| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۲۷۰: مرسلہ قاضی محمد ابراہیم وقاضی نیاز الدین صاحبان صدیقی صابون فروش سنیہ دروازہ اندر جھانسی کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں: ایسی عورتیں جو آوارہ ہیں، بے پردہ رہتی ہیں، کھلے بندوں چلتی پھرتی ہیں۔ زنا بھی ان سے ثابت ہو اور حمل بھی گرائے گئے ہوں یا طوائف وغیرہ۔ تو ایسی عورتوں کا نکاح بلااستبراء رحم جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا خدا آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔
الجواب : اگر وہ کسی کی منکوحہ نہیں تو بلااستبراء رحم بلکہ خاص حالت زنا میں اس سے نکاح جائز ہے مگر حمل خودا س ناکح کا نہ ہو تو اسے قربت جائزنہیں جب تک وضع حمل نہ ہوجائے
لئلا یسقی ماءہ زرع غیرہ درمختار ۱؎
(تاکہ اس کا پانی دوسرے کی کھیتی کو سیراب نہ کرے۔ درمختار۔ ت)
( ۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱/۱۸۹)
مسئلہ ۲۷۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں: ایک شخص نے اپنے حقیقی بیٹے کی بی بی سے زنا کیا اور عورت اس کی مقر ہے مرد یعنی جس نے زنا کیا اس کو تمام برادری کے لوگوں نے علیحدہ کردیا اس سے بات چیت سب بندہے سلام وغیرہ سب لوگ نہیں کرتے اور مرد زانی نہ اقرار کرتا ہے نہ انکار بلکہ جب لوگ کہتے ہیں کہ تونے بڑا بھاری گناہ کیا تو کہتا ہے کہ خطا ہوئی کیا کریں، دریافت طلب یہ امر ہے کہ عورت کیا اب خاوند اصلی کے پاس رہ سکتی ہے اور اس کے لیے حلال ہے یا کہ دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور کیا اس عورت کو خاوند سے طلاق لینے کی بھی ضرورت ہے اور کیا جب تک وہ طلاق نہ دے اس وقت تک غیر سے نکاح نہیں کرسکتی؟ اور بعض مولوی صاحب کہتے ہیں کہ بلاطلاق دئیے غیر سے نکاح نہیں کرسکتی اور بعض یہ کہتے ہیں کہ طلاق کی ضرورت نہیں وہ عورت اپنے خاوند اصلی کے لیے حرام ہوگئی اور کیا یہ عورت مہر لے سکتی ہے؟
الجواب: شوہر اگرمانتا ہے کہ ایسا ہوا تو عورت اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئی، کسی حیلہ سے اس کی زوجیت میں نہیں آسکتی، اس پر فرض ہے کہ اسے فوراً جدا کردے متارکہ کرے، مثلاً کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا بے اس کے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی اس لیے زیادہ طلاق کی بھی حاجت نہیں،اور اگر شوہر کو امر مذکور کا وقوع تسلیم نہیں تو صرف عورت کے کہنے سے ثبوت نہیں ہوسکتا، اگر شوہر نے طلاق نہ دی وہ اس کی عورت ہے اور دی تو جیسی طلاق دی ویسا حکم، اگر تین طلاقیں دیں تو بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ رہا مہر وہ تمام صورتوں میں مطلقاً لازم ہے مہر متاخر میں عورت کو لینے کا اختیاربعد متارکہ یا طلاق یا موت ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۲: از مقام اکلترہ ضلع بلاسپور مسئولہ حامد علی صاحب کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی سے زنا کیا، اب کیا یہ بیوی اپنے اصلی شوہر جو کہ زانی کا لڑکا ہے پاس رہ سکتی ہے؟ اور اگر نہیں رہ سکتی تو دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور شوہر اول سے مہر لینے کی مستحق ہے کہ نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب :یہ کہ زنا کیا، جھوٹ بک دینے سے ثابت نہیں ہوسکتا اس کے لیے چار شاہد چاہئیں، بغیر اس کے زید کا باپ اگر اقرار بھی کرے اور زید باور نہ کرے تو اس کا اقرار زید پرحجت نہیں۔ ہاں اگر شہادت شرعیہ سے ثابت ہوجائے یا زید اس کی تصدیق کرے تو عورت زید پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی مگر ابھی نکاح سے نہ نکلی، دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی جب تک زید اسے نہ چھوڑے، اورا س صورت میں زید پر فرض ہوگا کہ فوراً اسے چھوڑ دے، اس کے بعد عورت عدت کرے بعد عدت سوائے زید کے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے ، زید پر اس کامہر بہرحال لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳: از کولمبوسیلون مسئولہ عبدالقادر صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رشتہ داروں کی کن کن عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں اور کن کن سے ناجائز؟ مفصل تحریر فرمائیں۔ بینوا تو جروا۔
الجواب : وہ شخص جن کی اولاد میں ہے جیسے باپ، دادا، نانا، جو اس کی اولاد میں ہو جیسے بیٹا، پوتا، نواسا، ان کی بیبیوں سے نکاح حرام ہے اور خسر کی بی بی سے بھی حرام ہے جبکہ وہ اپنی زوجہ کی حقیقی ماں ہو، باقی رشتہ داروں کی بیبیوں سے ان کی موت یا طلاق وانقضائے عدت کے بعد نکاح جائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴ تا ۲۷۶: از کوہ رانی کھیت کوٹھی انجینئر اسپیل مرسلہ غلام محمد صاحب ۲۴ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ (۱) شیعہ مذہب کا نکاح سنی مذہب کی لڑکی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟ لڑکا اور اس کا باپ شہادت دلاتے ہیں کہ ہم سنی مذہب ہیں اور اگر تم شیعہ سمجھتے ہو تو اپنے دل کے اطمینان کے واسطے ہمیں سنی مذہب کرلو، اور جوا ن کے ہم وطن ہیں وہ کہتے ہیں ہم لوگ شیعہ ہیں اور ان کے گاؤں میں سنی مذہب رہتے ہیں اور ان کے خاندان سے واقف ہیں کہ یہ سنی مذہب ہیں اس پر یہاں کے مسلمان کہتے ہیں کہ انھیں ہم نے ہمیشہ شیعہ مذہب کا برتاوکرتے دیکھا، اور بعض مسلمان کہتے ہیں کہ ہم اس کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ لڑکے شیعہ مذہب میں نہیں ہیں اور ان کے والد کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہتے۔ (۲) اور دو شخص نے یہ کہا کہ لڑکی کا باپ اور لڑکے کی ماں کچھ تعلق رکھتے ہیں اس پر لڑکی کے باپ نے قرآن شریف لاکر کہا کہ اس کو اٹھاؤ، وہ انکار کیا اور چلا گیا اور کوئی ثبوت نہ ہوا۔ (۳) جب برات گئی اور لڑکی کا بھائی مولانا صاحب کے پاس گیا کہ نکاح پڑھانے کو آئیں گے یا نہیں، تو انھوں نے کہا میں نہیں جاؤں گا تو کون آئے گا، نکاح کے وقت وہ نہیں آئے اور کہا کہ جو کوئی ان کا نکاح پڑھائے گا اس کی عورت کو طلاق ہوجائے گی۔ بینوا تو جروا
الجواب (۱) رافضیوں میں تقیہ ہے، بے حاجت بھی تقیہ کرتے ہیں۔ حاجت کے وقت کا کیا اعتبار اور اشتباہ مٹانے کی کیا صورت کہ تقیہ وہ ملعون چیزہے جس کا کرنے والا سب کچھ کہہ لے گا۔ خالص اسلام بولے اور دل میں کفر بھرا ہوگا۔ رافضیوں کی شہادت کہ یہ سنی ہے کیا معتبرہوسکتی ہے، رافضی کی گواہی کچھ معتبرنہیں لاایمان لھم (ان کا ایمان ہی نہیں۔ ت) بعض مسلمانوں کی گواہی کہ یہ شیعہ نہیں اور مسلمانوں کی شہادت کہ انھیں شیعی برتاؤ کرتے دیکھا، یہ شہادت اثبات ہے اور وہ شہادت نفی جو مقبول نہیں۔ لہذایہ نکاح ہر گز نہ کیا جائے۔ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کیف وقد قیل ۱؎ (حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
(۱؎ صحیح بخاری کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۹)
(۲) ایسے خیالی بیانوں سے ناجائز تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۳) اس کے رافضی ہونے کے سبب جس نے نکاح پڑھانے سے انکار کیا بہت اچھا کیا اور وہ حکم جو اس نے بیان کیا اگرچہ مطلق نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ جب رافضی کے ساتھ سنیہ کا نکاح جائز و حلال جانا تو خود اس کی عورت نکاح سے نکل جائے گی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔