Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
127 - 1581
مسئلہ ۲۴۴: از شہر بریلی مسئولہ عبدالجلیل صاحب طالب علم ۲۹ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ا ور بکر آپس میں حقیقی برادر ہیں، زید عمر میں بکر سے بڑاہے اور بکر عمر میں چھوٹا ہے زید سے، زید کے پاس ایک لڑکی ہے اورا س سے زید کو ایک نواسی بھی ہے، بکر کے پاس ایک لڑکا ہے، اس صورت میں زید اگر اپنی نواسی سے اپنے برادر حقیقی کے لڑکے کے ساتھ نکاح کردے تو نکاح جائزہوگا یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب

چچا کی نواسی سے نکاح جائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵: از رنگون مرسلہ جناب سیٹھ عبدالستار ابن اسمعیل صاحب قادری برکاتی رضوی ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی سوتیلی والدہ کی سگی ہمشیرہ سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:سوتیلی ماں ماں نہیں، قال اللہ تعالٰی:
ان امھتھم الاالٰئی ولدنھم ۱؎
 (تمھاری مائیں وہی ہیں جنھوں نے تمھیں جنم دیاہے۔ ت) اس کی سگی بہن سے نکاح جائز ہے، قال تعالٰی:
واحل لکم ماوراء ذلکم ۲؎
(محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ القرآن الکریم        ۵۱/۲)(۲؎ القرآن الکریم       ۴/۲۴)
مسئلہ ۲۴۶: از رامپور مرسلہ فاروق حسن صاحب ایڈیٹر اخبار دبدبہ سکندری ۱۶ جمادی الآخرہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ نادرۃالوقوع  میں کہ زید اپنے بیٹے عمرو کی زوجہ ہندہ  سے فعل حرام کا مرتکب ہوا، اب مابین عمرو وہندہ کے نکاح باقی ہے یا نہیں؟ اوراگر عورت خود اقرار کرے کہ زید جو میرے شوہر کا باپ ہے وہ مجھ سے بالجبر وطی کیاہے اور زید منکر ہے تو کیا حکم؟ اور اگرزید وہندہ دونوں اقرار کریں وقوع وطی کا جب کیا حکم؟ پھر اگر وقوع وطی کو شہادت سے ثابت کیا جاوے تو شاہدوں کی شہادت کی صورت کیسی ہونی چاہئے؟ بینو ا توجروا
الجواب: س فعل سے عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے مگر نکاح زائل نہیں ہوتا۔ نہ عورت دوسری  جگہ نکاح کرسکتی ہے جب تک شوہرمتارکہ نہ کرے، ،مثلاً کہے میں نے تجھے چھوڑا، اور عدت گزرے اس کے بعد نکاح دوسرے سے کرسکے گی،
درمختار میں ہے:
بحرمہ المصاہرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لہا التزوج باخرالابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ ۳؎۔
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا اسی لیے دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح اس وقت تک جائز نہیں جب تک متارکہ اور اس کی عدت پوری نہ ہوجائے۔ (ت)
 ( ۳؎ درمختار        باب فی المحرمات    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
عورت کا بیان کوئی چیز نہیں جب تک شوہر اس کی تصدیق نہ کرے۔
درمختار میں ہے:
لان الحرمۃ لیست الیھا قالو اوبہ یفتی فی جمیع الوجوہ بزازیہ ۴؎۔
کیونکہ حرمت کا فیصلہ عورت کے ہاتھ نہیں ہے اور فقہاء کرام نے فرمایا تمام صورتوں میں اسی پر فتوٰی ہے۔ بزازیہ (ت)
 (۴؎درمختار   با ب الرضاع      مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۱۴)
اور اگر پدر شوہر بھی اقرار کرے جب بھی شوہر پر حجت نہیں۔
لانہ یرید ازالۃ ملک ثابت بشھادۃ واحد لاسیما وھی علی نفسہ وشہادۃ المرء علٰی فعل نفسہ لاتقبل کما نصوا علیہ قاطبۃ۔
کیونکہ ثابت شدہ ملکیت کو وہ ایک گواہی سے ختم کرنا چاہتا ہے خصوصا جبکہ اس ایک گواہ کی شہادت اپنے فعل پر ہو جبکہ اپنے فعل پر کسی شخص کی شہادت مقبول نہیں، جیساکہ اس پر تمام فقہاء کرام نے تصریح کی ہے۔ (ت)

ہاں اگرشوہر کے قلب میں اس کا صدق واقع ہو تواس پر واجب ہے کہ عورت کو اپنے اوپر حرام جانے اور متارکہ کردے،
بزازیہ پھر ہندیہ میں ہے:
فان وقع عندہ صدقہ وجب قبولہ ۱؎۔
تو اگرا س کے دل میں اس کا صدق واقع ہو تو اسے قبول کرنااس پر واجب ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراہیۃ الفصل الثانی فی العمل بخبر الواحد فی المعاملات    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/۳۱۲)
یا دو شاہدعادل کی گواہی سے یہ امر ثابت ہو اگرچہ اسی قدرکہ اس کے باپ نے اسے بشہوت مس کیا یا بشہوت بوسہ لیا کہ حرمت کواسی قدر بس ہے، 

تنویر الابصار میں ہے:
تقبل الشہادۃ علی اللمس والتقبیل عن شہوۃ فی المختار ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
شہوت کے ساتھ چھونے اور بوسہ لینے پر شہادت قبول کی جائے گی مختار قول میں۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ درمختار    باب المحرمات                مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
مسئلہ ۲۴۷: از بنڈیل اسٹیشن وڈاک خانہ ہوگلی مرسلہ حقاخاں صاحب ۶ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اپنے خاص دادا کی پر نتنی اور جو کہ اپنے خاص دادا کی بھانجی کی لڑکی ہوتی ہے اور ایک رشتہ سے اپنی چچیری چچی ہوتی ہے ان سے عقد کرنا جائزہے یا نہیں؟
الجواب: پرداد کی پرنواسی، دادا کی بھانجی کی بیٹی، چچیری خواہ حقیقی چچی، اس میں کوئی رشتہ ممانعت نکاح کا نہیں۔ اس سے نکاح جائز ہے جبکہ رضاعت وغیرہ کا کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۸: از ضلع پورینہ ڈاکخانہ فارس گنج از دکان بخشی شاہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی خوش دامن سے قصداً وطی کی اب اس کی بی بی کا نکاح اس کے ساتھ قائم رہا یا نہیں یا پھر ا س کے ساتھ دوبارہ نکاح کرےیانہیں؟ بینوا تو جروا
 الجواب: جس نے اپنی منکوحہ کی حقیقی ماں سے وطی کی یااسے قصدا خواہ کسی طرح بشہوت ہاتھ لگایا اس کی عورت اس پرہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی کبھی نہ اسے رکھ سکتاہے نہ کسی حال میں اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے اس پر فرض ہے کہ عورت کو فوراً چھوڑ دے تاکہ وہ اس کے نکاح سے باہر ہوجائے۔ واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter