الجواب : صورت مسطورہ اگر واقعی ہے تو اصلاً نہ کسی قضا کی حاجت نہ تفریق کی ضرورت، نہ مسخر درکار نہ قضا علی الغائب، عورت کو اختیار ہے کہ فی الحال جہاں چاہے اپنا نکاح کرسکتی ہے، یہ دو حال سے خالی نہیں۔ یہ حرمت مصاہرت یا تو نکاح دختر سے پہلے ہوئی یا بعد، اگر پہلے ہوئی تونکاح سرے سے فاسد ومردود واقع ہوا، عورت بذات خود اسے فسخ کرسکتی ہے اگر چہ شوہر کی غیبت میں کہ وہ معصیت ہے اور اعدام معصیت سب پر واجب ، کما حققنا ہ فیما علی ردالمحتار علقناہ (جیسا کہ ردالمحتار کے حاشیہ میں ہم نے اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)
درمختار میں ہے:
(و) یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولو بغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولا فی الاصح خروجا من المعصیۃ فلاینافی وجوبہ۱؎۔
اور دونوں مرد اور عورت کے لیے اس نکاح کو ایک دوسرے کی موجودگی کے بغیربھی فسخ کرنا جائزہے دخول کیاہو یا نہ کیا ہو اصح قول میں تاکہ گناہ کو ختم کیا جاسکے، اور یہ بات قاضی پر تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎درمختار باب فی المہر مجتبائی دہلی ۱/۲۰۱)
اور اگر وہ حرمت مصاہرت بعد نکاح واقع ہوئی تو نکاح فاسد ہوگیا مگر بلا متارکہ فسخ نہ ہوگاا ور عورت کو دوسری جگہ نکاح کا اختیار نہ ہوگا اور یہ متارکہ صرف شوہر ہی کرسکتا ہے کما بینا وبہ وفقنا علی ابن عابدین علقنا (جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اور ردالمحتار کے حاشیہ میں ہمیں اس کی توفیق دی گئی۔ ت)
حرمت مصاہرت سے نکاح ختم نہیں ہوتا اس لیے عورت کو دوسرے شخص سے نکاح اس وقت تک جائز نہیں جب تک متارکہ کے بعد عدت نہ گزر جائے، اس دوران خاوند کی اس سے وطی کو زنا کاحکم نہ دیا جائیگا۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
اسی میں ہے:
مبدؤھا (ای العدۃ) فی النکاح الفاسد بعد التفریق من القاضی بینھما اوالمتارکۃای اظہار العزم من الزوج علی ترک وطئھا لامجرد العزم لومدخولہ ۱؎۔
عدت کی ابتداء متارکہ یا قاضی کی تفریق کے بعد ہوگی، متارکہ سے مراد خاوند کا مدخولہ بیوی سے علیحدگی کا اعلان ہے صرف وطی کے ترک کا عزم کافی نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎درمختار باب فی العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۵۸)
یہاں تک کہ زید نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اب یہ میری عورت غیر مدخولہ میرے اوپر حرام ہے جس کواس کا دل چاہے دے دے بالاتفاق متارکہ ہوگیا اور نکاح فسخ ہوگیا قضاء قاضی کی کچھ حاجت نہیں۔ نہ غیر مدخولہ کو عدت کی حاجت، اس وقت جس سے چاہے نکاح کرلے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸: از قصبہ ایرانواں محلہ سادات ضلع فتحپور مرسلہ محمد رفیع صاحب ۲۸ صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی فقیرے نے مسماۃ ببیا کا (جبکہ ا س کی گود میں مسماۃ حفیظن اس کی لڑکی دودھ پیتی تھی) اندر ایام رضاعت کے دودھ پیا ، اسی مسماۃ ببیا کے دوسری لڑکی مسماۃ فہیمن پیدا ہوئی، اب فقیرے مذکور کا نکاح مسماۃ فہیمن کے ساتھ کیا گیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یا ناجائز؟ اگر ناجائز ہے تو مسماۃ فہیمن کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟ اور فہیمن کو فقیرے سے طلاق حاصل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب:ببیا کی اگلی پچھلی سب لڑکیاں فقیرے کی حقیقی بہنیں ہیں اور ان میں کسی سے اس کا نکاح نہیں ہوسکتا حرام محض ہے، اس پرفرض ہے فہیمن کو فوراًچھوڑ دے اور وہ نہ چھوڑدے تو فہیمن پر فرض ہے کہ فوراً اس فاسد نکاح کو فسخ کردے اور عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے،
درمختار میں ہے:
یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مرد وعورت ہر ایک کوفسخ کا حق حاصل ہے خواہ دوسرے کی موجودگی ہو یا نہ ہو، دخول کیا ہو یا نہ، اصح قول میں، تاکہ گناہ کو ختم کیا جاسکے ، اور یہ بات قاضی پر وجوب تفریق کے منافی نہیں ہے (ت) واللہ تعالٰی اعلم
(۲؎ درمختار باب فی المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۰۱)
مسئلہ ۲۵۹: از موضع خورد مؤ ڈاک خانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب ۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد فوت ہونے بیوی کے ،بیوی کی خالہ وعمہ سے نکاح جائز ہے یاناجائز؟ اور لڑکے کے طلاق دینے پر لڑکے کے مرجانے پر بہو کے ساتھ نکاح درست ہے یا نہیں؟
الجواب: زوجہ کے مرنے پر اس کی خالہ وعمہ سے نکاح جائز ہے، قال اللہ تعالٰی:
واحل لکم ماوراء ذلکم ۱؎
(اور محرمات کے سوا عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/۲۴)
اور بیٹا مرجائے خواہ طلاق دے دے اس کی زوجہ سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہے، قال تعالٰی:
وحلائل ابنائکم ۲؎
(اور تمھارے بیٹوں کی بیویاں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
مسئلہ ۲۶۰: از پرسونہ پرگنہ بریلی مرسلہ شیخ کریم اللہ ومنشی الہ دین ومعین الدین وسعدی وشیخ مسیت زمیندار وبندو خاں وواحد مکھیا وغلامی ۲۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
جناب عالی! گزار ش ہے کہ مسمی میڈو نور باف نے نکاح کیاتھا، اس کی بی بی کے ساتھ ایک لڑکی آئی تھی اس کے ساتھ مسمی میڈو مذکور نے حرکت ناشائستہ کی اور ایک لڑکا بھی پیدا ہوا ہے اب اس کو علیحدہ کردیا ہے وہ اپنی خطا معاف کرانا چاہتاہے، حضور پرنور اس امر میں کیا فتوی فرماتے ہیں؟ فقط
الجواب: اس کی عورت اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی، اس پر فرض ہے کہ فورا اسے چھوڑ دے اور اب کبھی اس سے کسی طرح نکاح نہیں کرسکتا، نہ کبھی کسی طرح اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے، یہ اس کی بیٹی کی جگہ ہے اور بی بی ماں کی جگہ ہوگئی، دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئیں، دونوں کو فوراً جدا کردے اور سچے دل سے تائب ہو اور نماز کی پوری پابندی کرے تو اسے ملالیں ورنہ ہمیشہ برادری سے خارج رکھیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔