Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
137 - 1581
مفتیان خشم نہ کنند اینکہ گفتہ شد خیرخواہی ایشاں بود، حرام خدا راحلال گرفتن وزنائے پدر بادخترش روا داشتن نہ سہل کارے ست۔ ہرکہ ہمچو ضلالت فظیعہ تنبیہ کرد مستوجب شکراست نہ مستحق شکایت واﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم ۲؎ وبرآں ناکح زانی فرض ست کہ دختر رااز تصرف خود واگزارد وبرآں منکوحہ مزنیہ فرض ست کہ بپائے کہ دارد از زنائے پدرش بگریزد فوراً فوراً ورنہ آناں ومزوجان آناں ومجوزاں اینہا ھمہ عذاب شدید الہٰی منتظر باشند، نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم ،
ان مفتیوں کویہ کہتے ہوئے خوف خدا نہیں کہ یہ خیر خواہی ہے، اللہ تعالٰی کے حرام کردہ کو حلال بنانا اور باپ بیٹی سے زنا کو جائز کرنا کوئی آسان کام ہے، ہرگزنہیں، اور جس شخص نے ان کی اس گمراہی پر تنبیہ کی وہ شکریہ کا مسحق ہے نہ کہ شکایت کا، اور اللہ تعالٰی جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے ، اس نکاح کرنے والے زانی پر فرض ہے کہ وہ فوراً لڑکی کو آزاد کردے اور جدائی اختیار کرے، اور منکوحہ مزنیہ پر لازم ہے کہ اپنی توفیق کے مطابق رضاعی باپ کے زنا سے فوراً بچے اور جدائی اختیار کرے ورنہ یہ دونوں اور نکاح کو نافذ کرنے والے اور جائز کرنے والے سب اللہ تعالٰی کے شدید عذاب کا انتظار کریں، ہم اللہ تعالٰی سے عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ولا حول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
 (۲؎ القرآن الکریم      ۲/۲۱۳)
امام اجل ابو زکریا نووی کہ احد الشیخین مذہب امام شافعی ست ونص اوہمچو نص امام شافعی ست رضی اللہ تعالٰی عنہم در شرح صحیح مسلم فرماید اما رجل المنسوب ذٰلک اللبن الیہ لکونہ زوج المرأۃ اووطئھا بملک اوشبھۃ فمذھبنا ومذھب العلماء کافۃ ثبوت حرمۃ الرضاعۃ بینہ وبین الرضیع ویصیر ولدالہ واولاد الرجل اخوۃ الرضیع واخواتہ ویکون اخوۃ الرجل اعمام الرضیع واخواتہ عماتہ، ویکون اولاد الرضیع اولاد الرجل ولم یخالف فی ھذہ الااھل الظاھر وابن علیۃ ۱؎
شافعی مسلک کے شیخین میں سے ایک برگزیدہ امام ابو زکریا نووی جن کی نص امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کے منصوص کی طرح ہے ، انھوں نے شرح مسلم شریف میں فرمایا ہے کہ وہ شخص جس کی طرف یہ دودھ منسوب ہے کیونکہ یہ عورت کا خاوند ہے یا لونڈی کا مالک یا شبہ کی بناپر وطی کی ہے تو اس کے متعلق ہمارا اور تمام علماء کا مذہب ہے کہ اس کے اور دودھ پینے والے بچے کے درمیان حرمت رضاع ہوگی اوریہ اس بچے کا باپ ہوگا اور اس کی دوسری اولاد اس بچے کے بہن بھائی ہوں گے اور اس شخص کے اپنے بھائی بہن اس بچے کے لیے چچا اور پھوپھی ہوں گے اور اس بچے کی اولاد اس شخص کی اولاد قرار پائے گی، اس میں اہل ظاہر وابن علیہ کے بغیر کسی کو اختلاف نہیں۔
(۱؂شرح صحیح مسلم للنووی    کتاب الرضاع    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۴۶۶)
ایں تصریح صریح ایں امام شافعیہ ببیں کہ مذہب ماوجملہ علماء تحریم ست ودروخلاف نہ کرد ندجزء فرقہ ظاہریہ وابن علیہ طرفہ آنکہ مجیب عبارت مذکورہ نووی از ینجا نقل کرد کہ لم یخالف فی ھذہ الخ وصد رکلام کہ فرمودہ بودند کہ مذہب ماو مذہب جملہ علماء تحریم ست در پردہ اخفا داشت وامام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ راظلماً ازاہل ظاھر شمرد حالانکہ ظاہر یہ طائفہ ایست مخالف ائمہ اربعہ وسائر مجتہدین شاہ عبدالعزیز صاحب گفتہ اندا داؤد ظاھری ومتبعانش را از اہل سنت وجماعت شمردن درچہ مرتبہ از جہل وسفاہت ست رافضیاں کہ ظاھریہ راسنی گرفتہ باقوال ایشاں بر اہلسنت اعتراض می کردند، شاہ صاحب جوابش دادند کہ فرقہ ظاھریہ ہر گز از اہلسنت نیست، ایں جہل وسفاہت شماست کہ ایشاں راسنی گرفتہ برسنیان طعن مے کنید،
شافعی حضرات کے امام کی صاف تصریح ہے کہ ہم اور تمام علماء اس تحریر پر متفق ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے اس میں فرقہ ظاہریہ اور ابن علیہ کے بغیر کسی نے خلاف نہ کیا، تعجب ہے کہ مجیب نے امام نووی کی صرف اتنی عبارت کہ ''مخالفت نہیں کی'' کو نقل کیا اور اس سے پہلی عبارت کہ ''ہمارا تمام علماء کا مذہب تحریم ہے'' کو چھپالیا اور پھر امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی کو غلط طورپر اہل ظواہر میں شمار کردیا، حالانکہ ظاہریہ فرقہ تمام ائمہ مجتہدین کے خلاف ہے، شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا ہے کہ داؤ د ظاہری اوراس کے پیروکار کو اہلسنت سے شمار کرنا انتہائی جہالت ہے، رافضیوں نے ظاہریہ فرقہ کو اہلسنت کہہ کر ان کی باتوں کی وجہ سے اہلسنت پر اعتراض کئے ہیں، شاہ صاحب نے جواب میں رافضیوں کو فرمایا کہ ظاہری فرقہ ہر گز اہلسنت نہیں ہے ان کو اہلسنت کہنا تمھاری انتہائی جہالت ہے جس کی وجہ سے تم سنیوں پر اعتراض کرتے ہو،
امام ابن حجر مکی شافعی درکف الرعاع فرماید واعلم ان الائمۃ صرحوابان الظاھریۃ لایعتد بخلافھم، ولایجوز تقلید احد منھم لانھم سلبوا العقول حتی انکرو االقیاس الجلی ۱؎۔ نیز فرمود لانھم اصحاب ظاہریۃ محضۃ تکاد عقولھم ان تکون مسخت، ومن وصل الی انہ یقول ان بال الشخص فی الماء تنجس او فی اناء ثم صبہ فی الماء یتنجس کیف یقام لہ وزن، ویعد من العقلاء فضلاء عن العلماء ۲؎۔
امام ابن حجر مکی شافعی اپنی کتاب کف الرعاع میں فرماتے ہیں: جانناچاہئے کہ ائمہ کرام نے تصریح کی ہے کہ ظاہر یہ فرقہ کے مخالف ہونے کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کی تقلید جائز ہے، کیونکہ وہ مسلوب العقل لوگ ہیں حتی کہ وہ قیاس جلی کا بھی انکار کرتے ہیں، نیز انھوں نے فرمایا کہ یہ لوگ محض ظاہری ہیں تقریبا بے عقل ہیں، اوریہاں تک کہہ گئے اگر کوئی شخص پانی میں پشاب کرے تو پانی ناپاک ہے اور اگر کسی برتن میں پیشاب کرکے پانی میں ڈال دے تو پانی پاک ہے ناپاک نہ ہوگا۔ تو ایسے لوگ کس شمار میں ہیں، ان کو اہل عقل میں شمار کرنا کیسے مناسب ہے چہ جائیکہ ان کو علماء میں شمار کیا جائے ۔
 (۱؎ کف الرعاع        القسم الرابع عشر باب فی بیان ان مامرہ صغیرۃ اورکبیرۃ    دارالکتب العلمیہ بیروت     ص۱۴۴)

(۲؎ کف الرعاع    تنبیہ ادلۃ التحلیل والردعلیہا            دارالکتب العلمیہ بیروت   ۱۲۸)
ہمچناں دیگر اکابر شافعیہ تصریح بلبن فحل کردہ اندو درمذہب خود بوئے از خلاف نہ دادہ اند واجلہ اورامذہب ائمہ اربعہ واصحاب ایشاں وفقہائے امصار گفتہ اند امام احمد عسقلانی شافعی درا رشاد الساری فرمود فیہ دلیل علی ان لبن الفحل یحرم حتی تثبت الحرمۃ فی جھۃ صاحب اللبن کما تثبت فی جانب المرضعۃ فان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اثبت عمومۃ الرضاع والحقھا بالنسب وھذا مذھب الشافعی وابی حنیفہ وصاحبیہ ومالک واحمد کجمھور الصحابۃ والتابعین وفقہاء الامصار ۱؎،
اسی طرح دیگر شوافع حضرات نے بھی اس کے بارے میں واضح تصریحات کی ہیں اور انھوں نے اس مسئلہ میں کہیں بھی اختلاف ظاہر نہیں کیااور بڑے بڑے ائمہ شوافع نے اس مسئلہ کو متفقہ علیہ اور چاروں اماموں کا مسلک قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ ائمہ کے اصحاب اور علاقوں کے تمام فقہاء کا یہی مسلک ہے چنانچہ امام احمد عسقلانی شافعی نے اپنی کتاب ارشاد الساری میں فرمایا: اس میں یہ دلیل ہے کہ جس مرد کا دودھ ہے وہ حرمت پیدا کرتاہے چنانچہ جس طرح دودھ والی عورت کی طرف سے حرمت ثابت اسی طرح اس کے مرد کی طرف سے بھی حرمت ثابت ہوگی کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے رضاعی چچا کا اثبات فرمایا اور نسب کی طرح قرار دیا ہے اور یہی مذہب امام شافعی، ابوحنیفہ اور ان کے صاحبین امام مالک اور امام احمد بن حنبل کا ہے جس طرح کہ صحابہ اور تابعین اور تمام علاقوں کے علماء کا یہی مذہب ہے،
 (۱؎ ار شاد الساری        کتاب الرضاع باب لبن الفحل    دارالکتب العربی بیروت        ۸/۳۳)
Flag Counter