Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
128 - 1581
مسئلہ ۲۴۹: از ٹانڈہ چھنگا ڈاک خانہ درؤ ضلع بریلی مرسلہ ہدایت اللہ صاحب پارچہ فروش ۸ شوال ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ مریم ومسماۃ سکینہ کی والدہ ایک ہے لیکن باپ دونوں کے علیحدہ علیحدہ ہیں، اب مسماۃ مریم کی ایک دختر ہے جس کا نکاح مسماۃ مریم نے بکر کے ساتھ کردیا ہے اب بکر اپنی زوجہ کی خالہ  کوجس کانام سکینہ ہے نکاح میں لانا چاہتا ہے، نزدیک اللہ ورسول کے یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب :سکینہ سے اس کا نکاح حرام ہے، ہاں جب اس کی یہ عورت مرجائے یا یہ اس کو طلاق دے دے اور عدت گزرجائے اس وقت سکینہ سے نکاح کرسکے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰: از موضع لال پور ڈاک خانہ موہن پور ملک بنگال مرسلہ منیر الدین احمد کرلوی لال پوری ۸ شوال ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اخت علاتی کی لڑکی کی لڑکی کے ساتھ نکاح حلال ہے یا حرام؟ بینوا تو جروا
الجواب: اپنی علاتی بہن کی پوتی سے نکاح حرام قطعی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۱: از موضع میونڈی ڈاک خانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب ۱۶ شوال ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا نکاح کسی عورت سے کیا اور اس عورت کی ایک دختر بھی پہلے شوہر کی اس کے ساتھ تھی، بعد چند مدت کے اس عورت کا انتقال ہوگیا، اب زید یہ چاہتا ہے کہ میں اس لڑکی کے ساتھ اپنا نکاح کرلوں تو یہ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟ اگرچہ بی بی گھر میں ہو یا نہ ہو اور اگر ایسا کرلیا ہو تو کیا حکم شریعت ہے ایسے لوگوں کے لیے؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: اگر اس عورت سے خلوت نہ ہوئی تھی تو اس کے بعد ا س کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے ورنہ حرام، اور اگر کرلیا تو جدا کردینا اور جداہونا فرض قطعی، 

قال اللہ تعالٰی:
وربائبکم الٰتی فی حجورکم من نسائکم التی دخلتم بھن فان لم تکونو ادخلتم بھن فلا جناح علیکم۔ ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم
تمھاری مدخولہ بیویوں کی وہ بیٹیاں جوتمھارے پاس زیرپرورش ہیں اور اگر بیویوں سے دخول نہ کیا ہو تو تمھیں ممانعت نہیں۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم        ۴/۲۳)
مسئلہ ۲۵۲: از موضع بھونی ڈاک خانہ امریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد نور صاحب ۲۷ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی عبدالرزاق نے ایک مسماۃ محمودہ عرف نورجہان کے ساتھ نکاح کیااور اس کے بعد اسکی بہن جو ایک ماں سے پیداہوئی ہیں مگر باپ دونوں کا دو ہیں ا س کانام مسماۃ نجبن ہے نکاح کرلیا، عرصہ تقریباً چھ ماہ سے زائد ہوگیا، مسلمانوں نے یہاں کے اس کو بہت برا سمجھا اور اس سے کہا کہ ایک عورت کو دونوں میں سے طلاق دے دو، مگر نہیں سمجھا، اس پر مسلمانوں نے اپنار سم ترک کردیا تو وہ مجبور ہوگیا، مسماۃ نورجہاں زوجہ اول سخت بیمار ہوگئی کہ اس کے پاس لوگوں کا بیٹھنا دشوارہوگیا، اس نے خواہش کی میری طلاق ہوجائے تو افضل ہے اور مسماۃ نورجہاں اب عرصہ ایک ہفتہ سے کسی جگہ بلااجازت شوہر گھر سے چلی گئی ہے اور ہنوز مفقود الخبر ہے، اب عبدالرزاق ونورجہاں مفقود الخبر کی خواہش یہ تھی کہ ہم  میں باہمی طلاق ہوجائے اور مسماۃ نجبن سے نکاح ہوجاوے تو مناسب ہو، ایسی صورت میں مسماۃ نورجہاں کو طلاق دے سکتا ہے یا نہیں اور نجبن سے دوبارہ نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: نورجہاں کو طلاق دینے کے بعد اس کی عدت گزر جائے یعنی اسے تین حیض آکر ختم ہوجائیں اس کے بعد نجبن سے نکاح کرسکتا ہے ورنہ حرام حرام حرام، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۳: از ہوڑہ محلہ بینا پاڑہ مدرسہ دارالعلوم مرسلہ میراحسان علی صاحب مدرس ۵ذی قعدہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص جس نے اپنی عورت کو طلاق دے دیا ایک ہفتہ ہوا طلاق دے کر، اور جس شخص سے اب نکاح ہوگا وہ عورت اسی شخص کے گھرہے مگر وہ شخص باہر رہتا ہے اندر مکان کے نہیں جاتا۔ کہتا ہے کہ جب تک نکاح نہ ہوگا اندر نہ جاؤں گا او رعورت کی دایہ وغیرہ سے جانچ کرایا گیا کہ حمل تو نہیں ہے، معلوم ہو اکہ حمل نہیں ہے، اس صورت میں اگر نکاح کردیا جائے تو گناہ تو نہیں ہوسکتا؟ جلدی اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ شیطان ہر وقت بہکاتا ہے، اگر اس صورت میں جلد نکاح کردیا جائے اس پر کیا حکم ہے؟ صرف گناہ کا خیال کرکے ایسا ہو کہ عدت کے اندر نکاح کردیا جاوے حمل نہیں ہے۔ بینوا تو جروا۔
الجواب: عدت کے نکاح حرام حرام حرام، نکاح تو نکاح ،نکاح  کا پیام دینا حرام، اگر نکاح ہو اور قربت ہو نرازنا ہوگا۔ اس سے زیادہ یہاں شیطان کا بہکانا اور کیا ہے جسے خود چاہ رہے ہو، عورت کو ایام عدت شوہر ہی کے مکان پر پورے کرنے فرض ہیں وہاں سے نکلنا حرام ہے، اب کہ نکل آئی ہے فرض ہے کہ فوراً شوہر کے یہاں چلی جائے اور وہیں عدت کے دن پورے کرے، اگر یہاں سے وہاں تک تین دن کی راہ نہ ہو، ورنہ اطمینان کی جگہ رہے، اس شخص کے یہاں جب تک ہر گز نہ رہے جس سے اندیشہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter