Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
135 - 1581
وایضا فیہ تحت قول الدرالمختار  واما المقلد الخ نقلہ فی القنیۃ عن المحیط وغیرہ وجزم بہ المحقق فی فتح القدیر وتلمیذہ العلامہ قاسم وادعی فی البحران المقلد اذا قضی بمذھب غیرہ وبروایۃ ضعیفۃ اوبقول ضعیف نفذ۔ اقوی ماتمسک بہ مافی البزازیہ عن شرح الطحاوی اذالم یکن القاضی مجتہداً وقضی بالفتوی ثم تبین ان علی خلاف مذھبہ نفذ ولیس لغیرہ نقضہ ولہ ان ینقضہ کذا عن محمد وقال الثانی لیس لہ ان ینقضہ ایضا ۱؎۔ لان امضاء الفعل کامضاء القاضی لاینقض ۲؎، ودلیل مذہب الظاھر کہ ملصق بہ سنت جماعت ست ومخالف فرعی درباب رضاعت باحناف می دارند ہمچوں امام ہمام شافعی وغیرہ ہستند ہمیں ست
اور نیز انھوں نے درمختار کے قول''امام المقلد'' کے تحت فرمایا کہ قنیہ نے محیط وغیرہ سے نقل کیا اور اس پر فتح القدیر میں محقق اور ان کے شاگرد علامہ قاسم نے جزم کیا ہے اور بحر میں دعوٰی کے طورپر کہا کہ قاضی مقلد نے اگر غیر کے مذہب یا ضعیف قول یا روایت پر فیصلہ دے دیا تو وہ نافذ ہوگا، اور اس سلسلہ میں بہترین استدلال بزازیہ کی شرح طحاوی سے منقول عبارت ہے کہ جب قاضی مجتہد نہ ہو اور کسی کے فتوٰی پر فیصلہ کردیا ہو تو بعد میں اگر معلوم ہوا کہ اس نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیاہے تو فیصلہ نافذ رہے گا، اور دوسرا قاضی اس کو رد نہیں کرسکتا، ہاں وہ خود کالعدم کرسکتا ہے، امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے یوں منقول ہے، اور دوسرے امام یعنی ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ خود اس قاضی کو بھی کالعدم کرنے کا حق نہیں کیونکہ عمل نافذ ہوجانے پر گویا کہ قاضی نے نافذ کردیا ہے اور نافذ شدہ کو کالعدم نہیں کہا جاسکتا ، اور اہل ظواہر کا مذہب بھی اہلسنت میں شامل ہے  او راس کا صرف فروعی اختلاف رضاعت کے بارے میں احناف سے ہے یہ بھی امام شافعی کی طرح ہیں۔
 (۱؎ ردالمحتار     مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۵۲)

(۲؎ ردالمحتار     مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۵۱)

چنانچہ شارح مسلم امام نووی درشرح آں مے نگارند ولم یخالف فی ھذا الااھل الظاھر وابن علیۃ فقالوا لاتثبت حرمۃ الرضاع بین الرجل والرضیع ونقلہ المازری عن ابن عمر وعائشہ (رضی اﷲ تعالٰی عنہما) واحتجوا بقولہ تعالٰی وامھتکم التی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ ولم یذکر البنت والعمۃ کما ذکرھما فی النسب ۱؎
چنانچہ شارح مسلم شریف امام نووی نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے، کہ اس میں صرف اہل ظاہر اور ابن علیہ کا خلاف ہے کہ وہ کہتے ہیں دودھ پینے والی لڑکی اور مرد کے درمیان رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اور اس کو مازری نےعبداللہ بن عمر اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے نقل کیا ہے اور اصحاب ظواہر نے اپنی دلیل میں کہا کہ اللہ تعالٰی نے دودھ پلانے والی تمھاری ماؤں اور تمھارے رضاعی بھائیوں کو ذکر کیا ہے اور بیٹی اور پھوپھی کو ذکر نہیں کیا جس طرح ان کو نسب میں بیان فرمایا ہے
 (۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی    کتاب الرضاع        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۴۶۶)
وامام ابو عیسٰی ترمذی درجامع ترمذی شان می آرند حدثنا الحسن بن علی اخبرنا ابن نمیر عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشہ قالت جاء عمی من الرضاعۃ یستأذن علی فابیت ان اذن لہ حتی استأمر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلیلج علیک فانہ عمک قالت انما ارضعتنی المرأۃ ولم یرضعنی الرجل قال فانہ عمک فلیلج علیک ھذاحدیث حسن صحیح والعمل علی ھذہ عند بعض اھل العلم من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وغیرھم کرھوالبن الفحل والاصل فی ھذا حدیث عائشۃ وقد رخص بعض اھل العلم فی لبن الفحل والقول الاول اصح ۲؎ رواہ الترمذی
اور امام ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں بیان کیا ہے کہ ہمیں حدیث بیا ن کی حسن بن علی انھوں نے ابن نمیر انھوں نے ہشام انھوں نے اپنے باپ عروہ انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے انھوں نے فرمایا میرا رضاعی چچا آیا اور اس نے میرے ہاں آنے کی اجازت چاہی تو میں نے انکار کیا حتی کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا وہ تیرے ہاں داخل ہوسکتا ہے کیونکہ وہ تیرا چچا ہے توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کیا کہ مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا۔ تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے وہ داخل ہوسکتا ہے ۔ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے اور اس پر عمل ہے بعض صحابہ کرام کا اور ان کے غیر نے دودھ والے خاوند یعنی رضاعی باپ کو داخل ہونامکروہ کہا ہے اور اصل ثبوت حضرت عائشہ کی حدیث ہے، اور بعض اہل علم نے دودھ والے باپ (رضاعی باپ) کو داخل ہونے کی اجازت دی ہے، ا ور پہلا قول صحیح ہے اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے،
 (۲؎جامع الترمذی    ابواب الرضاع باب ماجاء فی لبن الفحل    امین کمپنی کراچی    ۱/۱۳۷)
وقال الشامی ونظیر ھذہ مانقلہ العلامۃ بیری فی اول شرحہ علی الاشباہ عن شرح الھدایہ لابن شحنہ ونصہ اذا صح الحدیث وکان علی خلاف المذھب عمل بالحدیث ویکون ذٰلک مذھبہ ولایخرج مقلدہ عن کونہ حنفیا بالعمل بہ فقد صح عن ابی حنیفۃ امام الاعظم انہ قال اذاصح الحدیث فھو مذھبی وقدحکی ذلک ابن عبدالبر عن ابی حنیفۃ وغیرہ من الائمۃ ۱؎ الخ
اور شامی نے کہا کہ اور اس کی نظیر وہ ہے جس کو علامہ بیری نے اشباہ پر اپنی شرح کے ابتداء میں ہدایہ کی شرح سے نقل کیا یہ شرح ابن شحنہ کی ہے جس کی عبارت یہ ہے کہ جب حدیث صحیح ہے جوکہ مذہب کے مخالف ہے تو عمل حدیث پر ہوگا، ______ اور یہی امام کا مذہب ہوگا اور اس حدیث پر عمل سے مقلد، امام صاحب کی تقلید سے خارج نہ ہوگا کیونکہ امام ابو حنیفہ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: جب حدیث صحیح ہو تو وہ میرا مذہب ہے، اس کو ابن عبدالبر نے امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمہ سے نقل کیا ہے الخ،
 (۱؎ ردالمحتار        مطلب صح عن الامام انہ قال اذصح الحدیث فہومذہبی    احیاء التراث بیروت    ۱/۴۶)
وقاضی خان وصاحب ہدایہ ہماں مذہب اہل ظاہر نقل بالتصریح فرمودہ اند کما قال فی فتاوی قاضی خاں وقال الامام الھمام الشافعی الحرمۃ لاتثبت فی جانب الاب والفقہاء یسمون ھٰذہ المسألۃ لبن الفحل ۲؎
قاضی خاں اور صاحب ہدایہ نے اہل ظواہر کا مذہب صراحۃً یہی ذکر کیا ہے جیساکہ فتاوٰی قاضی خاں میں کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی باپ کی جانب سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں کرتے، اور فقہاء کرام نے اس مسئلہ کو ''لبن الفحل'' (خاوند کا دودھ) کا عنوان دیا ہے،
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں    باب الرضاع                نولکشور لکھنؤ        ۱/۱۸۹)
وقال فی الھدایۃ وفی احد قول الشافعی لبن الفحل لایحرم لان الحرمۃ لشبھۃ البعضیۃ واللبن بعضھا لابعضہ ۳؎
اور ہدایہ میں کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی کے ایک قول میں رضاعی باپ حرام نہیں ہوتا کیونکہ رضاعت میں حرمت جزئیت کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ دودھ عورت کا جز ہے مرد کا نہیں،
 (۳؎ الہدایہ       باب الرضاع            مکتبہ عربیہ کرا چی    ۲/۳۳۱)
Flag Counter