امام ابو یوسف اردبیلی شافعی نے کتاب الانوار میں فرمایا کہ جس مرد سے عورت کو دودھ اترا وہ دودھ پینے والے بچے کا باپ ہے اور اس کی تمام اولاد خواہ اس مرضعہ سے ہو یا کسی دوسری عورت سے وہ سب اس بچے کے بہن بھائی ہوں گے،
(۳؎ الانوارلاعمال الابرار)
علامہ زین الدین شافعی تلمیذ ابن حجر مکی در قرۃ العین فرماید تصیر المرضعۃ امہ وذواللبن اباہ وتسری الحرمۃ من الرضیع الٰی اصولھما وفروعھما وحواشیھما نسباً ورضاعاً ۴؎ تاایں جاہمہ نصوص کبرائے شافعیہ است وصاحب البیت ابصربما فی البیت وصاحب الدار ادری،
علامہ زین الدین شافعی ابن حجر مکی کے شاگرد قرۃ العین میں فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی، ماں، اور دودھ والا مرد باپ ہوگا، اور پھر یہ حرمت بڑھ کر بچے سے مرد و عورت کے اصول وفروع اور ان کے نسبی اور رضاعی متعلقین تک سرایت کرجاتی ہے، تمام نصوص شافعی حضرات کی اس مسئلہ میں یہی ہیں، جبکہ گھر والا گھر کی باتوں کو زیادہ جانتا ہے،
(۴؎ قرۃ العین مع شرح فتح العین ارکان النکاح مطبعۃ عامرا لاسلام تروز نگاڈی کیرلہ ص۳۹۰)
امام اجل قاضی عیاض مالکی درشرح صحیح مسلم فرماید لم یقل احد من ائمۃ الفقھاء واھل الفتوی باسقاط حرمۃ لبن الفحل الااھل الظاھر وابن علیۃ والمعروف عن داؤد موافقۃ الائمۃ الاربعۃ ۱؎
برگزیدہ امام قاضی عیاض مالکی صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ائمہ فقہاء اور اصحاب فتوی میں سے کسی نے بھی دودھ والے خاوند کی حرمت کو ساقط نہیں کیا ماسوائے ابن علیہ اور اہل ظاہر حضرات کے، اور داؤد ظاہر ی سے نقل مشہور ہے کہ وہ بھی ائمہ اربعہ کے موافق ہے،
(۱؎ شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض مالکی)
امام جلیل بدرالدین محمود عینی درعمدۃ القاری فرمایند لبن الفحل یحرم وھو قول ابی حنیفۃ ومالک والشافعی واحمد واصحابھم وقال القاضی عیاض لم یقل احد من الائمۃ۲؎ الخ (ملخصا) این ست نقول ونصوص ائمہ اجلہ ثقات اثبات ونسبتے کہ درخانیہ وہدایہ واقع شدہ معارضش نتواں بود در نقل مذہب غیربارہا زلت روی نماید،
برگزیدہ امام بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری میں فرمایا ہے کہ د ودھ والے خاوند کی حرمت تمام ائمہ ابوحنیفہ، شافعی، مالک اور احمد اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے اور قاضی عیاض نے فرمایا کہ کسی امام نے اس حرمت کے اسقاط کا قول نہیں کیا، یہ ہیں تمام ثقہ ائمہ کی نصوص جو ان سے منقول ہیں، اور وہ جو خانیہ اور ہدایہ میں اس کے خلاف ان ائمہ کی طرف منسوب ہے وہ ان نصوص کے معارض نہیں ہوسکتا کیونکہ بارہا دوسروں کے مذہب کو نقل کرنے میں اکثر لغزش ہوجاتی ہے،
(۲؎عمدۃ القاری باب لبن الفحل اداراۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر ۲۰/۹۷)
یکے از اکابر شافعیہ تحلیل زنا بحربیہ در دارالحرب، ودیگرے اجلہ شافعیہ حلت غراب بحضرت امام اعظم نسبت کرد وہردوباطل است درہمیں ہدایہ حلت متعہ بامام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ نسبت نمود حالانکہ بامام مالک بروے حد زنا مے زنند کما ھو قول عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما اذقال جرب علی نفسک لان فعلتھا لارجمنک باحجارک ۳؎ بخلاف حنفیہ ودیگر ائمہ کہ حرام دانند وتاحدنرسانند
شافعی مسلک کے اکابرین میں سے ایک نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کی طرف منسوب کردیا کہ ان کے نزدیک دارالحرب میں حربی عورت سے زنا جائزہے اور دوسرے نے امام ابو حنیفہ کی طرف کوے کے حلال ہونے کی نسبت کردی جبکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں،اور اسی ہدایہ میں امام مالک کی طرف متعہ کے حلال ہونے کی نسبت کردی گئی حالانکہ امام مالک ایسے شخص پر حد زنالگاتے ہیں جیساکہ حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا قول ہے کہ یہ تجربہ کرکے دیکھ اگر تو کریگا تومیں تجھے تیرے ہی پتھروں سے رجم کروں گا بخلاف حنفیہ اور دیگر ائمہ کہ وہ متعہ کو حرام کہتے ہیں مگر حد نہیں لگاتے
(۳؎ صحیح مسلم باب نکاح المتعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۵۲)
بالجملہ جوازایں نکاح باطل است ہرگز نہ مذہب امام شافعی است نہ مذہب ہیچکس ازائمہ مجتہدین متبوعین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین،ابن علیہ مردے از محدثین است عداد درمجتہدین ائمہ نسیت واگر باشد متفرد است وظاھر یہ خود مبتدعا نند ومبتدع را دراجماع اعتبارے نیست ووفاقش ملحوظ نشود وبخلافش خلل نہ پزیرند، لانھم لیسوا من الائمۃ علی الاطلاق کمافی التوضیع وغیرہ لیسوا من امۃ الاجابۃ وانما ھم من امۃ الدعوۃ، کمافی مرقاۃ المفاتیح وغیرھا، وخود درخصوص ظاھریہ از امام ابن حجر مکی گزشت کہ مخالفت ایشاں اصلاً قابل التفات نیست، پس دریں مسئلہ حکم بخلاف رازنہار مساغ نیست اولاً خلاف سنت مشہورہ است کہ ان اﷲ حرم من الرضاع ماحرم من النسب ۱؎۔
خلاصہ یہ کہ نکاح باطل ہے اور کسی بھی امام خواہ شافعی ہویا کوئی اور مجتہدین میں سے کسی کے مذہب میں جائز نہیں ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم، ابن علیہ کا شمار محدثین میں تو ہوتا ہے مگر مجتہدین میں نہیں، اور اگر بالفرض ہو بھی تو وہ دوسرے ائمہ سے الگ تھلگ ہے، رہا ظاہریہ فرقہ تو وہ بدعتی فرقہ ہے جبکہ اجماع کے معاملہ میں بدعتی کا اعتبار نہیں ہوتا، اس کی موافقت اور مخالفت کا کوئی اثر اجماع پر نہیں پڑتا کیونکہ یہ ائمہ میں سے نہیں ہیں، جیسا کہ توضیح وغیرہ میں ہے، اور امت اجابہ میں سے نہیں بلکہ وہ امت دعوت میں سے ہیں جیساکہ مرقاۃ المفاتیح وغیرہ میں ہے، اور خود ظاہریہ فرقہ کے بارے میں امام ابن حجر مکی کا قول گزرا کہ ان کی مخالفت قابل التفات نہیں ہے لہذا اس مسئلہ میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں اولا اس لیے کہ اس کا خلاف سنت مشہورہ کے خلاف ہے جو کہ یہ ہے جو نسب کی بناء پر حرام فرمایا ہے وہ رضاعت کی بناء پر بھی اللہ تعالٰی نے حرام فرمایا ہے،
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الرضاع امین کمپنی کتب خانہ رشدیہ دہلی ۱/۱۳۶)