امام نووی کے الفاظ میں ہمارا اور تمام علماء کا مذہب یہ ہے کہ رضیع اور شوہر مرضعہ میں حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، رضیع اس کا بچہ ہوجاتاہے اور رضیع کی اولاد اس شخص کی اولاد ہوجاتی ہے،
(۱؎ شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الرضاع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۶۶)
یعنی اولاد رضیع جس طرح مرضعہ کی پوتا پوتی نواسا نواسی باجماع قطعی ہے یونہی باجماع مذاہب اربعہ وجملہ ائمہ وفقہاوہ شوہر مرضعہ کے بھی پوتے نواسے ہیں، اور باجماع امت مرحومہ اپنے ماں باپ کے پوتا پوتی نواسا نواسی اپنے لیے حرام قطعی اور اپنے بھتیجا بھتیجی بھانجا بھانجی ہیں۔
نص ۱۱ و ۱۲ و ۱۳ و ۱۴: فتح القدیر، بحرالرائق ، طحطاوی، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ وغیرہا میں ہے:
انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احال مایحرم من الرضاع علی مایحرم من النسب ومایحرم من النسب مایتعلق خطاب تحریمہ بہ و قدتعلق بما قد عبرعنہ بلفظ الامھات والبنات واخواتکم وعماتکم وخالاتکم وبنات الاخ وبنات الاخت فما کان من مسمی ھذہ الالفاظ متحققا من الرضاع حرم فیہ ۲؎۔
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دودھ کی حرمتوں کو نسب کی حرمتوں پر حوالہ فرمایا کہ جو نسب سے حرام ہے دودھ سے بھی حرام ہے، اور نسب سے وہ حرام ہیں جن سے خطاب الہٰی تحریم کے ساتھ متعلق ہوا، اور وہ ان سے متعلق ہوا ہے، جن پر ماں اور بیٹی اور بہن اور پھوپھی اور خالہ یا بھائی کی بیٹی یا بہن کی بیٹی کا لفظ صادق آئے تو دودھ کے رشتوں میں جن جن پر یہ لفظ صادق آئیں وہ بھی حرام ہیں۔
ظاہر ہے کہ اپنی ماں نے جسے دودھ پلایا اس پر بہن یابھائی کالفظ صادق ہے اور اس لیے وہ اپنے اوپر حرام ہے تو اس کی اولاد پر اپنے بھائی یا بہن کے بیٹے کالفظ صادق ہے لاجرم وہ بھی قطعاً حرام ہیں،
نص ۱۵: فتاوٰی بزازیہ میں ہے:
الاصل الکلی فی الرضاع ان کل امرأۃ انتسبت الیک اوانتسبت الیھا بالرضاع او انتسبتما الی شخص واحد بلا واسطۃ اواحد کما بلاواسطۃ والاخربواسطۃ فھی حرام ۱؎۔
یعنی دودھ کے رشتوں میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اس سے چار قسم کی عورتیں حرام ہیں،اول وہ جو دودھ کے سبب تیری طرف منسوب ہو، یعنی تیری بیٹی پوتی نواسی کہلائے یہ رضاعی بیٹی ہوئی، دوسری وہ کہ دودھ کے سبب تو اس کی طرف منسوب ہو یعنی اس کا بیٹا پوتا نواسا ٹھہرے یہ رضاعی ماں ہوئی، تیسرے وہ کہ تو اور وہ دونوں ایک شخص کے بیٹا بیٹی قرارپائیں، یہ رضاعی بہن بھائی ہوئے، چوتھے وہ کہ تم میں ایک تو اس شخص کا بیٹا یا بیٹی ٹھہرے اور دوسرا اس شخص کا پوتا پوتی نواسا نواسی یہ رضاعی خالہ پھوپھی بھتیجی بھانجی ہوئے اوراگر تو پوتا نواساہے اوروہ بیٹی تو وہ تیری پھوپھی یا خالہ ہوئے، شک نہیں کہ صورت مسئولہ میں دودھ پلانے والی بہن کی اولاد بلاواسطہ اس کے بیٹا بیٹی ہے اور دودھ پینے والے بھائی کی اولاد اس مرضعہ بہن کی پوتا پوتی، تو یہ تحریم کی خاص چوتھی صورت ہے۔
(۱؎ فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ الرابع فی الرضاع نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۱۱۵)