| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۲۷۷: از رانی کھیت صدربازار مسئولہ محمد ابراہیم خان صاحب ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک خان تبت کا اورا س کا لڑکا اپنے آپ کو سنت جماعت بتاتے ہیں اور قرآن شریف کے رو سے اپنا طریقہ سنت وجماعت بتاتے ہیں اور قریب ۳۰، ۳۵ سال سے رانی کھیت میں رہتے ہیں ، اب سب لوگ ان کو رافضی مذہب کا کہتے ہیں، اب دریافت یہ کرنا کہ سنی کی لڑکی کا نکاح ایسے شخص سے ہوسکتاہے یا نہیں؟ یہ شخص غریب ہے سب لوگ عداوت سے رافضی کہنے لگے ہیں ان کے سب طریقے روزے، زکوٰۃ، نماز کے اہل سنت وجماعت کی طرح ہیں، رانی کھیت کی مسجد کے مولانا نے جن کا نام عبدالرحمن ہے نکاح نہیں پڑھایا کہ رافضی کا نکاح سنی سے نہیں ہوسکتا عداوت سے سب مسلمان ایک ہوگئے ہیں۔ بینوا تو جروا
الجواب: بلاوجہ عداوت سے سب مسلمانوں کا ایک ہوجانا معقول نہیں اور رافضیوں کا تقیہ معلوم ہے اور نکاح امر عظیم ہے احتیاط لازم ہے، حدیث میں فرمایا: کیف وقد قیل۱؎ (کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ ت) ھو تعالٰی اعلم۔
(۱؎صحیح بخاری کتاب العلم باب فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۹)
مسئلہ ۲۷۸: از لکھنؤ بنگال بنک ڈاکخانہ حضرت گنج مسئولہ عبدالرحیم صاحب مسئلہ ذیل میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کی سسرال کے رشتہ کے ماموں کا لڑکا اور زید کی لڑکی سے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: اپنے حقیقی ماموں کے بیٹے سے بیٹی کا نکاح جائز ہے۔ سسرال کے رشتہ کا ماموں تو بہت دور ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو مثل رضاعت وغیرہ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹: از شہراکیاب تھانہ کیوکتو موضع کاؤنچی بازار مرسلہ مولوی سکندر علی صاحب بنگالی طالب علم مدرسہ نیازیہ خیرآباد ضلع سیتاپور ۱۴ محرم الحرام۱۳۳۹ھ
ماقولکم ماحکم اﷲ تعالٰی فی ھذہ المسألۃشخصے قاسم زنے راکہ درقرابتش بنت بنت رضاعی مربرادر حقیقی قاسم باشد بحبالہ نکاحش آورد وظن اوچنان بود کہ موافق مذہب خود جائز ست، از علما ہم استفتا نمودہ بود، ایشاں بصحت نکاحش قضا نمودند، پس از چندے علمائے احناف بعدم جواز نکاحش فتوی می دادند وجماعت مسلمین راباومجالست وامواکلتش منع می کنند مادامیکہ تفریق نکاحش نکند۔
تمھاری کیا رائے ہے کہ اللہ تعالٰی کا کیا حکم ہے اس مسئلہ میں، کہ قاسم نامی ایک شخص نے اپنے قریبیوں میں سے ایک عورت جو کہ قاسم کی حقیقی بھائی کی رضاعی نواسی ہے، سے نکاح کیا اور اس کا خیال تھا کہ اپنے مذہب میں یہ جائز ہے اور اس نے علماء سے بھی پوچھا تو انھوں نے بھی اسے جائز کہا، اس کے بعد چند حنفی علماء نے اس نکاح کے ناجائز ہونے کا فتوٰی دیا اور مسلمانوں کو نکاح کرنے والوں کے ساتھ میل جول اور کھانے پینے سے منع کردیا تاوقتیکہ وہ اس نکاح کو ختم کرکے علیحدگی اختیار نہ کرلیں۔ (ت)
جواب بنگالیاں بر تقدیر صدق مسئولہ عنہا علمائے شریعت غرّا وفضلائے طریقت بیضا بالخاصہ فقہائے مذہب حنیف وعلمائے ملت منیف می نگارند کہ چوں علمائے مذہب مستمرہ شاں مجتہد باشد یا مقلد ظناً یا سہواً عملے کنند وحکمے بکارے صادر نمایند وقضا برآں تنفیذ فرمایند، پس آں دانستند ووقوف یافتند کہ ہماں عمل وفعل زیشاں بظہور پیوستہ بطبق مذہب شاں نپرداختہ وبمشرب یکے از ائمہ ودیگرے کہ معدود ومحدود بہ سنت جماعت ست در پیوستہ پس باردیگر تنقیض وتردید آنہا کردن روا وجائز نباشد بل بہمیں مسلک تقلید نمودہ کہ ہم خالی از تلفیق دارد ہماں عمل وفعل رالا محالہ صحیح ودرست دارند ونیز ازیں تقلید ظنی از مذہب مستمرہ خود خارج نہ شوند ومنسوب بداں مذہب دیگر نگردند
مسئولہ صورت کے صدق پرعلمائے شریعت اور طریق حق کے ناقلین خصوصاً فقہائے مذہب حنیف اور علمائے ملت لکھتے ہیں کہ جب مروجہ مذاہب کے مجتہد یا مقلدین میں سے کوئی اپنے ظن سے یا غلطی سے کسی کام کا حکم صادر کریں اور اس پر فیصلہ بطور قضاء نافذ کردیں، اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ عمل یا کام ان کے مذہب کے خلاف ہے اور کسی دوسرے اہلسنت کے امام کے مسلک میں جائز ہے تو اس عمل اور کام کو کالعدم کرنا جائز نہیں بلکہ دوسرے جائز قرار دینے والے مسلک کی تقلید میں اس کو جائز اور نافذ رکھنا چاہئے، اس سے اپنے مروجہ مذہب سے خروج اور دوسرے مذہب کو اختیار کرنا لازم نہ آئے گا۔
پس مناکحت قاسم بدیں منوال بہمیں مقال صادق ست کہ لاریب ولامحالہ صحیح ونافذ گردیدہ است اگرچہ بالفرض والتقدیر مخالف مذہب حنفی آمدہ لیکن بمسلک اہل ظواہر کمثل امام ہمام شافعی علیہ رضوان الباری وغیرہ کہ مسلوک ومشمول بسنت جماعت ست بپرداختہ در پیوستہ کہ علمائے احناف بظن جواز مذہب شان مظنون شدہ بنت بنت رضاعی رامر برادر حقیقی قاسم مذکور بود حکم نکاحش دادہ بودند بحالتیکہ درتحت حجاب ممنوعات کلیہ حنفیہ محجوب ومستور بودہ ودرضمن ضاطبہ مامور بہا محللات اہل ظواہر کہ ہمچوں شافعی وغیرہ ہستند مکشوف ومظہر ماندہ پس ہر گز علماء احناف را نمی رسد کہ تفریق وافساد درنکاحش کنند کہ آں مستلزم تحقیر تنکیر سنت جماعت کردد وحقارت یکے را از سنت عند اللہ بموجب ضلالت دارد،
پس قاسم مذکور کا مذکور ہ نکاح اگرچہ حنفی مذہب کے خلاف ہے مگر اہل ظواہر کے مسلک مثلا امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی جو کہ اہلسنت وجماعت ہیں کے ہاں نکاح درست ہوا، نیز علمائے احناف نے جب غلطی سے اس نکاح مـذکورہ کو جائز گمان کیا تو ان کے گمان میں جائز ٹھہرا کہ حقیقی بھائی کی رضاعی نواسی سے قاسم کا نکاح درست قرار دے کر کردیا اور ان کی نظر میں امام شافعی جیسے اہل ظواہر کے مسلک پر اس کا جواز معلوم ہوا تو اب علمائے احناف کو ہر گز جائز نہیں کہ وہ اس نکاح کو فاسد کریں اور تفریق کریں، کیونکہ جماعت کی اور ایک سنت اور مسلک کی تحقیر لازم آئے گی جو کہ عنداللہ گمراہی کا موجب ہے،
کما قال العلامۃ ابن عابدین الشامی الحنفی فی ردالمحتار ناقلاً عن العلامۃ الشرنبلالی فی عقد الفرید، ان لہ التقلید بعد العمل کما اذاصلی ظانا صحتھا علٰی مذھبہ ثم تبین بطلانھا فی مذھبہ وصحتھا علی مذھب غیرہ فلہ تقلیدہ ویتحری بتلک الصلوۃ علی ماقال فی البزازیۃ انہ روی عن ابی یوسف انہ صلی الجمعۃ مغتسلاً من الحمام ثم اخبر بفارۃ فی بئرالحمام، فقال ناخذ بقول اخواننا من اھل المدینۃ اذابلغ الماء قلتین لم یحمل خبثا ۱؎ اھ
جیساکہ علامہ شامی نے علامہ شرنبلالی سے ردالمحتار میں عقدالفرید سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کو عمل کے بعد بھی دوسرے کی تقلید جائز ہے جیساکہ اپنے مذہب کے مطابق نماز کو صحیح سمجھ کر ادا کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے مذہب صحیح میں نہیں ہوئی مگر دوسرے امام کے مذہب میں صحیح ہوگئی تو اب دوسرے امام کی تقلید کرتے ہوئے نماز کو صحیح قرار دینا جائز بشرطیکہ نماز پڑھتے وقت اسی نے تحری کی ہو جیسا کہ بزازیہ میں فرمایا کہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک مرتبہ حمام کے پانی سے جمعہ کا غسل کیا پھر بعدمیں بتایا گیا کہ حمام میں چوہا مرا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہم اپنے بھائی اہل مدینہ کے مسلک کو اپناتے ہوئے کہ جب پانی دو قلے ہو تو ناپاک نہیں ہوتا اس پر عمل پیرا ہیں اھ
(۱؎ ردالمحتار مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۵۱)