| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
رسالہ الجلی الحسن فی حرمۃ ولداخی اللّبن (۱۳۳۰ھ) (اولاد رضیع اور اولاد مرضعہ کے درمیان حرمت نکاح کا عمدہ اور روشن بیان)
کسی کم علم نے ایک غلط فتوی درباب جوازنکاح مابین اولاد رضیع ومرضعہ لکھ دیاتھا وہ فتوی بذریعہ مولوی اکرام الدین صاحب امام وخطیب مسجد وزیر خاں اعلٰیحضرت امام احمد رضاخان بریلوی تک پہنچا توآپ نے اس کے رد میں مندرجہ ذیل المسمی بہ الجلی الحسن فی حرمۃ ولداخی اللبن مستند بنصوص صحیحہ و مبرہن بہ براہین شرعیہ تحریر فرمایا، وھوھذا
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد ﷲ الذی خلق الانسان فجعلہ نسباً وصھرا وجعل الرضاع کالنسب فوھب بہ محرمیۃ اخری والصلوۃ والسلام علی من ھدانا للصواب ووعد علیہ جزیل الثواب فاعظم البشری واوجب التثبت فی الافتاء وحرم الاجتراء فاوعد علیہ وعید انکرا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واٰلہ وصحبہ والمنتمین الیہ الدنیا واخری، اٰمین!
اللہ تعالٰی کے لیے سب تعریفیں جس نے انسان کو پیدا فرمایا تو اس کو نسب اور سسرالی رشتہ سے نواز اور رضاعت کو نسب کی مثل بنایا تو اس کے سبب ایک اور محرمیۃ عطاکی، صلوٰۃ وسلام اس ذات پر جس نے ہمیں درستگی کی رہنمائی فرمائی، اوراس پر بھاری ثواب کا وعدہ فرمایا تو بشارت عظیم فرمائی اور جس نے فتوی دینے میں مضبوطی کو واجب اور جسارت کو حرام فرمایا تو جسارت پر سخت وعید فرمائی، اللہ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو آپ پر اور آپ کی آل واصحاب پر اور ان سب پر جو آپ کی طرف دنیا وآخرت میں منسوب ہوں، آمین (ت)
مسئلہ ۲۸۰: از لاہور مرسلہ مولوی اکرام الدین صاحب بخاری وامام وخطیب مسجد وزیرخان مرحوم ۲۳ جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ ہجری المقدس جناب مستطاب ، محمدت مآب، قدوۃ الابرار واُسوۃ الاخیار، زین الصالحین وزبدۃ العارفین، علامۃ العصرو فریدالدہر، عالم اہل السنۃ، مجد دمائۃ حاضرہ، استاذزمان ومقتدائے جہان، لازوال نتیجہ خاطرہ، درۃ تاج الفیضان وثمرۃ شجرۃ ضمیرہ باکورۃ بستان العرفان السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ، بعد اتحاف اساس تسلیمات حورا صورت کہ رخسارہ صفا اماراتش ازتکلف حلل عبارت مستغنی ست درنظر آن سلیمان ملک عرفان معروض دارم التجاء مخلصانہ بخدمت والامرتبت انیست کہ فتوی بہ ہمراہی مکتوب ارسال داشتہ شد موافق رائے مبارک عالی سطرے نوشتہ بنام نیازمند ارسال نمایند، الہٰی سلامت باشند ثم السلام، کتبہ المسکین محمد اکرام الدین بخاری عفاعنہ الباری، نورانی اور روشن تسلیمات کے تحائف جن کا رخ زیبا لباس الفاظ کے تکلف کا محتاج نہیں، سلطنت عرفان کے بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد مخلصانہ التجا ہے اپنی رائے عالی کے موافق چند سطریں تحریر فرماکر اس نیاز مند کے نام روانہ فرمادیں اللہ تعالٰی سلامت رکھے، والسلام ، کتبہ المسکین محمد اکرام الدین بخاری عفاعنہ الباری۔ (ت) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی حقیقی بہن کا دودھ پیا ہے، اس شخص اور اس کی بہن سے اولاد پیدا ہوئی، یہ بھائی بہن اپنی اولادکا آپس میں نکاح کرنا چاہتے ہیں ، ان کی اولاد کا نکاح شرعا آپس میں درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: شخص مذکور کی اولاد کا نکاح اس کی بہن مرضعہ کی اولاد کے ساتھ جائز ہے کیونکہ حرمت رضاعت خاص رضیع کے لیے ثابت ہوتی ہے، رضیع کے اصول وفروع کے لیے حرمت مذکورہ ثابت نہیں ہوتی، پس دودھ پینے والی بمعہ جمیع فروع کے حرام ہے، فروع رضیع پر فروع مرضعہ ہرگز حرام نہیں ہوسکتا، چنانچہ شرح وقایہ وغیرہ میں محرمات بالرضاع کو اس شعر میں درج کیا ہے: ؎
از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند وزجانب شیرخوارہ زوجان وفروع (دودھ پلانے والی کی جانب سے تمام رشتے حرام ہوں گے اور شیرخوار کی جانب سے وہ اور اس کا زوج یا زوجہ، اورا س کے فروع حرام ہوں گے۔ ت)
تحرم المرضعۃ وزوجھا علی الرضیع ویحرم قومھا علی الرضیع کما فی النسب وتحرم فروع الرضیع علی المرضعۃ وزوجھا ویحرم زوجا الرضیع علی المرضعۃ وزوجھا۱؎ کذافی شرح الوقایۃ ص۶۳۔
دودھ پلانے والی خود، اس کا خاوند اور اس کی قوم دودھ پلانے والے پر حرام ہوگی جیسے نسب میں حرام ہیں، اور دوھ پینے والے کے فروع دودھ پلانے والی اور اس کے خاوند پر حرام ہیں، اور خود دودھ پینے والا اور اس کا زوج یا زوجہ دودھ پلانے والی اوراس کے زوج پر حرام ہیں، شرح وقایہ میں ایسے ہی ہے ص ۶۳ (ت)
(۱؎ شرح وقایہ کتاب الرضاع مجتبائی دہلی ۲/۶۷)
اس عبارت سے واضح ہوا کہ حرمت رضاعت رضیع کے لیے ثابت ہے،رضیع کی اولاد پر مرضعہ کی اولاد جائز ہے، بنا بریں شخص مذکور کی اولاد اپنی ہمشیرہ کی اولاد پر حلال ہے، آپس میں ان کا نکاح درست ہے،