو یہ جائز نہیں کہ وہ ماں، باپ کی وطی کردہ (بیوی) اور اپنی بیوی کی بیٹی ان رضاعی رشتوں سے نکاح کرے۔ (ت)
 (۳؎ تبیین الحقائق    کتاب الرضاع            مطبع الکبری الامیریہ مصر    ۲/۱۸۳)
غرض فقیر نے نہ دیکھا کہ اس شعر کا ایضاح کسی نے کیا ہو۔ اور اہل زمانہ کو اس کی فہم میں دقتیں بلکہ سخت لغزشیں ہوتی ہیں لہذا بقدرحاجت اس کی شرح کردینی مناسب۔
فاقول وباﷲ التوفیق (پس میں کہتاہوں اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ ت) اصل علت حرمت جزئیت ہے کہ نسب میں ظاہر اور رضاع میں کراہت انسان کے لیے شرع کریم نے معتبر فرمائی اور عرف میں بھی معروف ومشتہر ہوئی جس کے لحاظ سے "امھتکم التی ارضعنکم" فرمایا، اور زوجیت کا مرجع بھی جانب جزئیت ہے کما حققہ فی الھدایہ والکافی والتبیین وغیرھا (جیساکہ ہدایہ، کافی اور تبیین وغیرہ میں تحقیق ہے۔ ت) مگر زوجیت میں اس کا تحقق نہایت غموض میں ہے کہ مدارک عامہ اس تک وصول سے قاصر، لہذا صاحب ضابطہ نے شعر میں دو علاقے رکھے، ایک زوجیت دوسرا جزئیت، عام ازیں کہ یہ نسباً ہو یا رضاعاً، پھر دو شخصوں میں علاقہ جزئیت کی دوصورتیں ہیں: ایک یہ کہ ان میں ایک دوسرے کا جز ہو، دوسرے یہ کہ دونوں تیسرے کے جزہوں، صورت اولٰی میں دو قسمیں پیدا ہوئیں، اصول، جن کا تو جز ہے یعنی باپ، دادا، نانا،ماں، دادی، نانی جہاں تک بلند ہوں نسباً خواہ رضاعاً، اور فروع جو تیرے جز میں ہیں یعنی بیٹا، پوتا،نواسا، بیٹی، پوتی، نواسی جہاں تک نیچے جائیں، اور صورت ثانیہ میں تین صورتیں ہیں:
 (۱) دونوں ثالث کے جز قریب ہوں، یہ عینی یا علاتی یااخیافی بھائی یابہنیں یا بہن بھائی ہوئے، عام ازیں کہ دونوں اس کے جز نسبی ہوں یا دونوں رضاعی یا ایک نسبی ایک رضاعی۔

(۲) ان میں ایک توثالث کا جز قریب ہو اور دوسرا بعید، یہ انہی تعمیموں کے ساتھ عمومت اور خولت کا رشتہ ہوا، جزء قریب اپنے یا اپنے ماں یا باپ یا دادا یا دادی یا نانا نانی کے چچا ماموں خالہ پھوپھی ، اورجزء بعید انہی نسبتوں پر ان کے مقابل بھتیجا بھانجا بھتیجی بھانجی،

(۳) دونوں ثالث کے جز بعید ہوں جیسے ایک شخص کا پوتا اور نواسی، یہ تیسری صورت تحریم سے ساقط ہے خالص نسب میں بھی حلال ہے تو حرمت میں چار صورتیں ہیں:
اول اصل، دوم فرع، یہ دونوں کتنے ہی نزدیک یا دور ہوں تو فروع میں فروع الفروع اور فروع فروع الفروع لاالٰی نہایہ سب داخل ہیں۔ یونہی اصول میں اصول الاصول اور اصول اصول الاصول الٰی غایۃ المنتہی، سوم اصل قریب کی فرع اگرچہ بعید ہو جیسے ماں یاباپ کی پوتی نواسی اور ان کی اولاد و اولادِ اوالاد۔ چہارم اصل بعید کی فرع  قریب جیسے پھوپھی کہ دادا کی بیٹی ہے یا خالہ کے نانا کی یا دادا کی پھوپھی کہ پر دادا کے باپ کی بیٹی ہے یااس کی خالہ کہ داداکے نانا کی بیٹی ہے وقس علیہ (اور قیاس اسی پر ہے۔ ت) چار یہ اور پانچواں علاقہ زوجیت انھیں شیردہ اور شیرخوارہ ہر ایک کی طرف نسبت کرنے سے دس ہوئے، پھر اصل تعلق رضیع اور مرضعہ میں پیدا ہوتاہے، رضیع اس کا جزء ہوتا ہے اور مرضعہ اس کی اصل ، اور جب وہ ماں ہوئی تو جس مرد کا دودھ تھا وہ ضرور باپ ہوگیا، اور ان کے فروع قریبہ اس کے اصل قریب کے فروع قریب، اور فروع بعیدہ اس کے اصل قریب کے فرع بعید، اور ان کے اصول اس کے اصول کہ اصل کی اصل اصل ہے، لاجرم جانب شیردہ سے سب علاقے متحقق وموجب تحریم ہوئے، مگر فرع کی اصل نہ اپنی اصل ہونا لازم  نہ فرع ،تو شیرخوارہ کے اصول کو شیردہ سے کچھ تعلق نہ ہوا، اور جب خود اصول غیر متعلق رہے تو اصول کے فروع قریبہ یا بعیدہ اس حیثیت سے کہ ان اصول کے فروع میں کیا علاقہ رکھیں گے کہ ان کا  علاقہ تو بواسطہ اصول ہوتا۔ وہ خود بے تعلق ہیں، ہاں فرع کی فرع ضرور فرع ہوتی ہے تو جانب شیرخوارہ سے صرف دو علاقے ثابت وباعث حرمت ہوئے۔

زوجیت وفرعیت __ اب ان کی تفصیل اور ہر ایک میں معنی خویش شوند سمجھئے (از جانب شیردہ) 

اول زوجین یعنی مرضعہ کا شوہر کہ یہ دودھ جو رضعیہ نے پیا اس کا نہ تھا دوسرے شوہر کاتھا، یا مرضع کی زوجہ کہ رضیع نے اس کا دودھ نہ پیا بلکہ دوسری زوجہ کا ، یا مرضع  ومرضعہ کے اصول میں نزدیک ودور کسی کے زوج وزوجہ کہ سلسلہ شیران سے نہ ہوئے، یہ سب رضیع ورضیعہ پر حرام ہیں اور یہاں خویش شوند کے معنی یہ ہیں کہ وہ رضیعین کے سوتیلے ماں باپ یا سوتیلے دادا دادی، نانا نانی ہوگئے۔
Flag Counter