Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
141 - 1581
الجواب: انا ﷲ وانا الیہ راجعون، انا ﷲ وانا الیہ راجعون، انا ﷲ وانا الیہ راجعون، حرام قطعی حلال کردیا گیا، محارم سے زنا حلال کردیاگیا، چچا بھتیجی کا نکاح حلال کردیا گیا، پھوپھی بھتیجے کا نکاح حلال کردیا گیا، ماموں بھانجی کا عقد حلال کردیاگیا، خالہ بھانجی کا زنا حلال کردیا گیا، خلاصہ یہ ہے کہ گویا ماں بیٹے کا نکاح حلال کردیا گیا، باپ بیٹے کا زنا حلال کردیا گیا، لاالٰہ الا اﷲ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ۔ اول یہ قیامت مراد آباد میں ایک وہابی خیال مولوی عالم صاحب نے اُٹھائی اور غیر مقلدوں کے پیشوا نذیرحسین مع ذریات نے اس پر مہر لگائی، یہاں سے ا س کا رد ہوکر گیا، وہ پرانا سیانا رجوع کرگیا، اور دوسرا فتوی اس کی حرمت میں لکھا اور پہلے کا یہ عذر بد تر گناہ پیش کیا کہ:

قبل ازیں بر فتوائے مولوی عالم صاحب کہ درحلت آن نوشتہ بودند براعتماد ایشان بر نظر سرسری مہر من کردہ شد،

اس سے پہلے مولوی صاحب کے فتوی پر جو کہ اس کے حلال ہونے میں انھوں نے لکھا تھا ان پر اعتماد کرتے ہوئے سرسری نظر سے میری مہر لگادی گئی۔ (ت)
حلال وحرام خصوصاً معاملہ فروج میں نظر سرسری کا عذر اپنی کیسی صریح بددیانتی اورآتش جہنم پر سخت جرأت و بیباکی کا کھلا اقرار ہے،
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار ۱؎۔
تم میں سے جو فتووں پر زیادہ جرأت کرتاہے وہ آگ پر زیادہ جرأت کرتا ہے۔ (ت)
 (۱؎ کنز العمال        حدیث ۲۸۹۶۱    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۰/۱۸۴)
خیر یہ تو غیر مقلد کے لازم بین ہے مگر ''براعتماد زایشاں'' نے انکے اجتہاد کی جان پر پوری قیامت توڑ دی، اے سبحان اللہ! مجتہدی کا دعوٰی اورایک ادنی سے ادنی مقلد پر حلال وحرام میں یہ تکیہ بھروسا، اور اس ''کردہ شد'' کے لطف کو تو دیکھئے، کیا شرمایا ہوا صیغہ مجہول ہے، گویا انھوں نے خود اس پر مہر نہ کی کوئی اور کرگیا، اللہ یوں اپنی نشانیاں دکھا دیتا ہے اور ائمہ کے مقابلہ کا مزہ چکھا تا ہے نسأل اﷲ العفو والعافیہ (ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، ت)اسکی تفصیل اسی زمانہ میں رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافترا میں لکھی گئی، دوبارہ اسی زنائے محارم کو حلال کرنے کی سخت اشد آفت کلکتہ سے اٹھی، کوئی صاحب مولوی لطف الرحمن بردوانی ہیں انھوں نے جہان بھر کے تمام علماء کو مخاطب کرکے ایک عربی طویل سوال چھپوایا اور یہاں بھیجا، بفضلہ تعالی اس کے جواب میں یہاں سے عربی رسالہ نقد البیان لحرمۃ ابنۃ اخی اللبان اعلٰی مباحث ودلائل فقہ ونصوص پر مشتمل تصنیف ہوکر بھیج دیا گیا، جس نے بحمد اللہ تعالٰی سارا اُبال بیٹھا کرجاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا ۲؎ ( حق آیا اور باطل زائل ہوا بیشک باطل زوال پذیر ہے۔ ت) کا نقشہ کھینچ دیا،
 (۲؎ القرآن الکریم     ۱۷/۸۱)
اب سہ بارہ یہ بلائے عظیم لاہور سے اٹھنے کورہ گئی تھی، گویا ہر سولھویں سال اس وبال میں اُبال آتا ہے، پہلے ۱۲۹۸ھ میں اُٹھا پھر ۱۳۱۴ھ میں ، اب ۱۳۳۰ھ میں، وہابیت کو ایسے فتوے زیب دیتے تھے کہ ان کے قلوب اوندھے کردئے جاتے ہیں ، مگر اس بار صدمہ سخت تر ہے کہ ہمارے بعض سنی علماء نے اس میں شرکت کی، انا ﷲ وانا الیہ راجعون، ابھی چندہی مہینے تو ہوئے کہ فقیر نے اس واقعہ ہائلہ نذیر حسین دہلوی کو اپنا رسالہ تازہ کا سرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدارھم میں ذکر کیا اور وہ چھپ کر شائع ہوگیا، احباب نے یا تو اُس ضروری تصنیف کو براہ بے پرواہی ملاحظہ نہ فرمایا، یا اس قدر بھول گئے، انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ فقیر از انجا کہ ''نقد البیان'' میں بہ تقریب از ہاق اوہام بردوانی، اس مسئلہ کی تحقیق بازغ کر چکا ہے، یہاں صرف چند نصوص ہندی کی چندی کرکے عرض کرے کہ کسی طرح اس دھوکے کا سدباب توہو، آخریہ فتنہ کتنی بار اٹھے گا!
Flag Counter