Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
139 - 1581
ایں حدیث بالفاظ متنوعہ وروایات متظافرہ در دواوین اسلام مروی ومنقول است واز صدر اسلام تاحال میان علماء متلقی بالقبول ہمیں امام ترمذی در ہماں جامع فرماید والعمل علی ھذا عندعامۃ اھل العلم من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وغیرھم لانعلم بینھم فی ذٰلک اختلافا ۱؎ وحکم برخلاف سنت مشہورہ نافذ نہ شود،
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ کثیر روایات میں ہے اور اسلام کی قانونی کتب میں مروی ومنقول ہے اور ابتداء اسلام سے آج تک علماء کے درمیان مقبول ہے، امام ترمذی نے اپنی جامع میں فرمایا کہ اس پر عام صحابہ اوربعد والوں کا عمل ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اور سنت مشہورہ کے خلاف حکم نافذ نہیں ہوسکتا،
(۱؎ جامع الترمذی    ابواب الرضاع        امین کمپنی کتب خانہ رشدیہ دہلی    ۱/۱۳۷)
در تنویر الابصار است اذارفع الیہ حکم قاض آخر نفذہ الاماخالف کتاباً اوسنۃ مشہورۃ اواجماعا۲؂ ثانیا مخالف اجماع من یعتد باجماعہم افتادہ ست کما تقدم بیانہ، وامام شعرانی شافعی درمیزان الشریعۃ الکبرٰی فرمود اتفق الائمۃ علی انہ یحرم من الرضاع مایحرم من النسب ۳؎ وحکم برخلاف اجماع نفاذنیست،
اور تنویر الابصار میں ہے کہ جب ایک قاضی کے پاس دوسرے قاضی کا حکم پہنچے تو ا س کو نافذ کرے بشرطیکہ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اوراجماع کے خلاف نہ ہو، ثانیا اس لیے کہ جن لوگوں کا اجماع معتبر ہے ان کے اجماع کے بھی خلاف ہے جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے، اور امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرمایا ہے کہ ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جو رشتہ نسب کی وجہ سے حرام ہے وہ رضاع کی وجہ سے بھی حرام ہے اور اجماع کے خلاف حکم نافذ نہیں ہوسکتا
،(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الصلوٰۃ باب فی الحبس    مجتبائی دہلی            ۲/۷۹۔ ۷۸)

(۳؎ میزان الشریعۃ الکبرٰی    کتاب الرضاع        مصطفی البابی مصر        ۲/۱۳۸)
ائمہ ثقات اثبات از حکایات شاذہ غافل نبودند بلکہ خود ذکر نمودہ اند بازتصریح فرمودہ کہ دریں مسئلہ جز ظاھریہ وابن علیہ کسے راخلاف نیست چنانکہ از امام قاضی عیاض مالکی وامام ابو زکریا نووی شافعی وامام محمود عینی حنفی گزشت فمن الغریب نسبۃ الغراب الیھم علی ماوقع فی فتح المغیث واگر بالفرض اینجا قولے ضعیف محکی بود کما اول بہ فی الفتح الفقھی، پس حکم وفتوے بر قول ضعیف ومرجوح خود جہل وخرق اجماع است کما فی تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم والدرالمختار ثالثا حکم بخلاف قاضی مجتہد راست مقلدرا  روانبود بر خلاف امام خود حکم کردن تنویر الابصار ست قضی فی مجتھد فیہ بخلاف رأیہ لاینفذ مطلقا وبہ یفتی ۱؎
اور کسی مسئلہ کو ثابت قرار دینے والے ائمہ ثقات خود بھی شاذ حکایات سے غافل نہیں ہوتے بلکہ خود ان کوذکر کردیتے ہیں، نیز انھوں نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ اس مسئلہ کا ظاہریہ اور ابن علیہ کے بغیر کسی نے خلاف نہیں کیا، جیساکہ امام قاضی عیاض ، ابو زکریا نووی شافعی اورامام محمود عینی حنفی سے گزرا فتح المغیث میں ان حضرات کی طرف شاذ امور کو منسوب کرناتعجب کی بات ہے ، اگر بالفرض یہاں کوئی ضعیف قول نقل کیا گیا ہو جیساکہ فتح القدیر میں تاویل کی گئی ہے تو بھی ضعیف قول او رمرجوع قو ل پر فتوٰی دینا خود جہالت اور اجماع کے خلاف ہے جیساکہ علامہ قاسم کی تصحیح القدوری میں اور درمختار میں ہے، ثالثاً مخالف کے قول پر فیصلہ کا اختیار صرف مجتہد قاضی کو ہے، مقلد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے امام کے قول کے خلاف فیصلہ کرے، تنویر الابصار میں ہے کہ قاضی کا مجتہد فیہ میں اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ مطلقاً نافذ نہ ہوگا اور اسی پر فتوی ہے،
 (۱؎ درمختار متن تنویر الابصار    باب القضاۃ    فصل فی الحبس    مجتبائی دہلی            ۲/۸۰)
ودرمختار است ؎  ولوحکم القاضی بحکم مخالف   لمذھبہ ماصح اصلایسطر ۲؎
در ردالمحتار آورد اما المقلد فلایملک المخالفۃ ۳؎
اور درمختار میں ہے کہ اگر قاضی نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیا تو نافذ نہ ہوگا اور یہ صحیح نہ ہوگا۔ اور ردالمحتار میں کہا: لیکن مقلد اپنے مذہب کی مخالفت نہیں کرسکتا
 (۲؎ درمختار متن تنویر الابصار    باب القضاۃ    فصل فی الحبس    مجتبائی دہلی   ۲/۸۰)

(۳؎ ردالمحتار          باب القضاۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/۳۳۵)
مجیب عبارتش از سابق ولاحق قطع کردہ آورد و خود درقدر منقول خود لفظ ادعی ندید رابعا اگر از ہمہ گزرند قضاء شرعی چیز یست کہ رفع خلاف مے کند، نہ کہ دو حروف خوانند وخود رابرمندِ افتاء نشانند، ہرچہ خواہند برزبان رانند، وخلاف مرتفع شود، ومذہب مردود ومندفع حاشاﷲ لایقول بہ جاھل فضلا عن فاضل نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ 

فقیر مصطفی رضاخاں قادری نوری غفرلہ
مجیب نے ان کی عبارت سیاق وسباق سے کاٹ کر پیش کی اور خود اس نے جوان کی عبارت نقل کی اس میں لفظ ادعی کو نہ دیکھا، رابعاً یہ کہ اگر مذکورہ امور کو نظر انداز بھی کردیں تو قضا شرعی طور پر ایسا اہم عہدہ ہے کہ جس میں جمہور کے خلاف کو ختم کیا جاتا ہے، نہ کہ چند حرف پڑھ لیے اور مسند قضا پر بیٹھ کر جو کچھ چاہے اس کو زبان پر جاری کردے اور یہ خیال نہ کر ے کہ میرے فیصلہ سے خلاف قوی اور مذہب کمزور ہوگا، اللہ تعالٰی کا خوف ہو تو خلاف والا قول جاہل بھی نہ کرے چہ جائیکہ کوئی فاضل کرے، اللہ تعالٰی سے عافیت اور معانی کی درخواست ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ فقیر مصطفی رضاخاں قادری نوری غفرلہ
فی الواقع نکاح مذکور باطل وحرام محض ست و برآں کس از دختر برادر خودش فوراً فوراً جدا شدن فرض است تزویج ایناں جہل وتنفیذ اوظلم شدید، واللہ تعالٰی اعلم۔
فقیر احمد رضاقادری عفی عنہ

فی الواقع نکاح مذکور باطل او رمحض حرام ہے اس شخص پر لازم ہے کہ فوراً فوراً اپنے بھائی کی نواسی سے جدائی اور علیحدگی اختیار کرے، اس نکاح کو نافذ کرنا اور جائز کہنا جہالت اور ظلم شدید ، واللہ تعالٰی اعلم۔

فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ
Flag Counter