Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
129 - 1581
 مسئلہ ۲۵۴: از مقام ٹانڈہ چھنگا ڈاک خانہ درؤ تحصیل کچھار مرسلہ عبداللہ صاحب منیب بنجارہ ۱۰ ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ مریم وسکینہ ہمشیر حقیقی ہیں لیکن باپ دونوں کے جدا ہیں ایک خیاط دوسرا نداف۔ اب مریم کی ایک دختر ہے جس کانام فاطمہ ہے اور فاطمہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوگیا ہے، اب زید اپنی زوجہ کی حقیقی خالہ کو نکاح میں لاکر دونوں سے ہمبستر ہورہا ہے اس صورت میں اللہ ورسول کا کیا حکم ہے عزوجل وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیا دونوں نکاح جائز ہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: حرام حرام حرام قطعی حرام، اس پر فرض ہے کہ اپنی زوجہ کی خالہ کو چھوڑ دے اور جب تک ا س کی عدت گزرے زوجہ کوہاتھ لگانا بھی اس پر حرام ہے جب اس کی خالہ عدت سے نکل جائے اس وقت اسے اپنی زوجہ کے پاس جانا حلال ہوگا وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵: از سلطان پور ملک اودھ مرسلہ عبدالخالق صاحب عرائض نویس کچہری دیوانی ۱۸ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی تین شادیا ں ہوئیں، زوجہ اول سے ایک لڑکی پید ا ہوئی اور اس کی شادی زید کے حقیقی بھتیجے کے ساتھ ہوئی اور اس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جو زید کی حقیقی نواسی ہوئی، اور زید کی تیسری شادی جوہوئی اس سے تین لڑکے ہیں اب زید اس ا پنے لڑکے یعنی نرینہ کی شادی اپنے حقیقی بھتیجے کی لڑکی کے ساتھ کرنا چاہتا ہے پس ایسی حالت میں جائز ہے یا نا جائز؟ بینوا تو جروا
الجواب: حرام حرام حرام، وہ صرف اس کے بھائی کی پوتی نہیں جو اس کے بیٹے کو حلال ہوخود اس کی نواسی بھی ہے تو اس کے بیٹے کی بھانجی ہے اگرچہ بیٹا اور زوجہ سے ہے اور وہ بیٹی اور سے تھی بہرحال بھانجی ہے اور بھانجی حرام، قال اللہ تعالٰی: وبنت الاخت  (اور تمھاری بھانجیاں حرام ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶: از شہر آگرہ کلو گلی نائی منڈی مرسلہ رحیم بخش صاحب مالک کارخانہ رحیم شو فیکٹری ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید جو پابند مذہب اہل سنت وجماعت تھا اس نے اپنا عقد نکاح مسماۃ ہندہ کے ساتھ کیا جو مذہب اہل شیعہ رکھتی تھی ، زید نے اپنے بیٹے عمرو کانکاح جو بطن ہندہ سے پیدا ہوا تھا بحالت نابالغی بکر کی لڑکی حلیمہ نابالغہ کے ساتھ کردیا اور بوجہ نابالغی منکوحہ حلیمہ کی وداع نہیں ہوئی، حلیمہ نجیب الطرفین اہلسنت والجماعت ہے، زید بقضائے الہٰی فوت ہوگیا،زید کی بیوہ ہندہ نیز اس کی تمام اولاد ہر طریقہ سے پابند اہل تشیع ہے، عمرو اب بالغ ہوکر چاہتا ہے کہ اپنی زوجہ کو رخصت کراکے لے جائے، حلیمہ بھی اب چونکہ بالغہ ہے وہ اپنے عقدمیں غیر مذہب کے آدمی شیعہ کو منظور نہیں  کرتی اور اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی نیز والدین حلیمہ بھی اب وداع سے انکاری ہیں، اندریں صورت یہ نکاح حلیمہ کا جو بحالت نابالغی ایک شیعہ کے ساتھ ہوا تھا ازروئے شرع شریف جائز رہا یا باطل؟ اور حلیمہ اپنا عقد کسی دوسری جگہ کرسکتی ہے یا نہیں؟ بینواتو جروا
الجواب : آج کل جو لوگ شیعہ کہلاتے ہیں یعنی تبرائی رافضی، ان کے ساتھ نکاح باطل محض ہے، اگر حلیمہ اور اس کے اولیا سب راضی ہیں تو اللہ ورسول راضی نہیں، حلیمہ کو حرام ہے کہ اپنے آپ کو اس کی زوجیت میں سمجھے، فتاوٰی ظہیریہ و حدیقہ ندیہ و عالمگیریہ میں مثال روافض کے لیے ہے احکامھم احکام المرتدین ۱؎ (ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت)
 (۱؎الحدیقہ الندیہ    والاستخفاف بالشریعۃ کفرای ردہ    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۱/۳۰۵)
نیز عالمگیری میں ہے:
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مرتد کا مرتدہ ، مسلمہ اور اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں، اور یوں ہی مرتدہ کو بھی کسی سے نکاح جائز نہیں۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ    فصل فی المحرمات بالشرک        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۸۲)
مسئلہ ۲۵۷: ازشمس آباد ضلع کیمل پور مرسلہ مولانا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید خود عرصہ تیرہ برس سے ملک افریقہ میں  رہتاہے اس کی خوشدامن کہتی ہے کہ اس نے میرے ساتھ فعل بد کیا ہے اس پر دو گواہ اس امر کے معائنہ کے ہیں کہ ایک کہتا ہے کہ میں نے بوقت دوپہر کے فلاں مقام میں دونوں کو عین مشغولی میں دیکھا، دوسرا کہتا ہے کہ دونوں کو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے، اس موضع کے کل لوگ ہر ایک مکان کے ایک دو آدمی جن کا مجموعہ ۵۰ نفر ہوتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ قرائن قاطعہ سے ہم لوگ جانتے ہیں کہ زید اور اس کی خوشدامن باہم بد معاش تھے اور ان کے ناجائز تعلق میں کوئی شک نہ تھا، برابر دو برس تک دونوں کا باہم اختلاط اور انبساط رہا، جب ان دو گواہوں نے ان کو ایسی کریہہ صورت میں دیکھا تب سے زید فرار کرگیا اور ایک دوسرے سے کہہ گیا کہ اب یہ میری  عورت غیر مدخولہ جو کہ اس خوشدامن کی دختر ہے میرے اوپر حرام ہے جس کوا س کا دل چاہے دے دے، اس کی عورت اب عرصہ آٹھ دس برس سے جوان ہے اور خوردونوش وسکونت کی اس کو بہت تکلیف ہے اور غالب گمان ہے کہ کہیں حرامکاری میں مبتلا ہوجائے، پس اگر کوئی عالم افقہ واورع ا س علاقہ کا بموجب عبارت حدیقہ ندیہ:
واذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور کلھا مفوضۃ الی العلماء یصیرون ولاۃ ۱؎۔
جب زمانہ موثر حکمران سے خالی ہوتو تمام فیصلہ طلب امور علماء کے سپرد ہوں گے اور وہ والی قرار پائیں گے۔ (ت) کے اس غائب کے باپ کے روبرو یااس کی طرف سے کسی کو وکیل کرکے اس پر سمع دعوٰی وشہادت کرکے تفریق کا حکم دے دے تو درست ہوگا یا نہیں، اور اگر درست ہے تو چونکہ غائب ولایت قاضی میں نہیں لہذا اس کی طرف سے مسخر پکڑنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
 (۱؎ الحدیقہ الندیہ    النوع الثالث من انواع العلوم الثلاثۃ الخ        نوریہ رضویہ فیصل آباد  ۱/۳۵۱)
شامی جلد ۴ ص ۳۵۳ میں باب القضاء میں وفی البحر والمعتمدان القضاء علی المسخر الخ (بحر میں ہے مسخر کے خلاف فیصلہ صادر کرنے سے متعلق قول الخ۔ ت) کے متعلق ہے:
وتفسیر المسخران ینصب القاضی وکیلا عن الغائب یسمع الخصومۃ علیہ وشرطہ عندالقائل بہ ان یکون الغائب فی ولایۃالقاضی ۲؎۔
اور مسخر کی تفسیر یہ ہے کہ قاضی کسی غائب شخص کی طرف سے کسی کو وکیل بنائے تاکہ وہ غائب کے خلاف الزامات کو سن سکے، لیکن اس کے جواز کے قائل کے ہاں یہ شرط ہے کہ وہ غائب شخص اس قاضی کے علاقہ میں ہو۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار        فصل فی الحبس مطلب فی القضاء علی المسخر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/۳۳۹)
Flag Counter