یعنی ہر مرد وعورت پر اس کے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، بیٹا بیٹی، پوتاپوتی، نواسا نواسی، بھتیجا بھتیجی، بہن اور بھائی کے بیٹا بیٹی خواہ یہ رشتے نسب سے ہوں یا دودھ سے، حرام ہیں۔
(۳؎ درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱/۱۸۷)
نص ۲۹: جوہر نیرہ میں ہے:
کذلک بنات اخیہ وبنات اختہ من الرضاعۃ لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یحرم من الرضاع ماٰیحرم من النسب ۴؎۔
یعنی نسبی کی طرح رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھی حرام ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے۔
(۴؎ الجوہرۃ النیرہ کتاب النکاح مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/۶۸)
ان تمام نصوص جلیلہ میں بالاتفاق بلا خلاف صاف صاف واشگاف تصریحیں فرمائیں کہ رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں، بھانجی، بھتیجی نسبی کی طرح حرام قطعی ہیں، اور شک نہیں کہ اخوت رشتہ متکررہ ہے کہ دونوں طرف سے یکساں قائم ہوتا ہے، جس طرح مرضعہ کا بیٹا رضیع کابھائی ہوا، واجب کہ یوں ہی رضیع پسر مرضعہ کا بھائی ہو یہ محال ہے کہ زید تو عمرو کا بھائی ہو اور عمرو زید کابھائی نہ ہو، اور جب رضیع اولادمرضعہ کایقینا اجماعاً بھائی ہے جس سے انکار کسی ذی عقل بلکہ فہیم بچہ کو بھی متصور نہیں۔ اورجملہ ائمہ ونصوص مذہب صریح قطعی تصریحیں فرمارہے ہیں کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے تو رضیع کی اولاد مرضعہ کی اولاد کے لیے کیونکر حلال ہوسکتی ہے، یہ یقینا نصوص قطعیہ واجماع امت کے خلاف ہے، ائمہ نے صاف ارشاد فرمایا ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے اور رضیع اور پسر مرضعہ دونوں یقینا آپس میں رضاعی بھائی ہیں۔ توان میں ہر ایک کی بیٹی دوسرے پر حرام قطعی ہے، کیا کوئی عاقل یہ بھی گمان کرسکتا ہے کہ ایک بھائی کی بیٹی دوسرے پر حرام ہو اور اس دوسرے بھائی کی بیٹی اس بھائی کے لیے حلال ہو، شرع، عرف، عقل، نقل کسی میں بھی اس لغو وبیہودہ فرق کی گنجائش ہوسکتی ہے؟ حاشا ہر گزنہیں۔
نص ۳۰: شرح وقایہ میں فرمایا: ؎
از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند وزجانب شیرخوارہ زوجان وفروع ۱؎
(دودھ پلانے والی کی جانب سے تمام رشتے حرام ہوں گے اور شیرخوار کی جانب سے وہ اورا س کا زوج یا زوجہ اور اس کے فروع حرام ہوں گے۔ ت)
(۱؎ شرح وقایہ کتاب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۲/۶۷)
یہ شعر نقایہ و شرح الکنز للملامسکین میں بھی مذکور ہے۔ فاضل چلپی وفاضل قرہ باغی محشیان شرح وقایہ و علامہ برجندی شارح نقایہ نے توا س پر ایک حرف بھی نہ لکھااور علامہ قہستانی نے دو سطریں فارسی میں لکھ دیں جن سے ظاہری الفاظ کے سوا مغز مطلب کی کچھ تو ضیح نہ ہوئی عہ۱۔
عہ۱: حیث قال یعنی شیر دہندہ وشوہرش بافرزندان وپدران ومادران وخواہران ایشاں خویش خوارہ شوند وشیرخوارہ وزنش یا شوہرش بافرزندان خویش شیر دہندہ وشوہرش شوند ۱۲ ۲؎۔ (م)
یوں کہا یعنی دودھ پلانے والی اور اس کا خاوند، ان کی اولاد، والدین ، بھائی اور ان کی بہنیں شیرخوار کے رشتہ دار ہوں گے اور دودھ پینے والا اس کی بیوی یا خاوند، اولاد سمیت دودھ پلانے والی اورا س کے خاوند کے رشتہ دار ہوں گے ۱۲ (ت)
(۲؎جامع الرموز للقہستانی کتاب الرضاع مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۵۰۱)
اور علامہ سید ابوالسعود ازہری نے فتح اللہ المیعن میں آدھی سطراس کے ترجمہ عربی کی لکھی جو شعر کے صرف ایک مصرع کا بھی آدھا ہی ترجمہ ہے عہ۲
عہ۲: حیث قال معنی البیت ان زوجات الرضیع وفروعہ یحرمن علٰی ابیہ ۳؎ ۱۲ (م)
یوں کہا شعر کا معنی یہ ہے کہ دودھ پلانے والے کی بیویاں اور اس کی اولاد اپنے رضاعی باپ پر حرام ہیں ۱۲ (ت)
(۳؎ فتح المعین فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۱۳)
سب سے متاخر لکھنوی صاحب نے بھی عمدۃ الرعایہ میں نِرے ترجمہ پر قناعت کی، فقط ایک حرف زائد کیا وہ بھی غلط۔