Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
136 - 1581
ہر گاہ از دلائل کتب فقہائے حنفیہ مبین ومبرہن گردید کہ تزویج قاسم نامی نزد علمائے حنفی رواودرست گردیدہ وازاں مذہب حنفی بیروں نہ آمدہ باوجود آں اگر جماعت مسلمین بروے زبان طعن ولعن بہ کشایند پس عنداللہ ماخوذ شوند عند الناس مستحق سز اکما ھو فی کتب الفقہ من اذی مسلما بقول اوبفعل ولوبغمز العین عزر ۱؎ پس ایشاں مادامیکہ تائب وآئب نہ شوند ازمواکلت ومشاربت جماعت مسلمین خارج کردہ شوند چنانچہ واردشدہ کہ ایاک و مجالسۃ الشریرفقط واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ احکم وآخر دعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی سید المرسلین وآلہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
بہر حال حنفی فقہ کی کتب میں مذکور دلائل سے ثابت ہے کہ قاسم نامی شخص کا مذکورہ نکاح درست ہوجاتا ہے اور اس کودرست ماننے سے حنفی مذہب سے خارج ہونالازم نہیں آتا۔ اس کے باوجود اگر مسلمان اس پر لعن طعن کریں گے تو عنداللہ مجرم ہوں گے اور قانون میں سزا کے مستحق ہوں گے جیسا کہ کتب فقہ میں ہے کہ اگر کسی نے مسلمان کو اپنے قول، فعل یا اشارہ سے اذیت دی تو وہ قابل سزا ہے، پس ایسے لوگ جب تک توبہ اور رجوع نہ کریں تو ان سے مل کر کھانا پینا منع ہیے جیساکہ وارد ہے کہ ''شریر کی مجلس سے بچو'' فقط واللہ تعالٰی اعلم۔ اس جل مجدہ کا علم کامل ہے۔ ہماری آخری بات یہ ہے کہ الحمدللہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سیدالمرسلین وآلہٖ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔ (ت)
(۱؎درمختار    باب التعزیر        مجتبائی دہلی        ۱/۳۲۷)
الراقم احقر الحقیر محمد عظیم الدین کیوکتوی بہاریاروی خلف الہدی شیخ اکبر علی سلمہ، بانی مسجد مہتمم مدرسہ اسلامیہ محلہ وی۔
تحریر دیگر تائیدآں
آرے مذاہب ائمہ اربعہ جملگی درحق ست وحق بہماں دائرست اگرچہ مجتہد مطلق یا مقلد محض بہ مذہب شان عملے وفعلے قضا کند بعدہ دانستہ کہ مخالف مذہب شان وموافق مذہب دیگرے کہ معدود بسنت جماعت ست بخطائے ظن شاں ملصق گشتہ فقہا احناف روانمی دارند کہ بار دیگر آں را ابطال وافساد کنند تا موجب تحقیر وتنفیر بمذاہب ائمہ سنت جماعت لازم نیاید آں خطائے عظیم وسخط جسیم باشد عنداللہ تعالٰی لہذا علماء زاں اباو انکار فرمودند
ہاں چاروں مذہب حق ہیں اور حق انہی میں دائر ہے، اگر کوئی مجتہد مطلق یا مقلد محض ان کے مذہب پر کوئی عمل یا فعل کرتے ہوئے فیصلہ کرے اور بعد میں معلوم ہوجائے کہ اس کے مذہب کے مخالف ہے اور دوسرے کے مذہب کے موافق ہے اور یہ دوسرا مذہب اہل سنت میں شمار ہو تو اس فیصلہ کو فقہائے احناف باطل وفاسد کرناجائز نہیں کرتے تاکہ اہل سنت وجماعت کے ائمہ کرام کی تحقیر وتنفیر لازم نہ  آئے، اور اس فیصلہ کو غلط کہنا عنداللہ بڑا گناہ ہے اس لیے علمائے کرام اس سے پرہیز کرتے ہیں،
ودرتواریخ بروایت صحیح مروی شدہ کہ بارے درمجلس شریف حضرت پیران پیر غوث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ از کسے مذکور شدہ بود کہ امام احمد حنبل دراجتہاد پایہ چنداں ندارند لہذا درمذہب شان جماعت قلیل دارند بمجرد استماع آں حضرت پیران پیر رضی اللہ تعالٰی عنہ چیں بر جبیں آوردہ وغضبناک شدہ فرمودند کہ ازیں تاریخ عبدالقادر بمذہب احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ تقلید نمودہ پیش ازیں بمذہب امام مالک بودند سبحان اللہ ما اعظم شانہ ومااکبر شانہم
تاریخ میں صحیح روایت موجود ہے کہ حضرت پیر پیران غوث الاعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مجلس میں ایک شخص نے ذکر کیا کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اجتہاد میں کوئی اہم مقام نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے مقلدین کی تعداد بہت کم ہے، حضرت پیر پیران سنتے ہی جلال میں آگئے اور فرمایا کہ میں (عبدالقادر) آج سے امام احمد بن حنبل کا مقلد ہورہا ہوں جبکہ آپ پہلے امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مقلد تھے، سبحان اللہ! اس کی شان اعظم واکبر ہے،
وفخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم درشان ائمہ اربعہ رحمۃ من اللہ ووسعۃ من اللہ فرمودند ونقل السیوطی عن عمر بن عبدالعزیز اختلاف ائمۃ الھدی رحمۃ من اﷲ تعالٰی علی ھذہ الامۃ کل یتبع ماصح عندہ وکلھم علٰی ھدی وکل یرید اﷲ وتمامہ فی کشف الخفاء، پس تزویج قاسم نزد فقہائے حنفی بہ صحیح آوردہ اگرچہ بالفرض مخالف مذہبی روے دادہ واز حنفیت نیز بیروں نیامدہ کما حررہ المجیب ﷲ درہ واجرہ ولقد نظرت ھذا الفتوی بامعان النظر وتصفحت ھذہ المسألۃ بصفحات الکتب الفقھیۃ الحنفیۃ فوجدت صحیحا مطابقا بالکتاب وموافقا للصواب واﷲ اعلم بحقیقۃ الحال والیہ المرجع والمآل۔ کتب الحقیر الراجی الٰی رحمۃ ربہ الخلاق عبدالرزاق الکیوکتوی غفرلہ۔
فخر عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ائمہ اربعہ (اللہ تعالٰی کی رحمت ووسعت ہو ان پر) کی شان میں فرمایا جس کو امام سیوطی نے نقل فرمایا کہ عمربن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ ہدایت کے اماموں کا اختلاف اللہ تعالٰی کی رحمت ہے اس امت کے لیے، ہر ایک نے جس کو صحیح سمجھا وہی اس نے اپنایا،اور تمام ائمہ ہدایت پر ہیں، اور تمام اللہ تعالٰی کی رضا کے طالب ہیں، اس کا تمام بیان کشف الخفاء میں ہے۔ لہذا قاسم مذکور کا نکاح حنفی فقہاء کے نزدیک درست ہے اگرچہ بالفرض مذہب کے مخالف ہے اور حنفیت سے بھی خارج نہیں ہوتا جیسا کہ مجیب نے تحریر کیا ہے اس کا اجر ونفع اللہ تعالٰی اس کو عطا فرمائے، میں نے اس فتوی کو گہری نظر سے دیکھا اور فقہ کی کتب میں اس کی میں نے چھان بین کی تو میں نے اس کو صحیح مطابق قرآن اور موافق ثواب پایا ہےاور اللہ تعالٰی ہی حقیقت زیادہ جانتا ہے اور اس کی طرف رجوع ہے، اس کو اللہ تعالٰی کی رحمت کے امید وار عبدالخالق کیوکتوی غفرلہ، نے لکھا ہے۔ (ت)
الجواب: ایں ہمہ جہل شدید وضلال بعید وافترا برشرع مجید ست نکاح بابنت بنت الاخ بعینہ ہمچو نکاح بادختر خود ست نسباً باشد یارضاعاً وحرام قطعی ست باجماع ائمہ دین ونص قرآن مبین و صحاح احادیث سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اجمعین نسبت جواز ش بامام شافعی خواہ بامام دیگر از ائمہ مسلمین خطائے محض ست وایں بنگالیاں کہ فتوی بجوازش دادہ بودند علما نہ بودند بہ ہزاران درجہ بدتر از جہلا بودند واینان کہ فتوی ملعونہ ایشاں رانا فذمی کنند ہمہ ہاحرام خدا راحلال می نمایند ہمچو کسان راحرام وسخت حرام ست کہ تصدی بافتاکنند درحدیث فرمود من افتی بغیر علم لعنۃ ملئکۃ السماء والارض ۱؎ ہرکہ بے علم فتوی دہد ملائکہ آسما ن وزمین براولعنت وبر آن حاکمان وایں فتوائے نفاذ ہر دو ملعون ست وبر حاکماں وایں  مفتیان توبہ فرض ست ورنہ مسلمان از مجالست ایشان احتراز درزند درہیچ امر فتوی ازایشاں خواستن حرام ست قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتخذ الناس رؤوسا جہالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا ۱؎
یہ تمام شدید جہالت اور انتہائی گمراہی ہے اور شریعت پر افتراء ہے، بھائی کی نواسی سے نکاح ایسے ہے جیساکہ اپنی بیٹی سے، نواسی نسبی ہو یا رضاعی، اور قرآن وحدیث اور اجماع سے یہ حرام قطعی ہے، اس کے جواز کی نسبت امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ یا کسی اور امام المسلمین کی طرف کرنا خطائے محض ہے اور جن بنگالیوں نے اس کے جواز کا فتوی دیاہے وہ عالم نہیں بلکہ ہزار درجہ جاہلوں سے بھی بدتر ہیں، جنھوں نے بھی یہ ملعون فتوی نافذ کیا انھوں نے اللہ تعالٰی کے حرام کو حلال کیا اوراسی طرح وہ حضرات جنھوں نے اس کی تصدیق کی انھوں نے حرام ترین کی تصدیق کی، حدیث شریف میں ہے کہ جس نے علم کے بغیر فتوی دیا اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں لہذا جنھوں نے یہ فتوی دیا اور جنھوں نے اس کو نافذ کیا دونوں ملعون ہیں، نافذکرنے والے حاکم اور مفتیوں پر توبہ فرض ہے ورنہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان سے بائیکاٹ کریں اور آئندہ ان  سے کوئی فتوی طلب کرنا حرام ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاہے کہ لوگ جاہلوں کو رہنما بنائیں گے تو جب ان سے سوال کیا جائے گا تو بغیر علم فتوی دینگے خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کردیں گے،
 (۱؎کنزالعمال    ابن عساکر عن علی حدیث ۲۹۰۱۸    موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱۰/۱۹۳)

(۱؎صحیح بخاری        کتاب العلم باب کیف یقبض العلم    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲۰)
Flag Counter