| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۲۶۵: از لاہور مسجد بیگم شاہی، مسئولہ مولوی احمد الدین صاحب ۶ رجب المرجب ۱۳۳۸ھ زید نے ہندہ سے نکاح کیا بحالت نابالغی ہندہ زید نے اس سے وطی کی، بعد وطی ہندہ کو طلاق دے دی اس نے عمرو سے نکاح کیا عمرو سے ہندہ کے لڑکی پیداہوئی تویہ لڑکی زید پر حرام ہے یا نہیں؟ ماں سے محض نکاح بیٹی کو حرام کرتا ہے یا نہیں، یونہی بیٹی سے نکاح ماں کو؟ دونوں میں وطی شرط حرمت ہے یا نہیں؟ اور وطی کے لیے کیا بلوغ مدخولہ شرط ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب :شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ بیٹی سے مجرد نکاح ماں کو حرام ابدی کرتا ہے وطی کی شرط نہیں، قال تعالٰی:
وامھٰت نسائکم ۱؎
(تمھاری بیویوں کی مائیں۔ ت)
( ۱؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
اور وطی ہو تو بدرجہ اولٰی نکاحاً ہوتو بالاجماع اوربلانکاح ہو تو ہمارے نزدیک اور ماں سے مجر د نکاح بیٹی کو حرام نہیں کرتا جب تک وطی نہ ہو، قال تعالٰی:
وربائبکم التی فی حجورکم من نسائکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم ۲؎۔
تمھاری مدخولہ بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمھاری پرورش میں ہیں،ا ور اگر تم نے بیویوں سے دخول نہ کیا تو تم پر ممانعت نہیں۔ (ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
ہاں اگر وطی ہو تو تحریم لائے گی اسی تفصیل پر کہ نکاح میں بالاجماع اور بلا نکاح ہمارے نزدیک تو وہ صغیرہ نابالغہ جس سے زید نے صحبت کی پھر طلاق دے دی اور اس نے دوسرے سے نکاح کیا اور اس سے اس عورت کے بیٹی پیدا ہوئی یہ بیٹی قطعا شوہر اول پر حرام ہے کہ جب صحبت کی "دخلتم بھن" صادق آگیا بلوغ کی شرط نہیں۔ ہاں اگر صغیرہ چارپانچ برس کی ہو جہاں ایلاج حشفہ ممکن نہ ہو تو البتہ حرمت نہ ہوگی کہ صحبت نہ ہوگی اور مدخولہ کی ماں مطلقا حرام ہے خواہ مدخولہ بالحلال ہویا بالحرام، اور زوجہ کی والدہ ابداً اپنی ماں کی طرح ہے زوجہ کے مرنے یا طلاق ہوکر عدت گزرنے کے بعد بھی کسی طرح حلال نہیں ہوسکتی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۶: از موضع سندھولی ضلع بریلی مسئولہ غفور صاحب ۲۷ شعبان ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ علاوہ چچی وپھوپھی وممانی ودادی ونانی و والدہ وغیر ہ کے رشتہ داروں میں کسی عورت سے نکاح جائز ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب : چچی اور ممانی سے بھی نکاح جائز ہے، نسبی رشتوں میں چار قسم کی عورتیں حرام ہیں، ایک وہ کہ یہ جن کی اولاد سے ہے جیسے ماں، دادی، نانی کتنے ہی اوپر کی ہوں۔ دوسری وہ جو اس کی اولاد ہیں، جیسے بیٹی، پوتی، نواسی کتنے ہی نیچے کی ہوں۔ تیسری وہ جو اس کے ماں یاباپ کی اولاد خواہ اولاد در اولاد جیسے بہن ، بھانجی، بھتیجی اور ان کی اور بھائیوں بھتیجوں کی اولاد کتنی ہی دور ہوں۔ چوتھی وہ کہ ماں باپ کے سوا اور جن کی اولاد سے یہ شخص ہے جیسے دادا، دادی، نانا، نانی کتنے ہی اوپرکے ہوں ان کی خاص اپنی اولاد جیسے اپنی پھوپھی خالہ یا اپنے ماں یا دادا یا دادی یا نانا یا نانی کی پھوپھی خالہ، ان لوگوں کی اولاد کی اولاد حرام نہیں جیسے پھوپھی کی بیٹی یا خالہ کی بیٹی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: از موضع سندھولی ضلع بریلی مسئولہ غفور صاحب ۲۷ شعبان ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک کنواری لڑکی کا حمل زید سے رہ گیا اس کے والدین نے عمرو کے ساتھ نکاح کردیا، اب علمائے دین کی خدمت بابرکت میں استغاثہ ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ جس کا نطفہ ہے اس کے ساتھ نکاح جائز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عمرو کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔
الجواب : نکاح عمرو سے بھی جائز ہے مگر عمروکو اس کے پاس جانا منع ہے جب تک بچہ پیدا نہ ہولے، یہ اس صورت میں ہے کہ حمل زنا کا ہو، اور اگر زنا نہ ہوابلکہ شبہہ اور دھوکے سے زید اس کے ساتھ ہمبستر ہوا تو بیشک جب تک بچہ نہ ہولے دوسرے سے نکاح جائز نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا پھر اس کی بہن کو بھی گھر میں ڈال لیا اب زید کا ہندہ سے وطی کرنا کیسا ہے اور دونوں بہنوں کی اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بَیِّنُوْا تُوْجَرُوْا۔
الجواب: اگر دوسری کو بلانکاح گھرمیں ڈال لیا تو پہلی سے وطی بدستور جائز ہے اس سے جو اولاد ہوگی اولاد حلال ہے، اور اس دوسری سے صحبت حرام وزنا ہے اس سے جو اولاد ہوگی ولدالزنا ہوگی، اور اگر دوسری سے بھی نکاح کرلیا تو جب تک اسے ہاتھ نہ لگایا پہلی سے وطی حلال ہے۔ لیکن جس وقت اس دوسری کو ہاتھ لگائے گا پہلی سے قربت بھی حرام ہوجائے گی، جب تک اس دوسری کو چھوڑے اورا س کی عدت گزرے اس وقت تک پہلی حرام ہے، اس صورت میں دونوں عورتوں سے اس کے بعد جو اولاد ہوگی اگرچہ اسی کی ٹھہرے گی ولدالزنا نہ ہوگی مگر ولدالحرام ہوگی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۹: ۳ ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ زید کے والد نے زید کی زوجہ سے زنا بالجبر کیا، عورت نے زید سے کہہ دیا، اس پر زید نے اپنی عورت کو طلاق دے دی جس کو عرصہ تین ماہ کا ہوگیا اس کے بعد زید سے عورت نے کہا کہ تم نے مجھ پر تہمت رکھا تھا، اس لیے میں نے یہ غلط بات بیان کی، زید نے عورت کو طلاق دی اب وہ اپنی اس عورت کو نکاح میں رکھ سکتا ہے؟
الجواب: اگر زید نے صرف عورت کے بیان پر اس کو طلاق دے دی تو طلاق ہوگئی مگر ہمیشہ کے لیے اس کا زید پر حرام ہونا ثابت نہ ہوا۔ جب تک زید خود اس کی تصدیق نہ کرے لیکن سائل نے بیان کیا کہ زید نے تین طلاقیں دیں زید گنہ گار ہوا اور عورت سے اب بغیر حلالہ کے نکاح نہیں کرسکتا ، یوں اسے رکھے گا تو حرام ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔