Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
131 - 1581
مسئلہ ۲۶۱: از پیران پٹن معرفت اسٹیشن میانہ محلہ قصاب واڑہ مرسلہ کمال بھائی یارو بھائی ۲۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مثلا بکر کے دو فرزند ہیں، ایک کانام زید ہے اور دوسرے کانام عمرو، زید کا نکاح ہونے سے ایک دختر پیداہوئی جس کانام فاطمہ ہے،اب فاطمہ کی شادی ہونے سے فاطمہ کے ایک دختر پیدا ہوئی جس کانام مریم ہے، اب مریم کا نکاح عمرو کے ساتھ ازروئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ اور اس میں دودھ کا تعلق کس طرف سے اور کسی ذریعہ سے کسی کا بھی نہیں؟ اور یہ جو دونوں فرزند بکر کے ہیں یعنی زید وعمرو ان دونوں کی والدہ الگ الگ ہے، بینوا تو جروا۔
الجواب: زید عمرو کا بھائی ہے۔ فاطمہ عمرو کی بھتیجی ہے، مریم عمرو کی بھتیجی کی بیٹی ہے، جیسے بھتیجی حرام ہے یونہی بھتیجی کی بیٹی حرام ہے، بھتیجی بیٹی ہے اور بھتیجی کی بیٹی نواسی، عمرو مریم کا نانا ہے نانا کے لیے نواسی کیسے حلال ہوسکتی ہے، قال اللہ تعالٰی: وبنت الاخ ۱؎تم پر بھائی کی بیٹیاں حرام ہیں۔ بیٹیوں میں نواسیاں پوتیاں بھی داخل ہیں
 (۱؎ القرآن الکریم         ۴/۲۳)
جیسے فرمایا:
حرمت علیکم امھتکم وبنتکم ۲؎
تم پر حرام ہیں تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں۔
 (۲؎القرآن الکریم          ۴/۲۳)
بیٹیوں میں نواسی پوتی داخل نہ ہوں توآدمی پر خود اس کی پوتی نواسی کہاں سے حرام ہوگی کہ قرآن مجید میں تو بیٹیاں حرام فرمائیں اور یہ محرمات گنا کر فرمایا:
واحل لکم ماوراء ذلکم ۳؎۔
ان کے سوا اور جو رہیں وہ تم پر حلال ہیں۔
 (۳؎ القرآن الکریم        ۴/۲۴)
بالجملہ بھائی کی نواسی حرام ہونے سے انکار قرآن واسلام سے انکار ہے ، 

نقایہ میں ہے:
حرم علی المرء اصلہ وفرعہ وفرعہ اصلہ القریب ۴؎ الخ۔
مردپر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب یعنی ماں باپ کے فروع حرام ہیں۔ الخ (ت)
 (۴؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الھدایہ    کتاب النکاح    نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی    ص۵۲)
جامع الرموز میں ہے:
من الاخوات لاب وام اولاحدھما وبنات الاخوۃ وان بعدت ۵؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
سگی بہنیں یا ماں یاباپ کی طرف سے بہنیں اور بھتیجیاں نیچے تک۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۵؎ جامع الرموز        کتاب النکاح    مکتبۃ الاسلام گنبد قاموس ایران    ۱/۴۴۹)
مسئلہ ۲۶۲: از شہر بریلی سبزی منڈی مسئولہ کبیر احمد میاں ۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی نواسی زوجہ اول سے اور زید کا لڑکا  زوجہ ثانیہ سے جس کو ایک شخص غیر نے پالا ہے، کیا پسر زید زید کی نواسی کی لڑکی سے عقد کرسکتا ہے؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: حرام ہے ، وہ اس کی بھانجی کی بیٹی ہے اس کی نواسی کی جگہ ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: از فتح پور محلہ سید واڑہ مرسلہ نور خاں محرر ، محمد یار خاں وکیل ہائی کورٹ ۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور بکر دونوں کی عورتیں رشتہ میں سگی بہنیں تھیں، زید کی بی بی کے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہوئیں، منجملہ ان کے ایک لڑکا اور ایک لڑکی  مر گئی ،اور ایک لڑکی بیوہ موجود ہے، اور بکر کی بی بی کا ایک لڑکا بن بیاہا موجود ہے، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ جب زید کا پہلا لڑکا پیدا ہواہے تو بکر کے اس لڑکے نے اپنی خالہ یعنی زید کی بی بی کا دودھ پیا تھا، بعدا س کے تین اولاد کے بعد زید کی یہ لڑکی پیدا ہوئی جواس وقت بیوہ موجود ہے، اس سے بکر کے کنوارے لڑکے کا نکاح درست ہے یا ہوسکتا ہے جبکہ بکر کے بیٹے نے زید کی بی بی کادودھ پیا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ زید کی بی بی کا دودھ بکر کے بیٹے نے پیاہے اور زید کی بیٹی یہ اس دودھ شریکی بھائی کی تیسری اولاد کے بعد پیدا ہوئی ہے، بینوا تو جروا۔
الجواب: ان دونوں کا نکاح حرام قطعی ہے، وہ آپس میں سگے بھائی بہن ہیں، تین یا تیس اولاد کے بعد اس لڑکی کا پیدا ہونا زید کی بی بی کو بکر کے بیٹے کے ماں باپ ہونے سے خارج نہ کرے گا۔ نہ ان کی کسی اولاد کو پسر بکرکے بھائی بہن ہونے سے،
قال اللہ تعالٰی: واخواتکم من الرضاعۃ ۱؎
 (اور تمھاری رضاعی بہنیں ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ القرآن الکریم         ۴/۲۳)
مسئلہ ۲۶۴: از نواب گنج بریلی مرسلہ سید نثار حسین صاحب ۱۵ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ

زید کی زوجہ ہندہ کی ہمشیرہ زاہدہ ہے، زاہدہ کے زید سے بلا نکاح لڑکا پیداہوا، ہندہ کے ساتھ زید کا نکاح رہایا نہیں؟اور زاہدہ کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: ہندہ بدستور اس کے نکاح میں ہے، سالی کے ساتھ زنا حرام مگر عورت کو حرام نہیں کرتا ، زاہدہ سے جب تک ہندہ اس کے نکاح میں ہے نکاح نہیں کرسکتا، اگر ہندہ مرجائے توا سی وقت یا یہ اسے طلاق دے دے تو عدت گزرنے پر زاہدہ سے نکاح کرسکے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter