Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
142 - 1581
نص ا: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: یحرم من الرضاعۃ مایحرم من النسب ۱؎۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد وابن ماجہ عن ام المومنین الصدیقۃ واحمد ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
جو کچھ نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے، (اس کو ائمہ کرام، احمد، بخاری، مسلم، ابوادؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اور امام احمد، مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
 ( ۱؎ صحیح مسلم        کتاب الرضاع    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۴۶۷)
بھانجا بھانجی، بھتیجا بھتیجی نسب سے حرام ہیں یا نہیں؟ ضرور ہیں، تو دودھ سے بھی قطعا حرام ہیں، اور شک نہیں کہ اپنی نسبتی  ماں کی رضاعی اولاد بہن بھائی ہے، تو اس اولاد کی نسبتی اولاد اپنے سے یہی رشتے رکھتی ہے، اسے یوں سمجھئے  مثلا زید کی ماں ہندہ کا دودھ عمرو نے پیا، تو عمرو اور زید رضاعی بھائی ہوئے، اگر کہے نہ ہوئے تو ہندہ مرضعہ کی بیٹی لیلٰی بھی عمرو رضیع کی بہن نہ ہوگی کہ جب ہندہ کا بیٹا زید عمرو کا بھائی نہ ہوا، تو ہندہ کی بیٹی لیلٰی کس رشتہ سے عمرو کی بہن ہوجائے گی حالانکہ وہ بہ نص قرآن عمرو کی بہن ہے۔
قال اﷲ تعالٰی: وامھتکم الّتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تمھاری مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور تمھاری رضاعی بہنیں۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم  ۴/۲۳)
وعلٰی ہذا القیاس باقی صورتیں، اور جب مرضعہ کی سب اولاد رضیع کے بہن بھائی ہوگئے تو رضیع کی اولاد مرضعہ کے لیے یقینا اپنے بہن بھائی کی اولاد ہے، اور اپنے بہن بھائی کی اولاد یقینا اجماعا حرام ہے، تو پھوپھی بھتیجے یا چچا بھتیجی یا خالہ بھانجے یاماموں بھانجی کا زنا کیونکر حلال ہوسکتاہے، ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
نص ۲: صحیحین میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اور صحیح مسلم میں امیرا لمومنین مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے ہے، انھوں نے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ! حضور کے چچا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی صاحبزادی قریش میں سب سے زائد خوبصورت نوجوان ہیں حضور چاہیں تو ان سے

نکاح فرمالیں،
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
انھا لاتحل لی انھا ابنۃ اخی من الرضاعۃ ویحرم من الرضاعۃ مایحرم من الرحم ۱؎۔
وہ میرے لیے حلال نہیں وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور جو کچھ نسبی رشتہ سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے،
 (۱؎ صحیح مسلم        کتاب الرضاع    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۴۶۷)
دوسری حدیث کے لفظ یہ ہیں:
اما علمت ان حمزۃ اخی من الرضاعۃ وان اﷲ حرم من الرضاعۃ ماحرم من النسب ۲؎۔
تمھیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے دودھ شریک بھائی ہیں اور اللہ نے جو رشتے نسب سے حرام فرمائے وہ دودھ سے بھی حرام فرمائے ہیں۔
 (۲؎ مسند امام احمد   کتاب الرضاع   دارالفکر بیروت    ۱/۲۷۵)
صاف اشارہ ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے جب بھائی نے اپنی بہن کا دودھ پیا تو وہ اپنی بہن کے بیٹے کا رضاعی بھائی ہوگیا تو اس کی بیٹی بہن کے بیٹے کے لیے کیونکر حلال ہوسکتی ہے!
نص ۳: نیز صحیحین میں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے درہ بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے بارے میں فرمایا:
لولم تکن ربیبتی ماحلت لی ارضعتنی واباھا ثویبۃ ۳؎۔
یعنی اول تو میری ربیبہ ہے کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بیٹی ہے اور اگر ربیبہ نہ بھی ہوتی جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی کہ اس کے باپ ابو سلمہ میرے رضاعی بھائی تھے مجھے اور ان کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم ۔
 (۳؎ صحیح مسلم          کتاب الرضاع    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲۶۸)
یہ بھی اس طرح نص صریح ہے کہ رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے۔
نص ۴ و ۵: مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں شرح السنۃ امام بغوی رحمہ اللہ تعالٰی سے شرح حدیث اول میں ہے:
فی الحدیث دلیل علی ان حرمۃ الرضاعۃ کحرمۃ النسب فی المناکح فاذا ارضعت المرأۃ رضیعا یحرم علی الرضیع و اولادہ من اقارب المرضعۃ کل من یحرم علی ولدھا من النسب ۱؎۔
یعنی اس حدیث میں دلیل ہے کہ نکاحوں کے بارے میں دودھ اور نسب کی حرمت ایک سی ہے، تو جب کوئی عورت کسی بچہ کا دودھ پلائے تو اس رضیع اور رضیع کی اولاد پر مرضعہ کے وہ سب رشتہ دارحرام ہوجائیں گے جو مرضعہ کی نسبی اولاد پر حرام ہیں،
(۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ        باب المحرمات    مکتبۃ امدایہ ملتان    ۶/۲۳۔ ۲۲۲)
یہ عام نص صریح ہے کہ رضیع کی تمام اولا دپر مرضعہ کی تمام اولاد حرام ہے،
Flag Counter